Umro Ayar

عمروکی عیاری کالباس

EjazNews

امید بزرگ سفر کرتا ہوا مکہ کے قریب پہنچا اور شہر کے باہر ٹھہرا۔ اتفاق سے اس دن عمرو سیر کے لئے صحرا کو نکلا تھا اور گھومتا پھر رہا تھا۔ امیدبزرگ نے عمروکودیکھ کر پہچان لیا۔ کیونکہ بزرجمہرنے اپنے بیٹے کو عمرو کا پورا حلیہ بناکر دیا تھا۔ اس وقت امید بزرگ اونٹ پر سوار تھے ۔وہ اونٹ سے اتر آئے اور پیدل چلنے لگے۔ جب عمرو کے قریب پہنچے تو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور گلے لگا کر کے اس کے بعد وہ عمرو کو لے کر اپنےخیمے میں آئے اور کہنے لگے ہم اور تم دونوں بھائی ہیں ۔عمرو حیران ہوکر کہنے لگا، کیوں گلے پڑتے ہو۔ میں تو تم کو جانتا ہی نہیں اور تم میرے بھائی بن رہے ہو۔ کہیں لوٹنے کا ارادہ تو نہیں ہے۔ امید بزرگ نے کہا ’’کیسی باتیں کرتے ہو۔ میں بزرجمہر کا بیٹا ہوں اور وہ تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہیں۔ اس طرح ہم دونوں بھائی ہوئے، عمرونے بات سمجھ کر کہا۔’’اچھا یوں ہوتا۔ پہلے بتادیتے تو میں تم پرشک نہ کرتا‘‘ ۔ انہوں نے کہا۔ ” پہلے کیسے بتا تا ابھی میں نے ایک جملہ ہی کہا تھا کہ تم بگڑنے لگے۔ اب پوری بات سنو عمرو نے کہا۔ ”نا“ امید بزرگ نے کہا”والدنے تمہارے لئے عیاری کا لباس بھیجا ہے،عمرو بڑا خوش ہوا اور لباس کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ مگر اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس لباس کو پہنا کس طرح جاتا ہے۔ امید بزرگ نے ایک ایک کر کے سب چیزیں عمروعیارکو پہنائیں۔ سر پر چھوٹا سا تاج رکھا اس پر خوشبودار پرلگایا۔ اپنا خنجر عمرو کی کمر کے ساتھ باندھا ا سے چوالیس رنگ کی رنگ برنگی پٹیاں کر کے ساتھ باندھیں اور عیاری کے تمام اوزار پہنائے۔ ماتھے پر دھوپ سے چننے کے لئے آفتاب باندھا۔ ایک چھوٹا سا صندوق ہاتھ میں دیا اور پانی کا مشکیزہ کندھے سے لگایا۔ چارم کی تلوار میں کمر سے لگائیں اور عیاری کی چادر جو جال کی طرح تھی اور اس کے باندھنے کے لئے ریشم کی ڈوری ساتھ دی۔
چارسو چوالیس (444) عیاری کی چیز میں عمرو کو پہنا کر آخر میں اسے زم اور آرام دہ جوتا پہنایا۔ عمرو ایسی چیزیں پا کر بہت خوش ہوا اور امید بزرگ سے کہا ”بابابزرجمہر بہت اچھے ہیں کہ انہوں نے میرے لئے اتنی قیمتی چیز یں اور اتنا قیمتی لباس بھیجا ہے۔ امید بزرگ نے کہا اب تم جاؤ۔ امیرحمزہ کو لے کر آؤ کہ ان کوبھی ان کی چیزیں دوں‘‘۔عمرو نے امید بزرگ کا شکریہ ادا کیا اور گھر کی طرف چلا ۔گھرجاتے عمروکو عیاری کے لباس پہنے ہوئے شریر طبیعت کو کوئی نئی شرارت سوجھ رہی تھی،راستہ بھر وہ سوچتا رہا۔ آخر گھر پہنچا۔ امیرحمزہ نے ٹھاٹھ باٹھ دیکھے تو بولے یہ اتنی دیر سے کہاں تھے اور یہ لباس کہاں سے لے آئے، عمرو نے کہا میری یہاں قدر نہیں ہے۔ ورنہ جس کے پاس رہوں گا وہ مجھے اسی طرح رکھے گا۔ نوشیرواں کے بیٹے بزر جمہر نے میری تعریف سنی تو اس نے اسی وقت مجھے ملازم رکھ لیا اور ایک ہزار روپیہ میری تنخواہ مقرر کردی اور میرے لئے اتنا قیمتی لباس بھیجا ہے۔ میں آپ کے پاس رخصت ہونے کے لئے آیا ہوں۔ آپ کیا کہتے ہیں۔ امیر حمزہ جانتے تھے کہ عمرو میں بہت صلاحیتیں ہیں اور یہ جہاں بھی جائے گا وہاں اس کی بہت قدر ہوگی۔ امیر حمزہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگے۔ اے عمرو میں تجھ کو اپنا بھائی جانتا ہوں اور خودمیں اورتم میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔ میرے نوکر نہیں بھائی ہو اور بھائی ہونے کی وجہ سے تم سے باتیں کہہ لیتا ہوں۔ اب اگر تم کوئی نوکری کرنا چاہتے ہو تو ہزار روپے کیا چیز ہیں میں تمہیں پانچ ہزار روپے دوں گا۔ دولت کے لئے ہر جائی مت بنو، اپنے ملک میں رہو۔ اس میں بڑی بد نامی ہے کہ روپے کے لئے اپنا ملک چھوڑ جاؤ اور دوسروں کے نوکر بن کر رہو۔ عمرو نے جو امیر حمزہ کے خیالات اپنے بارے میں سنے تو بے اختیار ہو کر رونے لگا اور امیر حمزہ کے ’’ پیروں پرسررکھ کے معافی مانگنے لگا اور کہنے لگا۔ امیر میں تمہاری قسم کھا کے کہتا ہوں کہ عمروکی عیاری کا لباس اگر بڑے سے بڑا بادشاہ بھی آجائے اور ہزار روپے روز کی تنخواہ مقررکرے تو جب بھی میں آپ کی غلامی نہیں چھوڑوں گا اور مجھ ناچیز کوآپ اپنے وفادار غلام کے علاوہ اور کچھ نہ سمجھیں، میں آپ کا غلام ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔ اس وقت تو میں نے ہی مذاق میں یہ سب کچھ کہا ہے اور میرے مذاق سے آپ دکھی ہو گئے۔ یہ لباس اور یہ سب چیز یں میرے لئے خواجہ بزرجمہر نے بھیجی ہیں۔ ان کا بیٹاامید بزرگ یہ سب لے کر آیا ہے۔ یہاں سے دو کوس دور وہ ٹھہرا ہوا ہے۔ آپ کے لئے خواجہ بزرجمہر نے ایک جھنڈا، جس کا نام علم اژدھا‘‘ ہے بنا کر بھیجا ہے۔ اس جھنڈے کے ساتھ حضرت دانیال کی ایک یادگار بھی آپ کے لئے لائے ہیں اور نوشیرواں بادشاہ نے معافی نامہ اور آپ کے لئے خلعت بھی بھیجا ہے۔ آپ سوار ہوں اور اس کے استقبال کے لئے چلیں کہ بادشاہ کی خلعت کی عزت کرنا ضروری ہے اور خواجہ بزر جمہر کے بیٹے بھی خوش ہوں گے کہ آپ ان کے استقبال کو آئے اور انہیں عزت دی۔ امیرحمزہ اسی وقت اپنے دوستوں کے ساتھ سوار ہو کر گئے اور امید بزرگ سے ملاقات کی۔ انہوں نے امیر حمزہ کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور بادشاہ کا خلعت امیر حمزہ کو پہنایا اور بادشاہ کا معافی نامہ دیا۔ امیر حمزہ نے اسے پڑھا اور اپنے دوستوں کو سنایا سب نے امیرحمزہ کو مبارکباد دی۔ امید بزرگ علم اژدھا اور یادگار حضرت دانیال امیر حمزہ کودیئے۔ امیر حمزہ دونوں چیزوں کو لے کر مکہ کی طرف چلے اور امید بزرگ کوبھی ساتھ لائے ۔ کئی دن تک ان کی خاطر مدارت کی۔ کچھ دنوں بعد امید بزرگ نے کہا اب چلنا چاہئے۔ بادشاہ آپ کے آنے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ امیر حمزہ اپنے والد حضرت عبدالمطلب کے ساتھ بیت اللہ شریف گئے ، طواف کیا اور گھر واپس آئے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں