pakistani actor

پاکستانی اداکار اور سیاست

EjazNews

اگرچہ سیاست اور اداکاری قطعی طور پر دو علیحدہ شعبے ہیں، لیکن آج کے دور میں ان دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور فلمی ستاروں کا حکومتی عہدوں پر فائز ہونا، ذرائع ابلاغ کے گہرے اثرات کی غمازی کرتا ہے۔ اگرچہ سیاسی شخصیات کا ذرائع ابلاغ پر اچھا نظر آنا کافی نہیں، تاہم اہم ضرور ہے۔ 1960ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں جان ایف کینیڈی اور رچرڈ نکسن کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر کینیڈی نے خود کو ٹیلی ویژن پر بہتر انداز میں پیش کیا اور کامیاب ہوئے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جاذب نظر سیاست دان ہی انتخابات جیتتے ہیں۔
فلمی ستاروں کا سیاست میں آنا نئی بات نہیں
فلم کی دُنیا سے تعلق رکھنے والے افراد کا سیاست میں آنا کوئی نئی بات نہیں۔ بھارت میں تو کئی ایک مقبول فلمی اداکار اور اداکارائیں رکن پارلیمان بھی رہ چُکی ہیں۔ علاوہ ازیں، امریکہ کے کئی سینیٹرز اور ریاستی گورنرز بھی اداکاری کے شعبے میں اپنے جوہر دکھا چُکے ہیں۔ نیز، برطانیہ، کینیڈا، رُوس، برازیل، بنگلا دیش، اسرائیل، نیدر لینڈز اور تھائی لینڈ سمیت دیگر کئی ممالک میں بھی ایسے کامیاب سیاست دان موجود ہیں، جو پہلے اداکار تھے، لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔مثال کے طور پر 2018ء کے عام انتخابات میں کئی آرٹسٹس نے حصّہ لیا، جن میں معروف فن کار، محمد ایوب کھوسہ، سیدساجد حسن، گل رعنا اظہر اور گلوکار، جواد احمد، جو لاہور اور کراچی کے تین قومی اسمبلی کے حلقوں سے امیدوار تھے، اور ابرار الحق شامل تھے، لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی پارلیمنٹ تک نہیں پہنچ سکا۔
پاکستان میں کئی اداکاروں نے سیاست میں قدم رکھا۔ تاہم، انہیں مطلوبہ پذیرائی نہیں مل سکی۔ میدان سیاست میں قسمت آزمانے والے پاکستانی اداکاروں کا مختصر تعارف یہ ہے۔
طارق عزیز :
معروف ٹی وی کمپیئر، مرحوم طارق عزیز نے 1997ء کے عام انتخابات میں حصّہ لیا اور کامیاب ہوئے۔ تاہم، سپریم کورٹ پر حملے کے تنازع کے سبب انہیں نا اہل قرار دے دیا گیا۔ پاکستانی ٹیلی ویژن کے مشہور زمانہ کوئز شو، ’’نیلام گھر ‘‘ سے شُہرت حاصل کرنے والے نامور اداکار، طارق عزیز پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے اور پھر پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، لیکن سیاست ان کو راس نہ آئی۔ طارق عزیز کی بطور اداکار پہلی فلم، سالگرہ تھی۔وہ اس دنیا فانی کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔
سیّد کمال :
سیدکمال لالی وڈ کے ایک کامیاب اداکار تھے۔ انہوں نے 1985ء کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کے خلاف قومی اسمبلی کی ایک نشست پر الیکشن لڑا اور ناکام رہے۔ مرحوم سید کمال بڑے انسان تھے۔ انہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کو اردو اور پنجابی زبان کی بہت اچھی فلمیں دیں ۔ ان کی طبیعت بھی سیاست سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ۔
کنول نعمان :
ٹی وی کی مشہور اداکارہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشست پر رُکن پنجاب اسمبلی بنی تھیں۔ وہ 2013ء سے 2018ء تک رکن صوبائی اسمبلی رہیں۔
مسرت شاہین :
پشتو اور اردو فلمز کی مشہور ہیروئن، مسرّت شاہین اداکاری کے میدان میں تو کامیاب رہیں، لیکن جب انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بنا کر سیاست شروع کی، تو وہ کامیابی حاصل نہ کر پائیں۔ انہوں نے دو مرتبہ انتخابی دنگل میں مولانا فضل الرحمٰن کے مد مقابل حصّہ لیا اور دونوں مرتبہ ناکام رہیں۔
تاج حیدر :
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، تاج حیدر کا شمار مُلک کے شائستہ اطوار سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے پی پی کے قیام کے ابتدائی دنوں ہی میں اس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ تاج حیدر کامیاب سیاست دان کے ساتھ کامیاب اداکار بھی رہ چُکے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی کے مشہور ڈراما سیریل، پروفیسر سمیت دیگر ڈراموں میں اداکاری کر کے اپنی فنکارانہ صلاحیتیں منوائیں۔
فوزیہ وہاب :
پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق رہنما، فوزیہ وہاب نے حسینہ معین کی ڈراما سیریل، کہر میں کرداراداکیا تھا۔ یہ ڈراما سیریل 1991ء-1992 ء میں آن ائیر ہوا اور اس کی کاسٹ میں فوزیہ وہاب کے علاوہ مرینہ خان، شکیل، جمشیدانصاری اور فریحہ الطاف شامل تھیں۔ فوزیہ وہاب 17مئی2012 ء کو جہان فانی سے کُوچ کر گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں