imran_khan

نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم میں بہت رکاوٹیں آئیں:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کی ہائوسنگ سیکٹرمیں دلچسپی کی ایک بڑی وجہ ان کا عوام سے کیا گیا وہ وعدہ ہے جو انہوں نے الیکشن میں کیا تھا۔ کہ عوام کو سستے اور معیاری گھر مہیا کیے جائیں گے۔ اسی سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تعمیراتی انڈسٹری سے متعلق ہونے والی چاروں صوبوں کی میٹنگ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان میں کہا کہ کرونا وائرس کے باعث دنیا کو معاشی بحران کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ممالک مختلف حکمت عملی اپنا رہے ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا کہ شعبہ تعمیرات کے ذریعے اپنی معاشی سرگرمیوں کو فعال کریں گے۔ ‘معیشت کا مسئلہ صرف پاکستان کو نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور شعبہ تعمیرات کے فعال ہونے سے لوگوں کو روز گار ملے گا تو غربت سے نکلنے میں مدد بھی ملے گی۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قومی رابطہ کمیٹی کی نگرانی میں خود کروں گا اور ہر ہفتے اس کا اجلاس ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ ‘مذکورہ کمیٹی نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے ساتھ مجموعی طور پر شعبہ تعمیرات کو درپیش مسائل کا جائزہ لے کر انہیں دور کرے گی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا ‘اس سے قبل پاکستان میں ایسا کوئی کام نہیں ہوا اس لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے آغاز میں غیرمعمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ میں حکومت نے کیس جیت لیا ہے جس کے تحت حکومت ایک قانون پاس کرے گی جو اس بات کو انشور کرے گا کہ قرض دینے والوں کے پیسے محفوظ رہیں ۔
ان کا مزید کہنا تھا ‘ہمیں کرونا وائرس کی وجہ سے 31 دسمبر تک بین الاقوامی دباؤ سے مہلت ملی ہے، اس لیے شعبہ تعمیرات سے منسلک صنعتیں سمجھ لیں کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مراعات سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ اہم وقت ہے کیونکہ اس کے بعد یہ موقع نہیں رہے گا، کئی مراعات ہم نہیں دے سکیں گے۔ حکومت نے نیا ہاؤسنگ سکیم کے لیے 30 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، یعنی ہاؤسنگ سکیم کے تحت پہلے ایک لاکھ مکانات کو فی کس 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔جو لوگ 5 مرلے کے گھر کی تعمیرات کے لیے بینک سے قرضہ لیں گے، انہیں 5 فیصد جبکہ 10 مرلے کے گھر کے لیے قرضہ لینے والوں کو 7 فیصد سود دینا پڑے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ ‘اسٹیٹ بینک نے تمام نجی بینکوں سے بات کی ہے کہ وہ شعبہ تعمیرات کو سہارا دینے کے لیے مجموعی پورٹ فولیو کا صرف 5 فیصد تعمیراتی صنعت کے لیے مختص کریں۔ ‘اس اعتبار سے یہ 330 ارب روپے تعمیراتی صنعت کے لیے رکھا جائے گا۔ جبکہ تعمیراتی انڈسٹری سے منسلک لوگوں کو این او سیز کے لیے متعدد مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، اب بہت کم این او سیز لینی پڑیں گی ، ‘ون ونڈو آپریشن شروع کردیا ہے۔ ‘تعمیراتی صنعت سے وابستہ افراد کے لیے ویب سائٹ متعارف کرائی ہے جہاں انہیں گھر بیٹھے تمام سہولیات دستیاب ہوں گی۔
وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا پاکستان میں بینک صرف 0.2 فیصد قرضے دیتے ہیں۔جبکہ ملائیشیا میں لوگ30فیصد اور یورپ میں 80-90فیصد بینک لون سے گھر بناتے ہیں۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم میں بہت رکاوٹیں آئیں۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کا مقصد ہے کہ غریب طبقہ گھر بنا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس سندھ میں کچھ حد تک کنٹرول میں ہے:وزیر اعلیٰ سندھ

اپنا تبصرہ بھیجیں