lahore_3

قبیلے ذاتیں اور نامور خاندان

EjazNews

قبیلوں اور ذاتوں کی مقامی تقسیم سے متعلق اعداد وشمار
نامورقبیلوں اہم مالکان اراضی اور اثر و رسوخ رکھنے والے قبیلوں کا تذکرہ 1881ء کی مردم شماری رپورٹ میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔
ذاتوں کے بارے میں تحصیل واراعداد وشمار مرتب نہیں کیے گئے بلکہ صرف ضلع کی سطح پران کے کوائف جمع کیے گئے ہیں۔ یہاں ہم صرف ان قبیلوں کا ذکر کریں گے جواراضی کے مالک ہیں۔
سندھو پورے ضلع لاہور میں مشرق سے مغرب تک پھیلے ہوئے ہیں جبکہ سدھو صرف ضلع کے انتہائی جنوبی علاقے میں آباد ہیں۔ آرائیں دونوں دریاؤں کے کناروں پر آباد ہیں البته شرقپور کے گردونواح میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ڈوگرستلج کے زیریں علاقے تک محدود ہیں۔ بھلااور سندھو قبیلےلاہوراورقصور کے درمیان جبکہ کھرل اور ورک راوی پار کے بالائی علاقوں میں آباد ہیں۔
لاہور میں آباد قبائل:
ضلع لاہور میں رہائش پذیرقبیلوں کی درج ذیل تفصیل ڈاکٹر تھارنٹن کی گائیڈ بک سے لی گئی ہے:
ان قبیلوں کو خانہ بدوش زراعت پیشہ محنت کش اور تاجر طبقے میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ خانہ بدوش قبائل میں گوجراورآہیرقابل ذکر ہیں۔ یہ دونوں نچلی ذات کے ہندو قبیلے ہیں جن کا پیشہ گلہ بانی ہے۔ یہ قبیلے رسہ گیری میں بھی بدنام ہیں۔ بارہا جنگل کے دیہات میں کھرل (ہندو) کاٹھیا (غالباً قدیم کھٹوئی کے نمائندے) اور بلوچی آباد ہیں۔
زراعت پیشہ قبیلوں میں آرائیں (مسلمان) سب سے نمایاں ہیں جو سندھ اور راجستھان سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے ہیں۔ بھٹی (قدیم راجپوت قبیلہ ) کسی زمانے میں بہت طاقتور تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس قبیلے نے امیر تیمور کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا۔ جٹ (ہندو یا سکھ ) بھی خاصی تعداد میں آباد ہیں۔ آخر الذکر قبیلہ جسمانی اعتبار سے تنومند اور عسکری خصوصیات کا حامل ہے۔ قبیلہ صرف پنجاب میں دریائے جہلم کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں آباد ہے بلکہ راجپوتانے اور مغربی ہندوستان میں بھی ان کی بڑی تعدادرہائش پذیر ہے۔ شدید
نسلی تفاخر رکھنے والے جٹ نہ صرف اچھے کاشتکار بلکہ عدم سپاہی بھی ہیں۔ سکھ افواج میں انہیں بلند مقام حاصل رہا ہے اور اب وہ انگریز فوج میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کئی ذیلی شاخوں یا گوتوں میں تقسیم ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ راجپوت ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ کئی لوگ غزنی اوردریائے سندھ میں شمال مغربی پہاڑی علاقوں کو اپنا اصل وطن قرار دیتے ہیں ۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب میں ہمارے دور سے پانچ سوسال پہلے کے حکمران کانتھ قبیلوں کی نسل ہیں اور ان کا نام قدیم جت کی مسخ شدہ صورت ہے۔ اس اعتبار سے یہ خالص ہندو نہیں ہے۔ سکھ اوراسلام مذہب کوجلد قبول کرنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ گھوڑوں ہتھیاروں اور شراب سے ان کی والہانہ دلچسپی اور بیویوں کے معاملے میں لاپروائی سے بھی ان کے سکائتھ نسل ہونے کے دعوے کوتقویت ملتی ہے۔ محنت کشوں کا نچلا طبقہ جس میں کمہار، کہار بڑھی اور لوہار شامل ہیں زیادہ تر ہندو ہیں تاہم ان میں سے بیشتر لوگ، جو کچھ ہیں، گورو گوبند سنگھ کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ ان کے برعکس ریشم کا کپڑا اور شالیں بنانے والے مسلمان ہیں۔ خاکروب جو سب سے نچلا طبقہ ہیں، نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہندو یہ مقامی قبیلہ نہیں۔ یہ لوگ سنتھالوں سے بہت مشابہ ہیں اوران کی سیاہ رنگت گالوں کی ابھری ہوئی ہڈیاں اور چپٹی ناک سنتھالوں سے گہری مماثلت کرتی ہے۔
تاجروں میں کھتری سب سے نمایاں ہیں۔ دکانداراورساہوکار سب اسی طبقے کے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ ان کا تعلق ہندوؤں کی جنگی کھشتری نسل سے ہے جو اب معدوم ہوگئی ہے۔ اب انہوں نے تلوار کو چھوڑ کرقلم کو ہاتھ میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ابتدائی خصائص سے محروم ہو گئے ہیں۔ رینل کے مطابق پرانے زمانے میں یہ لوگ کھشتری کہلاتے تھے۔ غالباً یہ لوگ کتھئی ہیں جو کاٹھیا سے ملتا جلتا نام ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کھتری اصل میں چتر ہیں جن کا تذکرہ پرانوں میں آیا ہے اور جوسرسوتی کے قرب و جوار میں آباد ہیں۔
بنیے نچلی ذات کے ہیں جیسے کھتریوں کے مقابلے میں تاجر۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اروڑے ویاس ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور چھوٹے تاجر ہیں۔ بھابڑے راجپوتانے سے نقل مکانی کرنے والے جین ہیں۔ کلال شراب تیار اور فروخت کرتے ہیں ۔ لبانے غلے کا کاروبار جبکہ کمبوہ حلوائیوں کا کام کرتے ہیں۔ اگر تمام ذاتوں، قبلیوں اور ان کی ذیلی شاخوں کی تفصیلات بیان کی جائیں تو فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔ ہر قبیلہ اور خاندان کسی خاص پیشے یا کاروبار سے وابستہ ہے اور ان کی عبادات اور مذہبی رسوم بھی جدا جدا ہیں۔ کوئی شیو کی پوجا کرتا ہے اور کوئی وشنو کی ۔ ان کے میلے اور تہوار بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ کاروباری معاملات کو خفیہ رکھنے کے لیے تاجر خاندانوں نے مخصوص طرزتحریراختیار کررکھی ہے جس کا ان کے سوا کسی اور کومعلوم نہیں ہوتا۔ یہ انفرادی حیثیت سے نہیں، برادری کے طور پر کام کرتے ہیں۔ تمام معاملات ایک یا ایک سے زیادہ سربراہوں کی منظوری سے طے پائے جاتے ہیں ۔ ان حالات میں انفرادی مسابقت تقریباً ناپید ہے۔
جٹ اور راجپوت قبائل:
1881ء کی مردم شماری کے مطابق اہم جٹ اورر اجپوت قبیلے کے اعداد و شمار در ج ذیل ہیں:

یہ بھی پڑھیں:  جنگ پلاسی کی اہمیت

 

جٹ:
زراعت پیشہ ذاتوں میں جٹوں کی اکثریت ہے جو عام طور پر ہندو اور سکھ ہیں البتہ ان میں سے بعض مسلمان بھی ہیں۔ ان کا مورث اعلی مشترک ہے۔ مسلمان ہونے والے جٹوں نے مختلف مسلمان حکمرانوں کے دور میں اسلام قبول کیا۔ جٹوں کی بہت سی گوتیں ہیں ۔ ماجھے یا باری دوآب کے علاقے ان کے قبضے میں ہیں ۔ اگرچہ ضلع لاہور میں ان کی واضح اکثرت ہے اور وہ ضلع کے خوشحال ترین دیہات میں آباد ہیں لیکن وہ ان علاقوں میں نہیں پائے جاتے جہاں کھیتی باڑی کے سلسلے میں قدرتی مسائل یا مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ یہ اچھے کاشتکاراورجفاکش قوم ہیں۔ جٹ عام طور پر ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں بارانی فصلیں پیدا ہوتی ہیں اور صرف ہل چلانے یا فصل بونے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ مسٹرایجرٹن لکھتے ہیں:
جٹ سکھ قومیت کے لحاظ سے حد درجہ اہم اور دلچسپ لوگ ہیں۔ یہ بے حد تنومند اورذہین ہیں۔ لاہور میں رہنے والے جٹوں کی اہم گوتوں میں سندھؤ،سدھو،گل ڈھلوں، بھلر، بھٹی اور ڈھالیوال نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ مان ،ہر،دھنؤ ورک، شیخم، بنجرا، اپل، پنو، بھنگو،وڑائچ (یا چوہنگ ) سورا، گوروں، مانگٹ اوردیوویہ بھی کہیں کہیں آباد ہیں۔ ان میں بھلر،مان اور ہرقبائل کا جد امجدمشترک ہے۔ یہ لوگ آپس میں شادیاں نہیں کرتے۔
سندھو سب سے طاقتور قبیلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ اورپنوقبائل کا بانی غزنی سے یہاں آیا تھا۔ یہ واحد قبائل ہیں جن کا دعوی ہے کہ ان کا تعلق مغربی نسل سے ہے۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ وہ اور مان اور ہر قبائل مہا دیو کی اولاد ہیں۔ دوسرے قبیلے اپنی نسل کے بارے میں کوئی دعوی نہیں کرتے تاہم اس بات پر سب متفق ہیں کہ وہ پنجاب میں نو وارد ہیں اور ان کے آباء واجداد پہاڑی علاقوں اورستلج کے مشرق میں واقع مالوہ کے علاقے سے ہجرت کر کے پنجاب میں آئے تھے۔
مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ بعض گوتیں راجپوت خاندانوں میں بگاڑ کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی ہیں ۔ کئی گوتیں بیوہ بھاوجوں کے ساتھ شادی کے زیراثر پیدا ہوئیں کیونکہ یہ رسم جٹوں میں خاص طور پر رائج ہے۔ ضلع لدھیانے میں ایسے جٹ اورراجپوت موجود تھے جن کی گوت کا ایک ہی نام تھا۔ جٹ اپنے اصل ماخذ کوان
حالات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں جن کا میں نے اوپر تذکرہ کیا ہے۔
میں نے ایلیٹ کی فرہنگ کے صفحہ 411 پر ہندوستان کے جٹوں کی مختلف گوتوں کے نام پڑھے ہیں ۔ اوپر جن گوتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ایلیٹ کی فرہنگ میں ان میں سے صرف چار پانچ کے نام درج ہیں۔ فرہنگ میں پچھاوے کا نام حال ہی میں نقل مکانی کرنے والی گوتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ضلع لاہور میں یہ قبیلہ مسلمان جٹوں کا ہے جو زیادہ تر ریوڑ چرا تا اور باریار چنا دوآب کے جنگلوں میں آباد ہے۔
جٹ محنتی، جفاکش اور ذہین ہیں ۔ وہ اچھے ہندو نہیں اور ان میں سے بیشتر لوگ بیوہ بھاوج کے ساتھ شادی کرتے ( جسے کریوایا کہتے ہیں) تندور پر پکائی گئی روٹی کھاتے، بیویاں خریدتے اور شراب پیتے ہیں جبکہ اونچی ذات کے ہندو ان چیزوں سے بے حد نفرت کرتے ہیں ۔ دولت کی بے پناہ ہوس اورنفس پرستی ان کی سب سے بری عادت ہے۔ وہ کوئی بھی چیز چراسکتے اور کسی بھی عورت کو لے کر فرار ہو سکتے ہیں۔ یہ لوگ مویشی چوری کرنے کو کوئی عیب نہیں سمجھتے۔ عورتوں کا اخلاقی معیار بہت پست ہے۔ سکھوں اورمسلمانوں کے درمیان شادیوں کا رواج ہے اور ان کی اولاد کے ہوتی ہے البتہ اکثریت اس رواج کو نہیں کرتی۔
آرائیں:
کھیتی باڑی کے لیے فطری طور پر موزوں ترین قوم آرائیں ہیں ۔ یہ سب لوگ مسلمان ہیں البته چونیاں تحصیل میں ہندوآرائیوں کے ایک یا دو دیہات موجود ہیں ۔ کمبوہ اور آرائیوں کا مورث اعلی ایک ہے جبکہ کمبوہ سب کے سب ہندو ہیں۔ ان کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ آرائیں اپنی بیٹیوں کو فروخت نہیں کرتے۔ جبکہ کمبوہ بیٹیوں کے عوض روپیہ وصول کرتے ہیں۔ دونوں ذاتوں کے لوگ بہت محنتی کا شتکار ہیں اور زیادہ تر سبزیاں کاشت کرتے ہیں۔ وہ کسی ایسے گاؤں میں رہائش اختیار نہیں کرتے جہاں کی زمین اور آبپاشی کا نظام ناقص ہو۔ آرائیوں کا گاؤں دوسری ذات کے لوگوں کے گاؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف نظر آتا ہے اور وہاں ایک ایک انچ زمین کو صرف میں لا کرکوئی نہ کوئی سبنری کاشت کی جاتی ہے۔ گوبر کی کھاد بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ یہ لوگ ہرقسم کی سبزیاں اگاتے ہیں۔ مزارعوں کی حیثیت سے ان کی بہت مانگ ہے کیونکہ یہ لوگ بہت منظم خاموش طبع اور صلح جو واقع ہوئے ہیں ۔ضلع لاہور میں آرائیوں کے 90 دیہات ہیں اور لوگ کئی دوسرے ضلعوں میں بھی آباد ہیں۔
مسلمان راجپوت ضلع لاہورمیں آرائیوں کے بعد مسلمان راجپوت سب سے اہم قوم ہیں۔ ان کے 118 دیہات ہیں تا ہم یہ سست لوگ ہیں اور جٹوں یا آرائیوں کی طرح اچھے کا شتکار نہیں۔ لاہور میں ہندوراجپوت موجود نہیں ہیں۔
لبانے اورمہتم
لبانے اور مہتم بھی اچھے کا شتکار ہیں لیکن ان کی تعداد بہت مختصر ہے اورانہیں کھیتی باڑی کرنے والے قبیلے بھی تصورنہیں کیا جا تا ۔ لبانے تجارتی سامان کی نقل وحمل کا کام کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر لوگ خانہ بدوش زندگی ترک کر کے دیہات میں آباد ہو گئے ہیں مہتم بھی معمولی درجے کے کام کرتے رہے ہیں اور ان میں سے بعض لوگوں نے اب کھیتی باڑی شروع کر دی ہے۔ یہ قبیلہ عام طور پر دریاؤں کے کناروں پر آباد ہے۔
ڈوگراورکھرل
ضلع لاہورمیں بدترین کاشتکار ڈوگر اور کھرل ہیں ۔ یہ دونوں قبیلے مسلمان ہیں۔ ڈوگر دریاؤں کے کنارے پر آباد ہیں اور مویشی چوری کرنے میں بری شہرت رکھتے ہیں ۔ کھرلوں کی شہرت بھی اچھی نہیں ۔ کھرل ضلع منٹگمری سے تحصیل شرقپور میں رہتے ہیں جہاں ان کی بڑی تعداد آباد ہے۔1857ء کے غدرمیں انہوں نے ان علاقوں میں کافی گڑ بڑ کی۔ ان کے سردار احمد (اصل نام احمد خان کھرل ہے۔ مترجم) کے قتل کے بعداس قبیلے نے برطانوی حکومت کی اطاعت قبول کر لی۔ ڈوگر اور کھرل مویشی چوری کرنے میں بدنام ہیں ۔ وہ صرف حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکئے اور اپنے مویشیوں اور اہل خانہ کے لیے چھوٹی موٹی کاشتکاری کرتے ہیں۔ یہ لوگ رسہ گیری سے کافی روپیہ کما لیتے ہیں اس لیے دوسرے کاموں کی طرف دھیان نہیں دیتے۔

یہ بھی پڑھیں:  راجہ رنجیت سنگھ کے خیبر پختونخوا کے واقعات

اپنا تبصرہ بھیجیں