food

گردوں کے مریضوں کیلئے مفید سبزیاں

EjazNews

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ گردے ہمارے جسم کے فاضل مواد کوصاف کرنے کا کام کرتے ہیں، لیکن کیا کبھی سوچا ہے کہ خود گردوں کی صفائی رکھنی ہوتوکیا کرنا چاہئے؟ اگر آپ کو بلند فشار خون، ذیابطیس، یا شریانوں میں کھنچائو کا مرض ہے توممکنہ طور پر آپ کو گردے کی بیماریاں ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتاہے۔ اسی لیے گردوں کی صحت کا خیال رکھنے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ گردوں کی صحتیابی پر انسانی صحت بلکہ پوری زندگی کا دارومدار ہوتاہے، لہٰذا اس کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ آپ اپنی ظاہری خوبصورتی کا رکھتے ہیں۔ ہم آپ کو چند ایسی غذائیں بتاتے ہیں، جو آپ کے گردوں اور آپ کو تکلیف سے محفوظ رہنے میں مدد کریں گی۔
پتوں والی سبزیاں 
ہماری مائیں اتنی محبت اور چاہ سے ہمارے لیے ہرے پتوںوالی سبزیاں پکاتی ہیں، لیکن ہم ناک بھوں چڑھاتے ہیں، لیکن نہیں جانتے کہ یہ ہرے پتوں والی سبزیاں وٹامن سی اور کےسے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ وٹامن ہمارے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتے ہیں، جس سے گردوں پر دبائو کم ہو جاتاہے۔ ہرے پتوں والی سبزیاں بازار میں بکثرت دستیاب ہوتی ہیں۔کوشش کریں کہ آپ روزانہ پتوں والی سبزیاں پکا کر یا سلاد کے طور پر کھائیں۔
کرینبیری یا کروندا
کرینبیری یا کروندے کا جوس پیشاب کی نالیوں میں ہونے والے انفیکشن کے سدباب کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتاہے، ساتھ ہی یہ جوس گردوں میںجمع ہونےو الے کیلشیم آکسیلیٹ کو بھی صاف کرتاہے ،جو پتھری کا باعث بنتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے آپ کو قدرتی کرینبیری یعنی مصنوعی اجزا سے پاک جوس نوش فرمانا ہوگا۔ یہ جو س فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ مزیدار بھی ہوتاہے۔
ہلدی
جسم میں ہونے والی سوزش اور جلن(Inflammation) کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، ان میں ایک گردوں کی بیماری بھی ہے۔ جسم کو انفلیمیشن سےپاک اور گردو ں کو صاف رکھنے کے لیے آپ کو ہلدی کی موزوں مقدار کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہلدی میں کرکیومن (Curcumin)ہوتا ہے جس میں انفلیمیشن کے خلاف کام کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ہلدی کو چاول، سالن، دالوں، سبزیوں یہاں تک کہ اسموتھیز میں بھی شامل کیجئے اور اپنے گردوں کو آرام پہنچائیے۔
سیب
روزانہ ایک سیب صرف ڈاکٹر کو ہی دور نہیں رکھتا بلکہ گردوں کو بھی مضر اجزا سے پاک رکھتاہے۔ سیب میں موجود فائبر زہریلے مواد (Toxins)کو جذب کرتاہے، جس سے گردوں کو کچھ خاص محنت نہیں کرنی پڑتی۔ اس کے علاوہ سیب نظام ہاضمہ کے راستوں یعنی آنتوں میں ہونے والی انفلیمیشن کو بھی کم کرتاہے۔
لہسن
آپ کے گردوں کی صحت کے سب سے بڑے دشمن زہریلے مواد (Toxins)اور انفلیمیشن ہیں، لہسن ان دونوں کو دور رکھنے میں بہت مدد کرتاہے ۔ لہسن میں الیسن (Allicin)ہوتا ہے ،جو زبردست قسم کی اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیت رکھتاہے۔ یہ دونوں خصوصیات گردوں اور بلڈ پریشر کے لیے بہت فائد ہ مند ہوتی ہیں۔ اسی لیے گھر میں کوئی بھی کھانا تیار کریں ،اس میں لہسن ضرور ڈالیں ۔
زیتون کا تیل
آلیوآئل یعنی زیتون کا تیل آپ کی تمام تر صحت کے ساتھ گردوں کو تندرست رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتاہے۔ زیتون کا تیل آپ کےکولیسٹرول کو کم کرتا، پتھری کی وجہ سے ہونے والے درد میں راحت دیتا اور انفلیمیشن میں کمی لاتاہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیتون کا تیل بآسانی دستیاب ہے۔ اگر آپ ایکسٹرا وَرجن آئل (بغیر ریفائن کیا ہوا زیتون کا تیل) استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
لیموں کا رس
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے گردے پتھری سے محفوظ رہیں تو آپ کو لیموں سے دوستی کرنی پڑےگی۔ لیموں کا رس آپ کےCitrate Level(کیلشیم کی کمی کو پورا کرنے اور خون میں فاسفورس کی تعداد بڑھ جانے سے گردے میں پیدا ہونےو الی خرابی کو رفع کرنے کا عمل ) میں اضافہ کرتاہے، جس سے گردوںمیں پتھری بننے کا عمل رُک جاتاہے۔ روزانہ لیموں کے رس کا استعمال آپ کے گردوں کے ساتھ ساتھ آپ کو بھی صحت مند رکھنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔
ادرک
آپ کو شاید ادراک نہ ہو لیکن ادرک بھی آپ کے گردوں کو صاف کرنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتاہے۔ ادرک کچا ہو، پسا ہو ا ہو، جوس میں ڈالا گیا ہو یا کھانے میں شامل ہو، یہ ہر طرح سے آپ کے گردو ں کی صفائی پر مامور رہتاہے ۔ اس کے علاوہ ادرک آپ کو متلی، درد، بھوک نہ لگنے اور انفلیمیشن جیسے مسائل سے دور رکھتاہے۔
دیگر فائدہ مند غذائیں 
سب سے پہلے تو آپ زیادہ سے زیادہ پانی پینے کی عادت اپنائیں۔ اگر آپ کے پیشاب کا رنگ پیلا یا بھورا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ جسم کو درکار پانی کی مقدار نہیں پی رہے ۔ لوبیہ بھی ایک بہترین غذا ہے، جو گردے کی ہی شکل کا ہوتاہے۔ اگر کوئی گردوںمیں پتھری محسوس کررہا ہے تو اسے چاہیے کہ چھ گھنٹےتک لوبیہ ابالے اور پھر اس کا پانی چھان کر ہر دو گھنٹے بعد پی لے۔ ایک سے دودن میں اس کے بہترین نتائج سامنے آجائیں گے۔ اس کے علاوہ تلسی، اجوائن ،انگور اور انار بھی آپ کو گردے کی پتھری سے محفوظ رکھتے ہیں۔
کام کی بات
کسی بھی قسم کے درد یا شکایت کی صورت میں صرف غذائوں پر ہی انحصار مت کریںبلکہ فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں