Expploring lahore

1883_84گزیٹئر میں لاہور کے گاؤں(2)

EjazNews

مہمان نوازی
دیہات کے باشندے مسافروں اور اجنبیوں کی بہت زیادہ مہمان نوازی کرتے ہیں اور انہیں دروازے سے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ مسافروں اور پردیسیوں کے لیے تکئے میں انتظام کیا جاتا ہے۔ ماضی میں اجنبیوں کو گھر کے اندر ٹھہرانے کا انتظام کیا جاتا تھا لیکن اب بیشتر دیہات میں پردیسیوں کے لیے تکئے اور دھرم شالہ تعمیر کر لیے گئے ہیں جہاں انہیں بستر اور سردیوں میں رضائی دی جاتی ہے۔ ان کے کھانے پینے کے اخراجات گاؤں کے نمبردار کے صوابدیدی فنڈ ملبہ سے ادا کیے جاتے ہیں۔
شادی بیاہ
دیہات میں شادی سے پہلے منگنی کر دی جاتی ہے۔ یہ انتظام حجام اور لڑکی کی ماں کرتی ہے۔ شادی اس کے کچھ دیر بعد ہوتی ہے۔ ہندو جاٹوں میں اس تقریب پربعض مخصوص رسمیں ادا کی جاتی ہیں ۔ اس موقع پر ایک شامیانہ لگایا جا تا ہے جس کے نیچے دولہا دلہن کو بیدی نامی کپڑے سے ڈھکی دو نشستوں پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ برہمن شاستر کے اشلوک پڑھتا ہے۔ دلہن کے والدین بھی یہ اشلوک دہراتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی پر رضامند ہیں اور بیٹی کا ہاتھ دولہا کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ وہ بھی یہ اشلوک دہراتا ہے۔ اس رسم کو ہاتھ لیوا کہتے ہیں ۔ اس کے بعد آگ جلائی جاتی ہے اور دولہا اور دلہن آگ کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ چونکہ ہندو آگ کو دیوتا مانتے ہیں اس لیے آگ کو شادی کا گواہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس طرح شادی کی رسم پایہ تکمیل تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ شادی کو ایک مقدس رسم تصور کیا جاتا ہے اور اس کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ شادی کے لیے ایک اور طریقہ کی رائج ہے جسے چادر ڈالنا کہا جاتا ہے۔ اس رسم کے تحت رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے جوڑے پر ایک چادر ڈال دی جاتی ہے۔ یہ ایک سادہ سی رسم ہے اورعام طور پر اس وقت ادا کی جاتی ہے جب کوئی شخص اپنی بیوہ بھاوج کے ساتھ شادی کرتا ہے۔ ہندو بیواؤں کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں اور اس مکروہ رسم کی وجہ سے ہندو بیوہ عورتیں بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں ان کا کردار بہت گھنائونا ہوتا ہے۔ سکھوں اور گلاب داسیوں میں بیوہ عورتوں کو شادی کرنے کی اجازت ہے۔ بدکاری کے سوا عورت کو طلاق نہیں دی جاسکتی۔ جن عورتوں کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ، وہ عام طور پر جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ عام طور پر روپیہ خرچ کیے بغیر شادی نہیں ہوسکتی اور لڑکی ایک سو سے لے کر پانچ سو روپے میں فروخت ہوتی ہے، البتہ طلب اور رسد میں کمی بیشی کے باعث ان کی قیمت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ منگنی کے موقع پر بھی کچھ رقم ادا کی جاتی ہے۔ بعد میں شادی پر جب لڑکی کا ہاتھ دولہا کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے، اس وقت مزيد رقم وصول کی جاتی ہے۔ بعض اوقات لڑکی کا باپ معاوضے میں زمین کا ایک ٹکڑا لے لیتا ہے لیکن ایسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ صرف اونچے طبقے یاخاندان میں شادی کی صورت میں ہی زمین دی جاتی ہے۔ آرائیں بیٹیوں کے عوض روپیہ نہیں لیتے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں میں یہ قبیح رسم بہت عام ہے۔ شادی عام طور پر برادری یا قبیلے میں کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر بیشتر جاٹ ایک دوسرے سے بیٹیاں لیتے اوردیتے ہیں ۔ ڈوگر بھی برادری میں شادی کرتے ہیں اور یہ واحد قبیلہ ہے جو اس رسم پر ابھی تک کار بند ہے۔ شادی پر بہت سا روپیہ خرچ کیا جا تا ہے۔ دیہات کے نادارغریب اور بھکاری شادی کے موقع پر روپیہ جمع کر لیتے ہیں ۔ انہیں کھانا بھی کھلایا جاتا ہے۔ جن دوستوں کو شادی پر دعوت نہ دی جائے وہ ہمیشہ کے لیے ناراض ہو جاتے ہیں۔ پنڈتوں پروہتوں برہمنوں اور فقیروں کو نقد روپیہ دیا جا تا ہے اور جب تک کوئی شخص کافی روپے جمع نہ کرلے اس وقت تک وہ شادی کو اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے سودمند تصور نہیں کرتا۔
زبان
ضلع لاہور میں بولی جانے والی زبانوں کی تفصیل درج ذیل گوشوارے سے ظاہر ہوتی ہے:

تعلیم
1881ء کی مردم شماری رپورٹ میں ہر مذہب اور ہر تحصیل میں تعلیم کے بارے میں مکمل اعداد و شمار درج ہیں تاہم رپورٹ میں خواتین کی تعلیم کے مکمل کوائف موجود نہیں۔ درج ذل گوشوارے سے لہور میں تعلیم کی صورت حال واضح ہو جائے گی۔

1881-82کے اعداد و شمار کی رو سے مختلف مذاہب کے سکول جانے والے بچوں کی تعداد درج ذیل گوشوارے سے ظاہر ہوگی:

مقامی ادب
مغلوں اور پٹھانوں کے دور میں لاہورعلم وادب کا گہوارہ تھا۔ بے شمار عالم اور فاضل یہاں قیام پذیر تھے اور فارسی کے کئی نامور ادیب اپنے نام کے آخر میں لاہوری لکھا کرتے تھے۔ تیرہویں صدی میں اردو زبان کے بانی اور شاعر امیر خسرو لاہوراوردہلی میں رہا کرتے تھے۔ نظام الدین احمد نے ہندوستان کی تاریخ یہیں لکھی۔ مسلمانوں کی ضخیم تاریخ ’’تاریخ الفی‘‘ اسی لاہور میں مکمل کی گئی۔ فارسی میں مہا بھارت اور راجا ترنجی کا ترجمہ بھی اسی شہر میں ہوا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہنشاہ اورنگ زیب کی بیٹی اور شاعرہ زیب النسا بھی لاہورہی میں رہتی تھی جس کا دیوان اب بھی بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور فاضل لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں۔ افسوس اس زمانے میں لاہور میں علوم و فنون کے وہ چرچے ہیں۔ شہر میں چند ایک لائبریریاں ہیں۔ مقامی علما سعدی،حافظ، ذوق اور نظامی کے سرسری تذکرے پر اکتفا کرتے ہیں۔ علمی اورادبی کتابیں بہت کم تعداد میں شائع ہوتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ علم وادب کی جگہ مراثیوں اور بھانڈوں نے لے لی ہے اوروہ شادی بیاہ اور دوسری تقریبات میں پرانے قصے کہانیاں سنا کر لوگوں کومنظوظ کرتے ہیں اورلوگ بھی انہیں شوق سے سنتے ہیں۔ ان کی عورتیں بھی گھروں میں خوشی کے موقع پر وہی قصے اورگیت سناتی ہیں۔
لاہور میں کئی پرنٹنگ پریس موجود ہیں جہاں مختلف اسلامی موضوعات پر کتابیں اور ہندومت کے بارے میں چند پمفلٹ چند درسی کتابیں اسلامی طب اور عوای پسند کے قصے کہانیاں اور گیت شائع کیے جاتے ہیں۔ تاریخ سائنس اور سفرناے چھاپے جاتے اور نہ ہی فروخت ہوتے ہیں۔ چھ ہفت روزے شائع ہوتے ہیں جن میں ایک عربی اور باقی اردو میں نکالے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ اشاعت کوہ نور جریدے کی ہے۔ ڈاکڑ لیٹنرکی قائم کردہ ادبی تنظیم انجمن پنجاب کے جریدے میں تعلیمی موضوعات پرمضامین چھاپے جاتے ہیں۔ رہنمائے ہندوستان اورآئینہ پر ہی مقولہ درج ہوتا ہے۔ خدا اس رعایا اور حکومتوں پر رحم کرے جوراست بازی سے کام لیتی اور بے لاگ رائے کا اظہار کرتی ہیں۔ پنجابی نامی ہفت روزے میں خبریں سیاسی اورادبی مضامین شائع ہوتے ہیں۔’’نفع الاعظم‘‘عربی میں چھپتا ہے۔ اخبارعام سب سے سستا ہے اور اس کی قیمت ایک پیسہ ہے۔ میڈیکل سکول کے اسٹنٹ پروفیسررحیم خان کے زیرادارت ایک طبی جریدہ بھی شائع ہوتا ہے۔ یہ سب لیتھو پرچھتے ہیں۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ ان جریدوں کا عوام پر کس قدراثرورسوخ ہے البتہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرح پنجاب میں پریس کی صورت حال اب بہتر ہورہی ہے۔ ذیل میں بھی چھاپہ خانوں اور وہاں شائع ہونے والے اخبارات اور جرائد کی تفصیل درج کی جاتی ہے۔

لاہور میں اس وقت جولوک داستانیں اورعوامی شاعری زبان زد خاص و عام ہیں اس کی چند مثالیں یہاں پیش کی جائیں گی ۔ گلیوں میں جو گیت گائے جاتے ہیں وہ ہندوستان کے دوسرے حصوں کی شاعری کی طرح بوجھل بہت معمولی اور تھکا دینے والے ہیں البتہ دوسری ہندوستانی زبانوں کے مقابلے میں پنجابی میں بہت زیادہ مٹھاس اورموسیقیت ہے اور بعض گیتوں میں شان وشوکت اورطنزومزاح کا عنصر پایا جاتا ہے۔ ایک گیت میں ایک نوجوان ایک خوبرو حسینہ کے سامنے اس کے حسن و شباب کی تعریف کرتا ہے۔ یہ گیت سنجیدگی اور طنز کا مرقع ہے جس میں نوجوان اس حسین وجمیل خاتون کی سیاہ آنکھوں کو سرے سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کی چوڑیوں، ناک اور نتھ اورخوبصورت ناک نقشے کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے:”میں ایک دور دراز ملک کا مسافر ہوں تم مجھے برا بھلا کیوں کہتی ہو؟“ ایک اور گیت میں ریلوے کے سفر کے حوالے سے ایک گاؤں کی خصوصیات کا احاطہ کیا گیا ہے اور ہر شعر میں کسی بزرگ کے مزار مندر نوجوانوں کے امین اور دوسرے خصائص کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ بعض عوامی گیتوں میں سابق سورماؤں کے خاندانی شجروں اور مذہبی تعلیمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ طربیہ نغمے بھی گائے جاتے ہیں جن میں آواز کے نشیب و فراز سے سحر انگیز کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔ ہندوستانی گلوکاروں میں یہ خصوصیت سب سے نمایاں ہے۔
پنجاب کے بالائی طبقے میں فکر انگیز نظریات کو فروغ دینے کے لیے بھی گانے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لاہور کے پڑھے لکھے طبقے کے لیڈر لالہ بہاری لال نے ہندو اصلاح پسندوں کی تنظیم ست سبھا کے استعمال کے لیے بھجن لکھے ہیں جو ایک کتاب کی صورت میں مرتب کیے گئے ہیں ۔ ان میں سے چند ایک تاریخی نوعیت کے ہیں۔ ایک بھجن میں ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کا احوال موجود ہے۔ ایک اور بھجن میں سکھوں کی پہلی مہم کا تذکرہ کیا گیا ہے جو سوبراوں کی لڑائی میں اختتام کو پہنچی۔ (اصل کتاب اوراس کا ترجمہ تھارنٹن کی ہینڈ بک آف لاہور میں درج ہے) بعض گیتوں میں مشترکہ پی پی کے امور کے بارے میں عوامی نقط نظر کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس کی ایک مثال پنجابی کا وہ نغمہ ہے جو چند سال پہلے بہت زیادہ مقبول ہوا تھا۔ اس گانے میں دیسی شہزادوں کے بہترین دور کی خوشحالی کا انگریز حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے برٹش راج کے مصائب کا ماتم کیا گیا ہے۔ ابتدائی تین شعروں میں برطانوی حکومت کے خلاف یہ تین عمومی شکایات بیان کی گئی ہیں: ہم دولت مند طبقے سے محروم ہو گئے ہیں۔ نمود و
نمائش کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ نچلے طبقوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ عورتوں کو خودمختاری دی گئی ہے اور امیر اورغریب سب پر پیچیدہ قواعد وضوابط کا یکساں اطلاق کیا گیا ہے۔ آخری شعر میں لاہور میں صفائی کے نئے انتظامات پرنکتہ چینی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہر میں پرانے خاکروبوں کی بجائے صفائی کا کام ایک ٹھیکیدار کے سپرد کردیا گیا ہے۔ اس اقدام کی شروع میں بہت مخالفت کی گئی تھی۔
پنجابی کے مقبول ترین گانوں کو انگریزی زبان میں منتقل کرنا بہت مشکل ہے۔ بعض گانے پیدائش شادی اورغمی کی مناسبت اور موقع محل پرگائے جاتے ہیں۔ دلہن کے سر پر تیل ڈالنے دولہا کے گھر کی طرف روانی اور وہاں پہنچنے کے بعد الگ الگ گانے گائے جاتے ہیں لیکن یہ سب گانے ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں۔ بارہ مہینوں کے حوالے سے الگ گانے تیار کیے گئے ہیں جو اردو کے مشہور شاعر جوان نے لکھے ہیں۔ اس شاعر کا ولی، سودا، میر تقی میر اور مسکین کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ اسے اردو ادب کا بانی قرار دیا جاسکتا ہے۔ بارہ مہینوں کے بارے میں ان گانوں کا شمال مغربی ہندوستان کی ہرزبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ پنجابی کا سب سے بڑا شاعر ہاشم ہے ۔ وہ رنجیت سنگھ کا درباری تھا۔ اس کی ایک نظم میں ایک غمزدہ عورت کی تصویرکشی کی گئی ہے جس کا شوہر تجارت کی غرض سے وسط ایشیا روانہ ہورہا ہے۔
پنجابی شاعری اور رزمیہ گیتوں پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ اخبارات اور کتابیں ابھی تک زبانی حکایات اورروایات کے اثرات کو زائل نہیں کر سکیں۔ اگر چہ پنجابی شاعری اور یورپی معیار پر پورا نہیں اترتی ، اس کے باوجود اس کے آہنگ اورنگی میں بے پناہ قوت موجود ہے اور اس میں گہرے انسانی جذبات اوراحساسات کی بھرپور ترجمانی ہوتی ہے۔ گانوں کی طرح قصے کہانیوں میں بھی بعض اوقات خامیاں پائی جاتی ہیں۔ سب سے بہترین کہانیاں داستان الف لیلی اور فارسی قصوں سے ماخوذ ہیں جیسے لیلی مجنوں ، یوسف زلیخا، سسی پنوں، رستم و سہراب وغیرہ۔ ان کہانیوں میں سلاطین اور پیروں فقیروں کے بجائے راجوں اور برہمنوں کے کرداروں کو سمویا گیا ہے۔ دیسی کہانیاں عام طور پر غیرمعیاری اورفہم و فراست سےعاری ہیں جن میں مذہبی گداگرمعزز لوگوں کے سامنے ماورائی طاقت کو استعمال کر کے ان کے غیظ وغضب کا نشانہ بنتے ہیں۔
عوام کی معاشی حالت
تاجروں اور صنعت کاروں کی دولت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ ہمارے پاس صرف 1870ء اور 1871 – 72 ء کے انکم ٹیکس کے درج ذیل گوشوارے دستیاب ہیں

یہ امر قابل ذکر ہے کہ شہروں میں رہنے والے کاریگر بے حد غریب ہیں جبکہ دیہات کے کاریگروں کی گزراوقات کا انحصار کاشت کردہ فصلوں کی نوعیت پر ہوتا ہے کیونکہ انہیں خدمات کا معاوضہ جنس کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ جن مقامات پر فصل میں ان کے حصے کا تعین نہیں کیا جاتا وہاں ان کی آمدنی کا دارومدار گاہک کی خوشحالی پر ہوتا ہے۔ چمڑے کا کام کرنے والے ان مویشیوں کی کھالوں میں خاصا منافع کما لیتے ہیں جو قحط کے زمانے میں مرجاتے ہیں۔
لوگوں کا کردار
ہندواورسکھ افیون کھاتے اور پوست اور بھنگ پیتے ہیں۔ پست پودے کی ڈھونڈی سے نکالی جاتی ہے جبکہ بھنگ کوپانی میں ملا کراستعمال کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں ڈوگراورراجپوت پوست اورتمباکو پینے کے عادی ہیں۔ سکھ شراب کے بہت رسیا ہیں البتہ دوسرے قبیلوں کے لوگ چوری چھپے شراب پیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں