children health

بچوں میں انفیکشن : حفاظت صحت کے اصولوں پر عمل کیجئے

EjazNews

انفیکشن جو کہ بہت ہی عام اصطلاح ہے۔ آپ نے عام طور پر سنا ہو گا کہ فلاں چیز سے انفیکشن ہو گیا جس کے نتیجے میں فلاں بات ہو گئی۔
انفیکشن کو آپ مختلف امراض کا ایک مافیاسمجھ سکتے ہیں یہ مافیا ہمارے چاروں طرف ہر وقت موجود رہتا ہے۔ لیکن قدرت نے ہمارے جسم میں ہی اس مافیا کے خلاف لڑنے کے لئے بے شمار حفاظتی ہتھیار بنا رکھے ہیں۔ یہ ہتھیار ہر وقت مافیا سے جنگ کرتے ہیں۔ اگر ہمارے جسمانی نظام میں ان ہتھیاروں کی گنجائش نہ ہو تو انسان بیماریوں کا ملغوبہ بن جا ئے۔
ہر قسم کا وائرس ، بیکٹیریا یا فنگس جب باہر سے ہمارے جسم کی حفاظتی دیواروں سے ٹکرانا پڑتا ہے سب سے پہلی حفاظتی دیوار ہماری کھال یعنی جلد ہے۔ اسے ڈیفنس کی پہلی لائن کہا جاتا ہے۔
اس کے بعد ہمارے جسم میں تیرتے اور گردش کرتے ہوئے مختلف مائع ہیں جیسے تھوک، آنسو، جن میں بیکٹیریا کو شکست دینے کے لئے ایک مادہ چھپا ہوتا ہے جسے لائم سوزا کہتے ہیں ۔ یہ مادہ بیکٹیریا کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد خود ہمارا پیٹ ہے جس میں تیزابی مادہ موجود رہتا ہے اور بیکٹریا کے لئے قاتل کا کام کرتا ہے۔
یہ سب ڈیفنس کی پہلی لائن ہے۔ اگر یہ لائن کمزور پڑ جائے یا مار کھائے تو پھر حفاظت کا دوسرا حصار ہوا کرتا ہے جو ایک قسم کا کیمیکل خارج کرتا ہے جسے ہسٹا مائن کہتے ہیں۔ یہ کیمیکل خون میں گردش کرنے لگتا ہے۔ یہ کیمیکل خون کے سفید ذرات باہر سے آنے والے دشمن کو ہلا کرنے کا فریضہ انجام دینے لگتے ہیں ایسی حالت میں مریض کے جسم کے کچھ حصے ورم آلودہ ہو جاتے ہیں اور ان میں سرخی آجاتی ہے۔
اس طرح دونوں کانوں کے اندر بھی بال ہوتے ہیں جو جراثیم کی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں۔ غرضیکہ قدرت نے انسان کو انفیکشن سے بچائو کے بہت سے ہتھیار دے رکھے ہیں اس کے باوجود انفیکشن سے بیمار ہونے والوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انفیکشن اور ان سے پیدا شدہ بیماریوں کے بارے میں آپ کو مفید معلومات فراہم کی جارہی ہیں تاکہ آپ اپنے نونہالوں کو حتیٰ الامکان محفوظ رکھنے کی کوشش کر سکیں۔

بچے کو دودھ پلانے کے عرصے میں ماں کی غذا

حفاظتی ٹیکوں کا سسٹم:
انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے لئے حفاظتی ٹیکوں کا سسٹم اپنا یا جاتا ہے۔ انفیکشن کے بے شمار ذرائع اور شکلیں ہو سکتی ہیں اور ان کے حوالے سے وجود میں آنے والی بیماریاں بھی بے شمار ہیں۔
یہ عجیب با ت ہے کہ میڈیکل سائنس جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ویسے انفیکشن کی نئی شکلیں اور اس حوالے سے نئی بیماریاں بھی سامنے آتی جارہی ہیں۔
ہمارے جسمانی نظام میں ناک کا اندرونی حصہ اور گلے کے غدود ایسے ٹشوز رپر منحصر ہوتے ہیں جو بیماریوں اور انفیکشن کو فوری طور پر قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بہت سی ایسی بیماریاں جو انفیکشن کے سبب ہو تی ہیں کچھ دنوں ہی کے لئے بچے پر اثر انداز ہوتی ہیں اس کے بعد ان کی قوت خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور بچہ صحت یاب ہو جاتا ہے لیکن اگر انفیکشن شدید ہو اور بچے کو تیز بخار ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجو ع کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
میڈیکل سائنس نے حفاظت کے لئے حفاظتی ٹیکوں کا سسٹم وضع کیا ہے۔ یہ ٹیکے ہر قسم کے انفیکشن کے لئے دئیے جاتے ہیں اور بچہ آئندہ آنے والی بیماریوں کے مضر اثرا ت سے محفوظ رہتا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ جب انفیکشن کے سبب ہونے والی بیماریاں مہیب آسیب کی طرح بچوں پر منڈلاتی رہتی تھیں ۔ لیکن اب ان ٹیکوں نے صورت حال تبدیل کر دی ہے۔ اگر ٹیکوں کے باوجود کسی مرض کا اثر ہوتا بھی ہے تو اس کی نوعیت زیادہ شدید نہیں ہوتی۔
علامات اور علاج:
بخارک ، بھوک کا نہ لگنا، بدن پر چھوٹے چھوٹے دانے۔
ایسی صورت میں بچے کو پیرا سیٹا مول دیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچے کو چکن پاکس ہو سکتا ہے۔
طبیعت کی زیادہ خرابی، بے چینی، بخار ، گردن کے گرد سوجے ہوئے گلینڈ، نوجوانوں کی بغل اور جانگھ میں گلٹیاں۔
گلینڈ بخار : بچے کو آرام کروائیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بچوں کی جسمانی صحت تعلیم پر اثرا نداز ہوتی ہے

بے چینی، بخار، منہ، ہتھیلیوں اور تلوئوں میں دانے۔
ہاتھ پیر اور منہ کا مرض:بچے کو گھر پر رکھیں اور باہر نہ جانے دیں۔ بخار کا علاج کریں ۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو ڈاکٹر کے پاس چلی جائیں۔
بھوک کی کمی، غنودگی، یرقان کا اثر۔
ہیپا ٹائٹس:ڈاکٹر سے رجو ع کریں۔ اگر بچے کو الٹیاں بھی ہو رہی ہیں تو تھوڑا تھوڑا پانی پلاتی رہیں۔
منہ میں تکلیف دینے والے چھالے ، بخار ، بے چینی۔
منہ کا انفیکشن: مشروب پینے کو دیں اور ڈاکٹر کو دکھائیں۔
بخار ، سردرد، بے چینی، کھانسی۔
انفلوئنزا: پیرا سیٹا مول دیں اور کوئی مشروب پلاتی رہیں۔ اگر بخار کی نوعیت شدید ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کر یں۔
بہت تیز بخار، خارج ، ہاتھ ورم کر جاتے ہیں۔ آنکھیں اور زبان سرخ ہو جاتی ہیں۔
کاوا ساکی: ایک ایسی بیماری جو بہت کم ہوا کرتی ہے۔ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
بخار، فلو کی علامت، ان ملکوں کے سفر کے چھ ماہ بعد تک اگر یہ ہو جائے تو اسے وہ ملیریا سمجھیں جو ایسے کسی ملک میں وبائی صورت اختیار کرتی ہو۔
ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔
بخار، کھانے پینے میں دشواری، جبڑوں میں سوجن۔
مم: حالانکہ یہ بھی کم ہوا کرتا ہے۔ پیرا سیٹا مول کے ساتھ رقیق چیزیں کھانے پینے کودیں۔ ڈاکٹر کے پاس جا کر اس بیمار کی تصدیق کرائیں۔
بخار ، جو تیزی سے بڑھتا رہتا ہے ، بخار کم ہونے کے ساتھ بےچینی۔
روسیولا: یہ بخار کنٹرول ہو جاتا ہے ۔ بہر حال ڈاکٹر سے مل کر تصدیق کرالیں۔
ٹھنڈلگنے جیسے اثرات۔ چہرے پر ہلکے گلابی دانے جو بہت تیزی سے غائب ہو جاتے ہیں۔
روبیلا:پیرا سیٹا مول اور جوس دیں۔ تصدیق کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ایسے بچے کو حاملہ عورت سے دور رکھیں۔
بے چینی ، بخاری، گالوں پر گلابی دانے۔
گالوں کا مرض، پیرا سیٹا مول اور اگر ضرور سمجھیں تو ڈاکٹر سے رجوع کر لیں۔
گلے میں تکلیف، بخاری ، پورے بدن پر سرخ دانے سوائے منہ اور اطراف کے۔
اسکارلٹ فیور اس میں بھی جوس اور پیرا سیٹا مول کا استعما ل کرائیں۔ تصدیق کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
بخار ، بے چینی ،گلینڈ کی سجن، پیٹ میں تکلیف، ایک آنکھ میں سرخی۔
اس مرض کو ٹوکسو کرائی سس کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
کھانسی، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔
وہ کھانسی جو ٹیکے نہ لگنے کے سبب شروع ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
فوڈ پوائزننگ:
فوڈ پوائزننگ کے بیشتر کیس میں پیک شدہ یا ریسٹورنٹ کی غذائوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ لیکن کئی لوگ اپنے گھر ہی میں فوڈ پوائزننگ میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کا سبب حفظان صحت کے ناقص غذائی اصول ، غذا کی دیکھ بھال میں کوتاہی اور اسٹوریج ہوتے ہیں ۔
فوڈ پوائزننگ کس طرح ہوتی ہے؟:
اس مرض میں مبتلا ہونے کا سبب فوڈ پوائزننگ بیٹکٹریا کی ایک بڑی اجتماعی تعداد ہوتی ہے لیکن یہ بیکٹیریا کی ایک بڑی اجتماعی تعداد ہوتی ہے لیکن یہ بیکٹیریا یا صحیح حالات میں بہت تیزی سے کئی گنا بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ مثال کے طورپر اگر بیکٹیریا کو 5Cسے 60C کی رینج کے درجہ حرارت میں رکھ دیں اور انہیں تھوڑی سی ڈیری یا انڈے کی پروڈکٹ، گوشت یا پولٹری ، سی فوڈ یا یروسیس شدہ گوشت یا چکن فیڈ کر دیں تو صرف 7گھنٹے کے اندر ایک اکلو تا بیکٹیریا اپنی تعداد کو بڑھا کر 20لاکھ سے زیادہ کر سکتا ہے۔
فوڈ پوائزننگ سے بچائو:
آپ غذا کو خراب ہونے اور جراثیموں کو افزائش سے باز رکھ سکتی ہیں۔ سب سے بہترین حفاظتی تدبیر گھر میں غذا کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے عقل و فہم سے کام لینا ہے۔ حقیقت میں ایک ’’صاف ستھرا‘‘ کچن غذا کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔ اور یہ بات صرف ظاہری طور پر اس کےصاف ستھرا نظر آنے سے مشروط نہیں۔۔۔اس کا انحصار سیلف فوڈ پریکٹسز پر مبنی ہے جو کہ تین عوامل کے گرد گھومتی ہیں۔فوڈ اسٹورجی، فوڈ ہینڈلنگ ور کولنگ۔
ذیل میں چند احتیاطی تدابیر دی جارہی ہیں جو نہایت سادہ ہیں اور جن پر عمل کر کے آپ کو غذا کو فوڈ پوائزننگ سے بچائو میں مدد مل سکتی ہے۔
اپنے ریفریجریٹر کو باقاعدگی سے چیک کرتی رہیں اس کا جردہ حرارت 5C سے زیادہ اور فرزیزر کا 15C سے کم نہیں ہونا چاہیے۔
غذا کو ریفریجریٹر میں مناسب طریقے سے ترتیب سے رکھیں ۔ ہمیشہ کچن غذائوں کو پکی ہوئی ڈشوں سے نیچے رکھیں۔
کھانے کی تیایر کے دوران ہاتھوں کو اچھے طریقے سے اور با قاعدگی سے دھوتی رہیں۔
اگر آپ پیٹز سرو کر رہی ہیں تو اس بات کا یقین کرلیں کہ فوراً ہی کھا لئے جائیں۔ اگر انہیں رکھے ہوئے ایک گھنٹے سے زیادہ ہو گیا ہے تو پھر پھینک دیں اور کھانے سے گریز کریں۔
ڈیری کی مصنوعات، انڈے کی مصنوعات بشمول مایونیز ، سی فوڈ اور بعض گوشت کی مصنوعات کو ریفریجریٹر سے باہر دو گھنٹے سے زیادہ کے لئے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
ڈاکٹر سعیدہ عبداللہ

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں