Quran

قرآن پڑھنے کی فضیلت

EjazNews

1۔رسول اللہ ﷺنے ایک بار نوفل ؓکو فرمایا: ’’رات کو سوتے وقت قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکَافِرُوْنِ پڑھا کرو، یہ شرک سے آزاد کرنے والی سورت ہے۔ (ترغیب۶۰۲:)۔
2۔سیدنا معاذ بن عبداللہ بن خبیبؓ اپنے والد عبداللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بارش والی اندھیری رات میں ہم رسول ﷺکو بلانے گئے تاکہ آپ ﷺہمیں نماز پڑھائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ تم سورئہ اخلاص، سورئہ فلق اور سورئہ الناس کو صبح و شام پڑھا کرو (تین تین بار) تمہیں ہر چیز سے کافی ہوں گی۔ (صحیح ترغیب۶۴۳:)۔
3 ۔فرمانِ رسولِ الٰہی ہے: ’’جو شخص جمعہ کے دن سورئہ کہف پڑھتا ہے تو اس کے لئے اگلے جمعے تک نور روشن رہتا ہے‘‘۔ (ترغیب)۔
4۔جو شخص ’’قُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَد‘‘ مکمل دس مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں محل بنائے گا۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے سوال کیا اے اللہ کے رسول e! پھر ہم تو بہت زیادہ یہ عمل کریں گے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ بھی کثرت اور بہتر دینے والا ہے (صحیح الجامع)
5۔پیارے نبی ﷺنے فرمایا: جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتا ہے تو اس کو جنت میں جانے سے صرف موت روک رہی ہے۔ (صحیح الجامع:۶۴۶۴)۔
6۔پیارے نبی ﷺنے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص ہر رات ایک تہائی قرآن نہیں پڑھ سکتا؟ صحابہ کرام y نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺکون ہے جو یہ طاقت رکھتا ہو؟ فرمایا: سورئہ اخلاص ایک تہائی قرآن کی مانند ہے۔ (صحیح بخاری ۵۰۱۵)۔
7۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص ایک حرف کتاب اﷲ میں سے پڑھے گا اس کو ایک نیکی ملے گی۔ اور ایک نیکی دس نیکیوں کی مانند ہو گی میں یہ نہیں کہتا کہ ’’الٓمٓ ایک حرف ہے بلکہ ’’الف‘‘ ’’لام‘‘ اور ’’میم‘‘ تین حروف ہیں۔ (صحیح الجامع۶۴۶۹:)۔
8۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’قرآن پڑھا کرو بے شک یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا‘‘۔ (صحیح مسلم:۸۰۴)۔
9۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص قرآن کا ماہر ہے وہ تو قیامت کے دن عظیم ترین فرشتوں کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر مشقت سے پڑھے اس کے لئے دوہرا اجر و ثواب ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)۔
10۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’قرآن میں تیس آیتوں والی ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی حتی کہ اسے بخشوا لے گی، وہ سورئہ ملک ہے‘‘۔ (ابوداود:۱۴۰۰)۔
11۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص دس آیتوں کے ساتھ قیام اللیل کرے گا تو اسے غافلوں میں سے نہیں لکھا جائے گا۔ جو شخص ایک سو آیتوں سے قیام کرے گا، اس کو ’’قانتین‘‘ میں سے لکھا جائے گا۔ ہزار آیات پڑھنے والے کو خزانہ جمع کرنے والوں میں سے لکھا جائے گا‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں