Babar-Iftikhar

انڈین میڈیا کے تمام تر دعوے جھوٹے ہیں

EjazNews

ترجمان پاک فوج نے گلگت بلتستان میں ایل او سی پر مزید فوج کی تعیناتی اور سکردو ہوائی اڈہ چین کے زیراستعمال ہونے کی تردید کی ہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر زیرگردش خبر غلط، غیرذمہ دارانہ اور سچائی سے کوسوں دور ہے۔
گذشتہ چند روز کے دوران انڈین میڈیا کے ایک حصے میں اس طرح کی خبریں رپورٹ کی گئی تھیں کہ پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ گلگت بلتستان میں مزید فوج تعینات کی جا رہی ہے۔ انہی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ گلگت بلتستان میں واقع سکردو ہوائی اڈہ چین استعمال کر رہا ہے، جہاں وہ انڈیا پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ایسی کوئی سرگرمی نہیں ہوئی نہ ہی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہم پاکستان میں چینی فوج کی موجودگی کی بھی تردید کرتے ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران متعدد انڈین میڈیا ہاوسز نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ سکردو ہوائی اڈہ چین کے زیراستعمال ہے۔انڈین میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ جون میں پاکستانی ہوائی اڈے پر چین کے 40 سے زائد جے 10 فائٹر طیارے دیکھے گئے ہیں۔ ان رپورٹس میں دعوی کیا گیا تھا کہ چینی فوج پاکستانی فضائی مرکز کو استعمال کر کے انڈیا پر حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
انڈین انٹیلی جنس ایجنسیز کی بنیاد پر دی گئی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ لیہ سے قریب ہونے کی وجہ سے چینی فوج سکردو ایئربیس کو انڈیا پر حملے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ لیہ سے 100 کلومیٹر دور واقع سکردو ایئر پورٹ کا چینی فضائی اڈوں سے موازنہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا تھا کہ علاقے سے قریب ترین چینی ایئر بیسز کاشغر، ہوتان اور نگری گورگنسا ہیں جن کا فاصلہ سکردو کی نسبت بہت زیادہ ہے۔انڈین میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ چینی ایئرفورس پاکستانی ایئربیس کو استعمال کر کے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں واقع لداخ اور کشمیر کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
انڈین میڈیا کے تمام تر دعوﺅں کی تردید آئی ایس پی آر نے کر دی ہے۔ اگر آپ انڈیا میڈیا پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہاں پر رپورٹنگ بڑی عجیب و غریب طریقے سے کی جاتی ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ انڈین میڈیا اپنی عوام کو کہہ رہی تھی کہ آپ انڈین چیزوں کا استعمال بند کر دیں لیکن میڈیا پر چین کی کمپنیوں کے اشتہارات چل رہے تھے۔
اور خاص کر جب پاکستان اور چین کی بات آتی ہے تو ایسی مضحکہ خیز رپورٹنگ کی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا اور اپنی عوام کو ایسی گمراہی میں رکھا جاتا ہے کہ جب لداخ جیسے واقعات ہوتے ہیں تو پتہ چلتا ہے انڈین فوجی میدان میں چینی فوجیوں سے مار کھا رہے ہیں اور کشمیر میں ان کے پائلٹ سرحدی خلاف ورزی کرنے پر زمین پر گر کر کشمیری عوام سے مار کھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ثانیہ مرزا کی ٹینس کورٹ میں واپسی