plan_crash

کراچی طیارہ حادثہ عبوری رپورٹ پیش:پائلٹ کے حد سے زیادہ خوداعتمادی کے باعث حادثہ پیش آیا:وفاقی وزیر

EjazNews

قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ 72سال میں 12واقعات ہوئے جن کی بروقت انکوائری نہیں ہوئی لوگ آج تک جان نہیں سکے کہ ان حادثات کے ذمہ دار کون تھے۔ جبکہ کراچی طیارہ حادثے کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دیا ، انکوائری کمیشن نے طیارے حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے دن رات کام کیا۔
ان کا کہناتھا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بدقسمت طیارہ پرواز کے لیے 100 فیصد ٹھیک تھا اس میں کسی قسم کی کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔ کرونا وائرس کی وجہ سے پروازیں معطل تھیں اور 7 مئی کو اس طیارے نے پہلی فلائٹ لی اور 22 مئی کو حادثے کا شکار ہوا، اس دوران 6مرتبہ کامیاب پروازیں مکمل کی تھیں جن میں 5پروازیں لاہور سے کراچی اور کراچی سے لاہور واپسی کے لیے تھیں اور ایک شارجہ کے لیے تھی۔ دونوں پائلٹس، کیپٹن اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے اور طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ بھی تھے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے فائنل اپروج پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی تھی جب وہ لینڈنگ پوزیشن میں آیا تب بھی کسی خرابی کی نشاندہی نہیں۔ رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر طیارے کو تقریباً 2 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہیے تھا جبکہ ابتدائی تحقیقات اور ریکارڈ کے مطابق جہاز اس وقت 7 ہزار 220 فٹ کی بلندی پر تھا یہ پہلی بے قاعدگی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وائس ریکارڈڈ ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) نے 3 مرتبہ پائلٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اس کی اونچائی ابھی بھی زیادہ ہے اور پائلٹ سے کہا گیا کہ لینڈنگ پوزیشن نہ لیں بلکہ ایک چکر اور لگا کر آئیں لیکن پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو نظرانداز کیا۔ اور یہ ڈیٹا اینٹری ریکارڈر میں بھی موجود ہے کہ رن وے سے 10 ناٹیکل مائلز کے فاصلے پر طیارے کے لینڈنگ گیئرز کھولے گئے لیکن ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب جہاز 5 ناٹیکل مائلز پر پہنچا تو لینڈنگ گیئرز واپس اوپر کرلیے گئے۔ جہاز کو رن وے پر لچکدار پوزیشن دی جاتی ہے کہ 1500 سے 3000 فٹ پر لینڈ کرسکتا ہے، رن وے کی لمبائی 1100 فٹ ہوتی ہے اور اصولاً طیارے کو 1500 سے 3000 فٹ پر ٹچ ڈاؤن کرنا چاہیے۔ لینڈنگ گیئرز کے بغیر حادثے کا شکار طیارے نے 4500 فٹ پر انجن پر 3 مرتبہ ٹچ ڈاؤن کیا اور 3 ہزار سے 4 ہزار فٹ تک رن وے پر رگڑ کھاتا رہا جس میں انجن کو کافی حد تک نقصان پہنچا، اسی دوران پائلٹ نے دوبارہ جہاز کو اڑالیا جبکہ انہیں کوئی ہدایات نہیں دی گئی تھیں نہ پائلٹ نے کوئی ہدایات لی تھیں جس میں دونوں جانب سے کوتاہی تھی۔ اس میں اے ٹی سی کی بھی کوتاہی ہے کہ جب انہوں نے طیارے کو انجن پر ٹچ ڈاؤن کرتے دیکھا اور آگ نکلتے دیکھی تو انہیں بھی آگاہ کرنا چاہیے تھا لیکن کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو بھی آگاہ نہیں کیا اور پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ ٹیک آف کرلیا۔
ان کے مطابق زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ پائلٹ کو پائلٹ کے اوور کانفیڈنس سے حادثہ ہوا کیبن کریو، اے ٹی سی کی بھی ذمہ داری بنتی ہے، ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا اور رواں سال تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں