umro_ayyer_hero

عمرو کی تیز رفتاری

EjazNews

بزرجمہر نے جب سے عمرو کو عیاروں کا لباس بھیجا تھا جب سے عمرو نے اپنے چارسوشاگرد تیار کر لئے تھے۔ جب امیرلشکر کے ساتھ ان کی طرف نکلتے تھے تو عمروان کے ساتھ اور عمرو کے شاگرد بھی ساتھ ساتھ ایک قطار میں بھاگتے ہوئے امیر کی شان بڑھاتے تھے۔ اب جب امیر حمزہ نوشیرواں بادشاہ سے مل چکے تو بزرجمہر نے بادشاہ سے عمرو کی تعریف کرنی شروع کردی اور اس کی ایسی ایسی باتیں بتائیں کہ بادشاہ کوعمرو سے ملنے کا شوق ہوا۔ بادشاہ نے کہا اسے مجھ سے ملواؤ۔ بزرجمہرعمروکو بادشاہ سے ملوانے لایا تو بادشاہ نے اس پر مہربانی کرتے ہوئے اس کی طرف پاؤں پھیلایا کہ وہ چومے اور ہاتھ ران پر رکھا۔ عمرو نے پیر چوم کر ہاتھ چوما اور جب ہاتھ کو چومنے کے لئے پکڑا تو بڑی چالاکی سے بادشاہ کی انگلی سے انگوٹھی اتارلی اور یہ کام اتنی صفائی سے کیا کہ نہ ہی بادشاہ کو اور نہ ہی کسی اور کوخبر ہوئی کہ عمرو نے بادشاہ کی انگوٹی اتار لی ہے۔
بادشاہ سے ملنے کے بعد عمرو وزیروں امیروں سے گلے ملا اور اسی ملنے ملانے میں بادشاہ کی انگوٹی بختک کی جیب میں ڈال دی۔ اس کو پتہ ہی نہ چلا کہ عمرونے بادشاہ کی انگوٹھی اس کی جیب میں ڈال دی ہے۔ جب سب سے ملاقات ہوچکی تو بادشاہ اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر امیر حمزہ کے گھوڑے سے گھوڑ ملا ئے ہو ئےمدائن کو چلے۔ عمرو اپنے شاگردوں کے ساتھ سواری کے آگے بڑھا چلا جارہا تھا۔ اس نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا کہ خبردار اپنے درمیان میں کسی اور کو ہرگز مت آنے دیا۔ اب عمرو اپنے شاگردوں کے ساتھ بادشاہ کی سواری کے آگے آگے چلا جارہا ہے کہ اتنے میں بادشاہ کا عیاروں کا سردار جس کا نام آتش تھا، آگے بڑھا اورعمرد سے کہا۔ او لڑکے جگہ پہچان کر چل۔ کیونکہ بادشاہ کے آگے میں اور میرے شاگرد چلتے ہیں۔ تمہارا رتبہ نہیں ہے۔ صرف میرا رتبہ ہے۔ عمرو نے جواب دیا کہ میری طرح تم بھی اپنے کام کے ماہر ہو۔ اب تک تم خدمات انجام دے رہے تھے۔ اب میں آگیا ہوں تو اب یہ خدمت نہیں کر سکتے۔ میں یہاں نہیں آیا تھا تو جب تک ٹھیک تھا۔ تم خدمت انجام دیتے رہے اب جب میں آ گیا ہوں تو تمہاری چھٹی ہوئی۔ اب یہ خدمت میں انجام دوں گا۔ یہ سن کرآتش عیارکو بہت غصہ آیا اوروہ برا بھلا کہنے لگا۔ یہ بات امیر اور بادشاہ آتش نے کہا۔ کہ میں آپ کے عیاروں کا سردار ہوں اور آپ کی سواری کے آگے ہمیشہ اپنے شاگردوں کے ساتھ چلتا ہوں۔ یہ عمروعیار جو میرے سامنے بچہ ہے آپ کی سواری کے آگے اپنے شاگردوں کے ساتھ دوڑ رہا ہے اور مجھے جگہ نہیں دیتا۔ بادشاہ نے اس کی بات سن کر عمرد سے کہا۔ اے عمروتم کیا کہتے ہو عمرو نے کہا۔عیاری صرف باتوں سے نہیں ہوتی، عیاری میں ہر کام آتا ہے اس فن میں دوڑنا سب سے بڑا پیشہ ہے اگراس بات کا امتحان ہوجائے کہ دوڑنے میں کون تیز بھاگتا ہے تو فیصلہ ہوسکتا ہے۔ بادشاہ نے کہا۔ عمرو تم نے بہت اچھی بات کی ہے۔ ہم نے ایک بات طے کی ہے اس سے دونوں کا امتحان ہوجائے گا۔ مدائن کے قلع کا دروازہ یہاں سے تین میل دور ہے۔ میں تم دونوں کو ایک ایک تیردیتا ہوں جو سب سے پہلے چوکیدار کو تیرلے جا کر دے گا وہی جیتا ہوا ہوگا۔ دونوں نے اس بات کو منظور کرلیا اور بادشاہ نے دونوں کو ایک ایک تیر دے دیا۔ یہ دونوں عیار بادشاہ سے تیر لے کر چل پڑنے اور قدم قدم چلنے لگے۔ جب بادشاہ کی سواری کچھ آگے بڑھی تو عمرو جان بوجھ کے پیچھے رہ گیا اور آتش آدھا کوس آگے نکل گیا۔ یہ دیکھ کر سب کہنے لگے کہ عمرو نے عیاروں کے سردار سے شرط باندھ کے اپنے لئے مصیبت کھڑی کی ہے۔ وہ زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے جب ہی تو آگے بڑھ گیا اور عمرو میں دم ہی نہیں ہے اس لئے عمرو پیچھے رہ گیا ہے۔ عمرو نے لوگوں کی باتیں سنیں۔ رک کر اپنے جوتے ٹھیک کئے اور تیز بھاگنے لگا۔ وہاں آتش دل میں کہہ رہا تھا کہ میں شرط جیت گیا ہوں تھوڑی دیر میں دروازے پر پہنچ جاؤں گا۔ میں اتنا آگے آ گیا ہوں کہ عمرومجھ تک کسی طرح نہیں پہنچ سکتا۔ وہ بھی سوچتا جارہا تھا اور قریب تھا کہ دروازے تک پہنچے کہ پیچھے سے عمروآ گیا اور اس کی کمر پر کندھوں کے دو لاتیں ماریں کہ وہ بے اختیار گر پڑا اور اس کا سر پھٹ گیا۔ اس کے سر پر عیاری کا جو تاج تھا اس تاج کا آدھا حصہ اس کے سر سے اتار لیا۔ چوکیدار کے پاس پہنچا، چوکیدار کو تیردیا اور واپس دوڑتے ہوئے بادشاہ کے پاس پہنچا۔ بادشاہ کی رکاب کو چوما اور آتش عیار کا آدھا تاج بادشاہ کو دکھایا۔ بادشاہ اپنے سرداروں کے ساتھ خوب ہنسا۔ آتش عیاریارہارنے کی شرمندگی سے دربار میں نہیں آیا۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں