Beautiful legs and symmetrical legs

پاؤں کی حفاظت کیلئے چند مفید مشورے

EjazNews

سخت جلد
بعض خواتین یا مردوں کے پیروں کی جلد کسی جگہ سے بہت سخت ہو جاتی ہے۔ اس میں گٹے پڑ جاتے ہیں ۔ اگر ایسی صورت حال ہو گئی ہو تو کولوں کو روئی میں بھگو کر اس جگہ رگڑیں۔ وہ جگہ نرم ہو جائے گی۔
خوبصورت، ہموار اور صاف شفاف ٹانگیں بہت اچھی لگتی ہیں اس لیے آپ کو اپنی ٹانگوں پر پوری توجہ دینی چاہیے۔
مہینے میں دوبار اپنی ٹانگوں کا مساج کیا کریں۔ چوتھائی کپ دودھ، ایک چمچہ عرق لیموں کا، ایک چمچہ زیتون کے تیل میں ملا کر ٹانگوں پر مساج کیا کریں۔ یہ دوران خون کو تیز کر کے جلد کو چمکدار بنا دے گا۔ اس کے علاوہ نہانے کے بعد ٹانگوں پر بے بی آئل کی مالش کرنا کبھی نہ بھولیں اس سے جلد ہمیشہ نرم رہے گی۔
تھکن:
اگر آپ بہت دیر تک کام میں مصروف رہیں یا بہت پید ل چلیں تو ایسی صورت میں آپ کی ٹانگیں تھک جاتی ہیں اور اگر یہ صورت حال کچھ دیر تک برقرار رہے تو آپ بے سکونی اور بے چینی محسوس کرنے لگتی ہیں اور آپ نڈھال سی ہو جاتی ہیں۔
اس تھکن کو دور کرنے کا ایک بہت آسان نسخہ ہے۔ کرسی پر بیٹھ کر اپنے پیر کسی تسلے وغیرہ میں رکھ لیں۔ پھر تھوڑا گرم پانی پیروں پر ڈالیں پھرتھوڑا پانی ڈالیں پھر تھوڑا گرم، پھر تھوڑا ٹھنڈا پانی ڈالیں یہ عمل پانچ منٹ تک کریں آپ کی تھکان ختم ہو جائے گی۔
بازار میں بھی آپ کو کئی طرح کے ایسے لوشنز مل سکتے ہیں جو پیروں کی تھکان اتارنے کے کام آتے ہیں انہیں سوتھنگ لوشن کہتے ہیں۔ پیروں کی تھکن دور کرنے کا ایک دوسرا گھریلو نسخہ بھی ہے۔اور وہ ہے گرم پانی میں تھوڑا سا کھانے کا سوڈا یا نمک ملا لیں ۔ یہ لیں آپ کا نسخہ تیار ہوگیا۔ صرف اتنا ہی تیار کریں جتنا اس دن کی ضرورت ہو۔ دوسرے دن دوسرا پانی تیار کرلیں ۔ اب اس پانی میں تین منٹ تک اپنے دونوں پیر ڈبو ئے رکھیں۔ اب ایک نرم برش میں صابن لگا کر پیروں پر مساج کرنا شروع کریں۔ پھر پیروں پر ٹھنڈا پانی ڈال کر اسے تولیہ سےاچھی طرح خشک کر لیں۔ اب کاٹن کے موزے پہن کر کرسی پر بیٹھ جائیں دو یا تین کشن رکھ کر اپنے دونوں پیر اس پر رکھ دیں۔ کم از کم دس منٹ کے لیے ۔ اس طرح پیروں میں خون کی روانی بہتر ہو جائے گی اور آپ تھکان میں بھی بے حد کمی محسوس کریں گے۔
گٹے:
یہ گٹے سخت اور تنگ جوتے پہننے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
پیروں کی جلد سکڑ کر ایک جگہ جمعہ ہو جاتی ہے۔ یہ پرابلم پنجوں کے اگلے حصہ میں یادرمیان میں ہوا کرتی ہے۔ ان گٹوں کو خود سے ہٹانے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں اور تنگ جوتوں کا استعمال کریں۔
Coronation Comcap مارکیٹ میں دستیاب ہے ۔اسے استعما ل کریں آپ کو فوراً ہی آرام مل جائے گا۔ روئی کو Vitch hazel میں بھگو کر گٹوں پر لگائیں۔ یہ ٹھیک ہو جائیں گے۔
نئے جوتے عا م طورپر کاٹتے ہیں اس کی وجہ سے گٹے نمودار ہوتے ہیں اگر بالکل صحیح سائز کے جوتے لیے جائیں تو پھر یہ پرابلم پیدا نہیں ہوتی ۔ اگر آپ کے پیروں میں پہلے سے گٹے موجود ہیں تو آپ Liquid Corn Removerاستعمال کر سکتی ہیں۔
ٹھنڈے پائوں:
بہت سی خواتین کو اس کی بھی شکایت ہوتی ہے ۔ ان کےپائوں جسم کے درجہ حرارت کے مقابلے میں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ لہٰذا بستر پر جانے سے پہلے پیروں پر زیتون کے تیل کی مالش کرلیں اور کاٹن کے موزے پہن کر پیروں کو گرم رکھیں۔
سوجن:
حاملہ خواتین اور زیادہ عمر کی خواتین کے پیروں میں عام طور پر سوجن ہو جاتی ہے۔ انہیں اپنے پیروں کوگرم اور ٹھنڈے پانی سے دھوتے رہنا چاہیے۔ اگر ورم زیادہ ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ کیونکہ بعض اوقات دل اور پھیپھڑے کی کسی خرابی کی وجہ سے بھی پیروں پر ورم آسکتا ہے اس لیے ڈاکٹر ہی چیک اپ کر کے صحیح مشورے دے سکے گا۔
کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنے پیروں کو لٹکائے رکھنے سے گریز کریں بلکہ انہیں کسی چیز یا کشن پر رکھ لیا کریں۔ اس طرح سوجن نہیں ہوگی ۔ تولیہ کو خوب ٹھنڈے پانی میں بھگو کر پیروں پر لپیٹ دیں۔ اس سے بھی آپ کو آرام مل جائے گا۔
خارش:
اگر آپ کے پیروں میںخارش ہو رہی ہے تو پانی میں تھوڑا سا سرکہ ملا کر اپنے پیروں کو کچھ دیر پانی میں ڈبو ئے رکھیں۔ خارش سے نجات مل جائے گی۔
ایگزیما:
یہ ایک موذی بیمار ہے۔ اس کے علاج کی خود کوشش نہ کریں۔ بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ تلسی کے پتوں کا عرق بھی اس کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔
پھپھوندی:
یہ ایک طرح کی پھپھوندی نما انفیکشن ہے اور موذی مرض ہے اس مرض میں پنجوں میں خارش اور سوزش ہونے لگتی ہے۔ کبھی کبھی کھجانے کی وجہ سے پانی بھی نکلنے لگتا ہے اور سوزش میں اضافہ ہو تا چلا جاتا ہے۔
یہ تکلیف اس وقت بڑھ جاتی ہے جب آپ کے پائوں کسی گرم چیز سے ٹچ ہوتے ہیں ، ان کو تازہ ہوا نہیں ملتی یا پیروں میں پانی لگتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے تو پیروں کو خشک رکھنے کی کوشش کریں۔ خاص طور پر نہانے کے بعد خوب اچھی طرح خشک کرلیں اور جہاں تک ممکن ہو اپنے باتھ روم، ٹوائلٹ اور چپلوں کو بالکل خشک رکھیں۔
یہ پرابلم خواتین کے ساتھ اس لیے زیادہ ہوتی ہے کہ انہیں زیادہ دیر تک پانی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ یعنی وہ گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی ہیں اور پیروں میں پانی لگتا رہتا ہے۔
انگلیوں کے درمیان اینٹی سیپٹک پائوڈر کا چھڑکائو کریں۔ نہ صرف پیروں پر بلکہ موزوں اور جوتوں پر بھی۔ ا س کے علاوہ پیروں کو پوٹاشیم پر میگنٹ کے پانی سے دھونا بھی بہت آرام دیتا ہے۔
غیر ضروری بال:
ٹانگوں پر غیر ضروری بالوں کی موجودگی بہت بری محسوس ہوتی ہے۔ان بالوں کو صاف کرنے کے لیے ویکسنگ کروائی جاسکتی ہے۔ مہینے میں ایک بار ضرور کرالیا کریں۔ لیکن خود سے نہیں بلکہ کسی بیوٹیشن کے ہنر مند ہاتھو ں سے۔ اس طرح آپ کو تکلیف کم سے کم ہوگی۔
نہاتے وقت پف کو صابن میں بھگو کر ٹانگوں پر دائرے کی صورت میں رگڑ کر انہیں صاف کریں۔
بعض خواتین ان بالوں کو شیونگ ریزر کے ذریعے صا ف کرتی ہیں۔یہ بہت غلط طریقہ ہے۔ اس عمل کے بعد پہلے سے زیادہ سخت بال نمودار ہو جاتے ہیں۔ ویکسنگ سب سے بہتر ہوتی ہے۔
صبح اٹھ کر اگر ممکن ہو تو گیلی گھاس پر ننگے پائوں چلا کریں۔ ا س سے نہ صرف آپ کی ٹانگوں کے عضلات مضبوط ہوں گے بلکہ آپ کی نگاہ بھی تیز ہو جائے گی۔
گھٹنے:
اس مقام کی جلد جسم کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوتی ہے اور یہا ں میل بھی آسانی سے جمع ہو جاتا ہے میل جمع ہونے پر گھٹنے سیاہ دکھائی دینے لگتے ہیں اگر ایسا ہو جائے تو لیموں کا رس اورکھیرے کا رس ملا کر اسے گھٹنوں پر ملیں اور سونے سے پہلے گھٹنوں پر کولڈ کریم کی مالش کر لیا کریں ۔ آپ کے گھٹنے ہمیشہ خوبصورت دکھائی دیں گے۔
حرا تمکین

اپنا تبصرہ بھیجیں