imran_khan_live

ٹاﺅن پلانگ تو اس وقت ہوتی ہے جب شہر کے ماسٹر پلان ہوتے ہیں،ماسٹر پلان ہی نہیں ہے:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آہستہ آہستہ ہمارے ٹورز ازم کے علاقے تباہ ہو رہے ہیں۔ حکومت 15نیشنل پارک بنارہی ہے جس میں سارے صوبے حصہ ڈال رہے ہیں۔ حکومت گائیڈ لائن بھی دے گی کہ کیسے نیشنل پارک کو بچانا ہے۔ جب تک مقامی لوگوں کو فائدہ نہیں ہوگا یہ نیشنل پارک نہیں بچیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے چترال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آئی پیکس صرف اس لیے بچ گئے ہیںکہ غلط طریقے سے شکار نہیں ہوا۔ مقامی لوگوں کو اس میں فائدہ نظر آتا ہے اس لیے وہ لمیٹڈ شکار کی اجازت دیتے ہیں ۔ اور شکاری سے پیسے بھی لیتے ہیںاور دنیا وہاں آتی ہے۔دنیا کے بہت سے نایا ب جانور ہمارے یہاں ہیں جن کو ہم بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور یہ اسی وقت ہو گا جب مقامی لوگ ایڈمینسٹریشن میں شامل ہوں گے۔ جب ان کو روزگار ملے گا۔ ہماری حکومت سے پہلے اس مسئلہ کو کسی نے سیریس نہیں لیا ،کسی بھی حکومت نے اس کی ضرورت اور اہمیت کا ادراک نہیں کیا اور یہی وقت ہے اپنے گرین ایریا کو بچانے کیلئے۔
وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان جو علاقے ہم کھول رہے ہیں ان کو کھولنے کیلئے آپ کے پاس ضرور بائے لاز ہونے چاہئیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلوبل وارمنگ اور کلائمنٹ چینج پاکستان کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ ہمارے دریاﺅں میں پانی گلیشئیر ز سے آتا ہے اور جیسے موسم زیادہ گرم ہو گا دریاﺅں میں پانی کم ہوگا ۔ اس کیلئے ہم درخت بھی اگا رہے ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعلیٰ کے پی کے سے کہا کہ آپ اپنے شہروں کے ضرور ماسٹر پلان بنائیں کیونکہ ہمارے شہروں کے ماسٹر پلان ہی نہیں ہیں اگر ہیں تو وہ آﺅٹ ڈیٹڈ ہو چکے ہیں۔ہمارے شہر تباہ ہو رہے ہیں۔ ٹاﺅن پلانگ تو اس وقت ہو تی ہے جب شہر کے ماسٹر پلان ہو تے ہیں۔ماسٹر پلان ہی نہیں ہے۔ شہر پھیل رہے ہیں اور نہ ہم لوگوں کو سیوریج ،بجلی ،گیس وغیرہ کی سہولیات نہیں دے پا رہے۔ جس طرح سے شہر پھیل رہے ہیں ہم کبھی ان کو صاف نہیں رکھ پائیں گے۔ پہلا مرحلہ ہے ماسٹر پلان بنانا، اس کے بعد ہے ٹاﺅن پلاننگ کرنا ۔ اس کے بعد ہوگا ہم لوگوں کو ضروریات دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمیں ہندوستان کی جانب سے ایک خودساختہ/جعلی حملے کا سخت اندیشہ ہے:وزیراعظم عمران خان