umro ayyar

عمروکی غلط فہمی

EjazNews

پھر سے بعد بادشاہ نے دربار لگایا تو دربار میں کہا کہ میرا ایک دشمن ہندوستان میں ہے اس کا نام منصور بن سعدان ہے جو میرے اس دشمن کو مارے گا میں اپنی بیٹی مہرنگار کی اس سے شادی کروں گا۔ مہر نگارکا مہرانددورا کا سر ہے۔ جو میرے اس دشمن کو مارنا چاہتا ہے وہ بتائے اور تو سارے سردار چپ رہے امیر حمزہ نے اٹھ کر کہا ” مجھے اجازت دیں کہ میں ہندوستان جا کر اندورا سے لڑوں اور اس کا سر کاٹ کے آپ کے پاس لاؤں‘‘۔ بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ تین جہاز تیارکرائیں جائیں جن میں ایک ایک ہزار سپاہی سوار ہوسکیں اور تین ہزار سپاہیوں کے لئے ہتھیار بھی جہازوں میں رکھوائے جائیں تاکہ وہاں کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے۔ امیر نے اپنی فوج کے کچھ لوگوں کو حکم دیا کہ بصرہ میں جا کر زنجیریں تیار کرائیں تا کہ جہازوں کو باندھنے میں کام آ گئیں۔ بزرجمہر نے بادشاہ نے کہا کہ آپ نے امیرحمزہ کوداماد کہا۔ اب وہ جس جگہ جائے گا آپ کا داماد مشہور ہوگا لیکن آپ نے اسے وادی کا شربت بھی نہ پلایا۔ بادشاہ نے کہا یہ بات ہے تو ابھی یہ کام کرتے ہیں امیر حمزہ کو بلا“۔ جب امیر حمزہ آئے تو بادشاہ نے شربت منگوایا۔ بزرجمہر نے کہا شربت اس طرح تھوڑہی پلاتے ہیں۔ ملکہ امیر حمزہ کو شربت پلانے اور کہے ہماری بیٹی تمہاری امانت ہے تم بادشاہ کے دشمن کو ماروتو اس کی شادی تمہارے ساتھ ہوگئی۔ بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے آپ حمزہ کوعمرو اورمقبل کے ساتھ محل میں لے جائیں۔ ملکہ زرانگیز کو کہیں کہ وہ امیر حمزہ کو شربت پلانے اور پردہ کے پیچھے سے کہے کہ مہر نگار تمہاری امانت ہے تم بادشاہ کے دشمن کو مار کر آؤ تو ہم تمہاری شادی مہر نگار سے کر دیں گے۔ اس کے بعد سب کو شربت پلائیں“۔ بزرجمہر نے امیر سے کہا کہ عمرو اورمقبل کوبھی بلوا لو۔ امیر نے دونوں کو بلوایا اور تینوں بزرجمہر کے ساتھ شاہی محل کی طرف چلے۔ بختک کو پتہ چلا کہ امیرمحل کی طرف گیا ہے تو یہ بہت پریشان ہوا کہ امیر جب محل گیا تو مہرنگار کو ضرور دیکھے گا۔ ہمارے بادشاہ کی بیٹی کو یہ کیوں دیکھے۔ اس نے سوچا کہ ایسی بات ہو کہ امیر مہرنگار کونہ دیکھ سکے اس لئے وہ خودبھی محل کی طرف سوار ہو کے چل پڑا۔ جب محل کا دروازہ قریب آیا تو امیر نے عمرو کے کان میں کہا کہ بختک ہمارا پیچھا کررہا ہے۔ کسی طرح اس کو روک دو۔ عمرو نے کہا آپ چلئے میں اسے روکتا ہوں،عمرو پیچھے چل پڑا اور جب بختک قریب آیا تو اس کی سواری کو پکڑ کر کہا ”جناب بختک ہم ہندوستان جارہے ہیں۔ جب خدا لائے گا پھر ملیں گے۔ آپ نے پانچ سو روپے کا تمسک مجھے لکھ کر دیا تھا وہ روپے دے دیں تا کہ میرے راستے کا خرچ چلے۔ بختک نے کہا۔ کیا بے ہودگی ہے۔ میں ضروری کام سے جارہا ہوں اورتم مجھے راستے میں روک کر روپے مانگ رہے ہو۔ میں نہیں جانتا کہ مجھے تم کوروپے دینے ہیں۔ جاؤ جا کر بادشاہ کے پاس مقدمہ کرو۔ اگر بادشاہ نے فیصلہ کر دیا کہ مجھے روپے دینے ہیں تو دے دوں گا،عمرو نے کہا۔ یہ بات ہے تو تم روپے نہیں دینا چاہتے۔ بادشاہ کے پاس میں فریاد لے کر تو جب جاؤں جب تم سے کمزور ہوں۔ میں تو تم کو ایک قدم آگے بڑھنے نہ دوں گا۔ پہلے میرا روپیہ دو، پھر آگے بڑھو۔ اگر اب تمہارے پاس نہیں ہیں تو کسی کوبھیج کرمنگوالو۔ اب تو بختک بہت پریشان ہوا۔ اس نے اپنے غلاموں سے کہا۔ اس بےحیا کو یہاں سے نکالوعمرونے جیسے ہی سنا تو چھلانگ لگا کر بختک کے پیچھے جا بیٹھا اور خنجرکی نوک اس کی گردن پر رکھ کر کہا۔ ”خدا کی قسم اگر تیرے غلام میرے قریب آئے تو یہ خجر تیری کمر کے پار ہوجائے گا۔ یہ کہتے ہوئے اس نے خنجر کی نوک اس کی کمر میں چبھوئی۔ نوک چبھتے ہی مارے خوف کے اس کا دم نکلنے لگا۔ اس نے اپنے غلاموں کو منع کردیا۔ عمرو نے اترتے اترتے خنجر کا دستہ ایسے مارا کہ سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ عمرو نے یہ اس لئے کیا کہ بختک نے اپنے غلاموں سے اسے بھگانے کے لئے اچھے الفاظ نہیں کہے تھے اور عمرو اپنا بدلا نہیں چھوڑتا تھا وہ اس وقت حساب چکانے کا قائل تھا اور اس نے ان الفاظ کا بدلہ چکادیا۔ بختک چوٹ کھا کے بہتے خون کے ساتھ بادشاہ کے پاس پہنچا۔ اپنی پگڑی بادشاہ کے سامنے دے ماری اور گریبان پھاڑ ڈالا اور کہا، عالی جاہ دیکھیں عمرو نے میری یہ حالت کی ہے۔ اب ہمارا رتبہ ہی رہ گیا ہے کہ عیار پیشہ لوگ بازار میں ہماری بے عزتی کریں اور سر پھوڑیں۔ بادشاہ کو یہ حرکت بری لگی حکم دیا۔عمرو کوبلائو عمروتو خود پیچھے آرہا تھا جب بادشاہ کے سامنے آیا تو بادشاہ نے کہا کہ بختک کے ساتھ یہ حرکت کیوں کی عمرونے جواب دیا۔ آپ عادل بادشاہ ہیں خود انصاف کریں۔ اگر میرا قصور ہوتو میں ہرطرح کی سزا بھگتنے کو تیار ہوں۔ اس نے مجھے ایک خط لکھ کر اس بات کا اقرار کیا کہ یہ بعد میں مجھے پانچ سو روپے دے دیں گے۔ آپ ہمیں ہندوستان بھیج رہے ہیں۔ خدا جانے قسمت کب لائے۔ میں نے خط میں لکھے ہوئے روپے مانگے، روپے مانگنے کے سوا میں نے ان سے کچھ نہ کہا۔ ان کو چاہئے تا کہ اپنی طرف سے بھی مجھے کچھ د یتے مگر یہ اپنی طرف سے کیا دیتے الٹا جو میرے روپے ہیں وہ بھی دینے سے انکار کر دیا۔ اپنے غلاموں سے مجھے ذلیل کروایا اور گالیاں دیں۔ میں یہ سب برداشت نہ کر سکا اور ہاتھ چھوڑ بیٹھا۔ اب اگر اس میں میرا قصور ہے تو آپ مجھے سزادیں۔
بادشاہ نے کہا اس میں تمہارا قصور معلوم نہیں ہوتا۔ سراسر اسی کا گناہ ہے۔ اگرلکھا ہوا ہے کہ یہ تمہیں روپے دے گا تو وہ تمسک مجھے دکھاؤ تمسک کے ہوتے یہ روپیہ دینے سے انکار کیسے کرسکتا ہے۔ عمرو نے تمسک نکال کر تخت کے کونے پر رکھ دیا۔
بادشاہ نے دیکھا تمسک واقعی ٹھیک تھا اوراس میں صاف لکھا تھا کہ بختک عمروکو پانچ سو روپے دے گا۔ بادشاہ نے بختک سے کہا کہ عمرو کوروپے دے دو دو۔ تمہاری بھلائی اسی میں ہے۔ اور تمہارا قصورٹھہرایا جائے گا۔ بختک نے مجبور ہو کر بادشاہ کے خزانے سے قرض لیا اور عمرہ کو روپیہ دیا اور عمرو سے تمسک لے لیا۔ عمرو اور بختک کی بادشاہ نے صلح کروادی اور انہیں گلے ملوایا۔ بختک زخمی سرلئے ہوئے اپنے گھر چلا گیا اورعمرو بادشاہ سے رخصت ہوکرشادی گل کی طرف چلا۔
بزرجمہر امیر اورمقبل کو لے کر پہنچے تو ملکہ نے امیر کے بیٹھنے کے لئے مسند بچھوائی اور ان کو بلوا کر بٹھایا۔ خود مهرنگار کو لے کر پردے کے پیچھے بیٹھی اور شربت تیار کرنے کا
حکم دیا۔ ادھر شربت تیار ہورہا تھا کہ عمروچل کرگل کے دروازے پر گیا۔ اب وہ اندر جانا چاہتا تھا کہ چوکیدار نے اس کو ڈرانے کولکڑی اٹھائی اور کہا تم کون ہو اور کس کے حکم سے اندرآرہے ہو۔ چوکیدار کی یہ بات سن کر عمرو نے اپنی دونوں آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے اور چیخنے لگا۔ چیختے چیختے کہے جارہا تھا کہ چوکیدار تیرا برا ہو تم نے مجھے اندھا کردیا اور جب معاملہ ہے کہ لڑکوں کو اندر بلا کر انہیں مارتے پیٹتے ہو۔ ظلم ہے ملکہ زرانگیز نے جو یہ آواز سنی تو ملازموں سے کہا۔ جا کر دیکھو کون ہے۔ امیر نے عمروکی آواز سنی اور یہ بھی سنا کہ وہ کہہ رہا ہے اندھا کر دیا۔ امیر اورمقبل سن کر دوڑے کہ عمرو کو کیا ہوگیا ہے۔ خواجہ بزرجمہر نے بھی یہ سنا تھا کہ عمرو کو کوئی نقصان پہنچا ہے وہ بھی عمرو پریشان ہوکر کھڑے ہو گئے ۔ ملکہ نے بزرجمہر سے کہا کہ جا کر خبر لو کہ کیا بات ہوئی ہے اور کون چیخ رہا ہے۔ سب لوگ جا کر عمرو کے پاس کھڑے ہوگئے اور دیکھا کہ عمرونے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھے ہوئے ہیں اور بہت بے قراری دکھا رہا ہے۔ امیر حمزہ نے کہا بھائی اپنی آنکھوں سے ہاتھ اٹھاو دیکھیں کیا ہوا ہے۔ اگر کچھ زیادہ تکلیف ہوتو خواجہ بزرجمہرعلاج کریں گے۔ عمرو اپنی آنکھوں سے ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا۔ بڑی مشکل سے زور لگا کر عمرو کے ہاتھ اس کی آنکھوں سے الگ کئے گئے۔ دیکھا کہ آنکھیں ٹھیک ٹھاک ہیں کچھ بھی نہیں ہوا۔ امیر نے کہا کیا شرارت ہےہم سب کو ڈرادیا۔
عمرو نے کہا۔ آپ کے سر کی قسم ! اس نے لکڑی اٹھائی تھی اگر مارتا تو میری آنکھ گئی اور میں اندھا ہوجاتا۔ میں نے جھوٹ تو نہیں کہا۔ یہ بات سن کر سب ہنس پڑے۔ خواجہ سراؤں نے ملکہ کو جا کر ساری بات بتادی۔ ملکہ سن کر حیران ہوئی انہوں نے کہا بڑا عجیب آدمی ہے اسے بلا خواجہ سراعمروکو بلا لایا۔ امیر،عمرو کو اندر لے آئے اور بھٹادیا۔ ملکہ نے شربت کا حکم دیا کہ عمروکو شربت پلاؤ۔ جب شربت پی چکے تو ملکہ
نے پردے کی اوٹ سے کہا۔ ”حمزہ ہم نے تم کو اپنی دامادی میں لیا۔ مہر نگار ہماری بیٹی تمہاری امانت ہے۔ ہندوستان جاو۔ لندصور کو مارو تو اسی خزانے سے جو لاوگے۔ ہم تمہاری شادی کریں گے۔ ملکہ نے بات ختم کی تو عمرونے خواجہ بزرجمہر سے کہا۔ آپ ہمیں دیواریں دکھانے لائے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہم تو بادشاه پرجان
قربان کرنے ہندوستان جائیں وہاں ان کے دشمن کو ہرا کر اسے بادشاہ کو خراج دینے پر مجبور کریں اس کا خزانہ لے کر آ ئیں۔ اس وقت تک ہم مہر نگار کی صورت سے واقف نہ ہوں ہمیں معلوم ہی نہ ہو کہ مہر نگارکیسی ہے اور جب ہم واپس آجائیں تو خدا جانے آپ حمزہ کی شادی کس کے ساتھ کردیں۔ جس کے ساتھ شادی کریں وہ مہر نگار نہ ہو اور ہم سے یہ کہا جائے کہ یہی مہرنگار ہے۔ ہم نے مہرنگار کو دیکھا ہی نہیں ہم کسی کوبھی مہرنگار سمجھ لیں گے۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ ہم جب تک مہرنگار کونہیں دیکھیں گے یہاں سے نہیں جائیں گے اور میں بادشاہ کی وفاداری کی قسم مہرنگار کو دیکھے بغیر یہاں سے جانے کا ارادہ نہیں ہے۔ ہاں نہیں تو بعد میں جانے کس کو مہر نگار بنا کر پیش کردیا جائے۔ اس وقت ہم کیا کرسکیں گے، عمرو نے جب ایسی باتیں کیں تو ملکہ ہنس پڑی اور کہا امیر، عمرو اور مقبل پردے کے اندر آ ئیں اور مہر نگار کو دیکھیں“۔ بزرجمہران کو لے کر اندر لے گئے۔ ملکہ نے اپنے پاس بٹھایا۔ امیر نے مہر نگار کو اپنی ماں کے پاس بیٹھے دیکھا۔ بہت خوش ہوئے۔ ملکہ نے امیر کو دیکھا تو ان کو بہت پسند کیا اور اپنی دامادی میں خوشی سے قبول کیا۔ کچھ دیر تک بیٹھے رہے۔ جب رخصت ہونے کا وقت آیا تو بزر جمہر نے مہرنگار سے کہا۔
اگر امیر کو قبول کیا ہے تو اس کو کچھ اپنی نشانی دو جسے یہ اپنے پاس رکھے اور آپ کو بھولے نہیں۔ مہرنگارنے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتار کر امیر کو دی۔ امیر نے اپنی انگوٹھی مہرنگار کو دی اور اس طرح منگنی ہوگئی۔ جب اٹھنے کا وقت ہونے لگا تو عمرو ہاتھ
باندھ کر ملکہ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے اگر اجازت ہوتو عرض کروں۔ ملکہ نے کہا کہ کیا کہنا ہے،عمرو نے کہا۔ میں مہرنگارکی دایہ کو آپ سے مانگتا ہوں۔ ملکہ نے حیرت سے کہا۔”آخر دایہ تمہیں کیوں پسند آ گئی ہے۔ عمرونے کہا اس نے سونا بہت پہنا ہوا ہے اس لئے مجھے پسند آئی ہے۔ سب لوگ عمروکی اس بات پر ہنسنے لگے۔ عمرو نے کہا ”آپ سب میری پسند کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ملکہ
نے کہا نہیں، پسند تو اپنی اپنی ہوتی ہے۔ ہم اس پر کیوں اعتراض کریں گے، عمرونے کہا آپ دایہ کو کہیں کہ مجھے اپنی کوئی نشانی دے تا کہ میں اسے اپنے پاس رکھوں اسے بھولوں نہیں۔ ملکہ نے دایہ کو کہا ”عمرو کو کچھ دو تو اس نے ایک نیتی عطردان عمروکو دیا۔ عمروعطردان پا کر بہت خوش ہوا۔ ملکہ نے عمرو سے کہا۔ ”تم بھی کچھ دو عمرو نے کہا
ضرور دوں گا۔ اس نے اپنی جیب سے ایک چھوہارا اور اخروٹ نکال کر دایہ کو دیئے اور کہا انہیں احتیاط سے رکھنا اور مجھے مت بھولنا۔ یہ دیکھ کر سب لوگ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ اب یہ لوگ یہاں سے رخصت ہوئے۔ راستے میں بزرجمہر نے کہا۔ بادشاہ کوبھی بتانا ہے۔ انہوں نے عمرو سے کہا کہ آپ اپنے لشکر میں جا کر خبر کریں۔ بہت دیر ہوئی ہے سب کو فکر ہوئی کہ امیر اب تک کیوں نہیں آئے۔ ہم امیر کو بادشاہ سے رخصت کروا کر لاتے ہیں۔
جا کر بادشاہ کو اطلاع دی کہ سب کام خیریت سے ہو گیا۔ پھر اپنے گھر آئے اور امیر کو ہندوستان کے بارے میں بتانے لگے کہ وہاں کس طرح زندگی گزارتے ہیں۔ انہوں نے امیر کو شربت پلایا شربت پینے کے تھوڑی دیر بعد امیر بیہوش ہو گئے۔ بزرجمہر نے امیر کو پلنگ پرلیٹا کر ان کی ران کو چیرا اور اس میں ایک مہر رکھ کر ٹانکے لگائے اور ایسا مرہم لگایا کہ زخم ٹھیک ہوگیا مقبل نے پوچھا۔ ”خواجہ یہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا۔اسے شاہ مہرہ کہتے ہیں۔ ہندوستان میں ایک امیر کو زہر دے گا۔ اس زہر کا علاج سوائے اس مہرہ کے نہیں ہے۔ خبردار یہ راز کسی پر ظاہر نہ کرنا اورجب تک عمرو کے ہاتھ سے مارنہ کھانا اس مہرہ کے بارے میں نہ بتانا‘‘۔ اس کے بعد امیر کو ہوش میں لے آئے اوران کے ساتھ باتیں کرنے لگے۔ ابھی یہ باتیں کررہے تھے کہ عمرو بھی آ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادے سے جدا ہو گئے
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں