عمرو کا انتقام

عمرو کا انتقام

EjazNews

اب یہ تینوں لڑکے گیارہ گیارہ سال کے ہوگئے تھے۔ ایک دن امیر حمزہ نے دیکھا کہ کچھ لوگ لوگوں کو مار رہے ہیں، انہوں نے کہا ”جاو¿، عمر ومعلوم کر کے آو کیا بات ہے۔ عمرو پوچھ کر آیا اور بتایا کہ یہ لوگ حشام بن علقمہ خیبری کے لئے خراج جمع کررہے ہیں۔ امیر حمزہ نے کہا مگر اس علاقے کا خراج تو ایران کے بادشاہ نوشیرواں لیتے ہیں۔ چلوحشام کو خراج لینے سے منع کرتے ہیں۔ امیر حمزہ نے حشام سے بات کی تو وہ الٹا لڑنے لگا کیونکہ وہ نوشیرواں کا تخت و تاج لے آیا تھا۔ امیرحمزہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ حشام کا مقابلہ کیا ،حشام میدان جنگ میں حمزہ کے ہاتھوں مارا گیا اور امیر حمزہ نے نوشیرواں کا تخت و تاج لے لیا۔ اب امیر حمزہ نے نوشیرواں کو خط لکھا کہ میں نے آپ کے دشمن کو مار کے آپ کا تخت و تاج لے لیا ہے۔ اگر حکم ہوتو میں خود لے آﺅں ورنہ جیسا آپ حکم کریں اس طرح کروں۔ یہ خط انہوں نے مقبل کے ہاتھ بھیجا مقبل نے امیر حمزہ کا خط نوشیرواں تک پہنچایا تونوشیرواں بہت خوش ہوااس نے اپنے وزیر اعظم بختک کو ایک خط دیا اور بہت قیمتی خلعت بھی دی اور کہا”یہ امیر حمزہ کو بھیج دو۔بختک نے قاصد کے ہاتھ ایک تو ہین سے بھرا خط اور نہایت بری خلعت بھیجی۔
امیر حمزہ کو جب معلوم ہوا کہ نوشیرواں کے دو قاصد خط اور خلعت لائے ہیں تو انہوں نے قاصدوں کا استقبال کیا اور اپنے لشکر میں لائے۔ دوسرے دن قاصدوں نے خط اور خلعت پیش کیا تو امیر حمزہ کو بہت زیادہ غصہ آیا۔ انہوں نے کہا ہم نوشیرواں کے لئے جان قربان کریں اور وہ ایسا خط اور خلعت بھیجیں“۔ خواجہ عبدالمطلب نے امیر حمزہ کو سمجھایا کہ غصہ نہ کریں۔ دشمنوں نے کوئی چال چلی ہے۔ امیر حمزہ کا غصہ تو ٹھنڈا ہو گیا۔ عمرہ کا انتقام، عمرو کا غصہ اپنی جگہ پرتھا بلکہ بڑھتا جارہا تھا۔ اسے اس بات پر غصہ تھا کہ یہ لوگ امیر حمزہ کے لئے ایسا براخلعت کیوں لائے ہیں۔ دوسرے روز جب خواجہ عبد المطلب نے قاصدوں کی دعوت کی تو عمرونے دو تھالیاں لاکر رکھ دیں جو ڈھکی ہوئی تھیں اور قاصدوں سے کہا ”ان تھالیوں میں آپ لوگوں کا کھانا ہے۔ انہوں نے تھالیوں پر سے کپڑے ہٹا کر دیکھا تو ایک تھالی میں ہری ہری گھاس اور دوسری میں ہڈیاں تھیں۔ قاصدوں کو بہت غصہ آیا اور دوسرے لوگ حیران ہوئے اور عمرو سے پوچھنے لگے۔ تم نے یہ کیا حرکت کی۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ عمرو نے کہا ”ان قاصدوں کے نام بہمن خزاں اور بہمن سگاں ہیں۔ خزاں کا مطلب گدھے اور سگاں کا مطلب کتے ہیں۔ جو کھانا گدھے اور کتے کھاتے ہیں، میں نے ان کو وہی تو دیا ہے۔ اس میں برا کیا ہے۔ لوگوں نے دینا تو بہت ہے اور قاصدوں کے ناموں کا خوب مذاق اڑا۔
قاصدوں نے عمر وکو مارنا چاہا مگر پھر یہ سوچ کر چپ ہوگئے کہ اس بدتمیز سے بات نہیں کرنا چاہئے۔ جب خواجہ عبد المطلب کے دیئے ہوئے کھانے کو قاصدکھا چکے تو عمرو مخمل کے دوڈبے لا کر رکھے ،ایک میں سے گدھے کا پالان نکال کر بہمن خزاں پر ڈالا اور دوسرے میں سے کتے کی جھول نکال کر بہمن سگاں پر ڈال دی۔ ان دونوں نے اپنے خنجر نکال کر عمرو پر حملہ کر دیا ۔عمر ونے کہا تمہارے لائق جوخلعت تھی وہی میں نے تمہیں دی ہے اگر تم لڑنا چاہتے ہو تو لڑو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا“۔ امیر حمزہ کے ساتھیوں نے دونوں قاصدوں سے خنجر چھین لئے اور عمرونے مکے مار مار کر ان کے سر خون خون کردیئے۔ یہ دونوں اپنے گھوڑوں پر سوار ہوکر اپنے لشکر کی طرف چلے تو عمرو بھی اپنے ساتھی لڑکوں کو لے کر ان کے پیچھے چل پڑا۔ راستے میں تربوز، اور خربوزہ کے چھلکے، انڈوں کے چھلکے ،کیچڑ، پتھر اور ڈھیلے ان کو مارتا گیا۔ بچے ان کے پیچھے شور مچا رہے تھے اور ان کو تنگ کررہے تھے۔ وہ دونوں بڑی مشکل سے اپنے لشکر پہنچے اور اسی دن ایران چلے گئے۔
خواب عبدالمطلب نے عمرو سے کہا تم نے یہ حرکت اچھی نہیں کی۔ قاصدوں کی بے عزتی کی۔ کتے کو ویسے بھی لوگ اچھا نہیں سمجھتے۔ نوشیرواں کو پتہ چلے گاتو وہ بہت ناراض ہوگا۔ امیر حمزہ نے بادشاہ کو لکھا کہ میں نے آپ سے وفاداری کی اور آپ نے ایسا خط اور خلعت دیا۔ یہ دونوں چیزیں اپنے خط کے ساتھ دیں۔ دونوں قاصدوں نے نوشیرواں کو جا کر اپنی بے عزتی بتائی تو نوشیرواں کو بہت غصہ آیا وہ ابھی غصہ ہی کررہے تھے کہ امیر حمزہ کا بھیجا ہوا آدی خط اور خلعت لے آیا اور نوشیروان کو دیا۔ نوشیرواں خط اور خلعت دیکھ کر اپنے وزیراعظم بختک پرناراض ہوئے اور امیر حمزہ کو معذرت کا خط لکھا کہ بختک نے ایسی حرکت کی اب میں نے بزرجمہر کے بیٹے امید بزرگ کو خلعت دے کر بھیجا ہے ،اب تم تخت و تاج کو لے کر آﺅ۔ بزرجمہر نے امیرحمزہ کے لئے ایک خاص جھنڈا بنا کر دیا اور عمرہ کے لئے ایک خاص قسم کالباس دیا۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں