Beautiful legs and symmetrical legs

خوبصورت پیر اور سڈول پنڈلیاں

EjazNews

نرم گداز پیر اور خوبصورت ٹانگیں
یہ عام طورپر دیکھاگیا ہے کہ خواتین اپنے پیروں کی طرف اتنی توجہ نہیں دیتیں جتنی جسم کے دیگر حصوں پر دیا کرتی ہیں۔ خواتین آئینے کے سامنے گھنٹوں بیٹھ کر اپنے چہرے کو تو سنوارتی رہتی ہیں لیکن پیروں کی طرف ان کا دھیان نہیں جاتا۔ وہ ان پر توجہ دینا وقت کا زیادہ سمجھتی ہیں۔ نہاتے ہوئے پیروں کو مکمل طور پر صاف بھی نہیں کرتیں وہ یہ سمجھتی ہیں کہ پیروں کی طرف کون دھیان دیتا ہے اور ٹانگیں تو ویسے ہی چھپی رہتی ہیں لیکن یہ غلط طریقہ عمل ہے۔
یہ درست ہے کہ پیروں اور ٹانگوں پر توجہ اوران کو خوبصورت بنانا آپ کے نزدیک اتنا اہم نہ ہو جتنا آپ کا چہرہ ہوا کرتاہے۔لیکن یاد رکھیں کہ صحت کے نقطہ نظر سے یہ بہت ضروری ہے۔
پیر آپ کے جسم کا بہت اہم حصہ ہیں۔ کیونکہ یہی آپ کا ہر جگہ لیے پھرتے ہیں۔ آپ کو جب تھکان محسوس ہوتی ہے تو پیروں اور ٹانگوں کے ذریعے ہوتی ہے اور یہی تھکان آپ کے چہرے پر دکھائی دینے لگتی ہے۔ پھر آپ کام کرنے اور ادھر ادھر جانے میں بھی پریشانی محسوس کرتی ہیں۔ آپ کی چستی ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ اپنے آپ کو چست رکھنا چاہتی ہیں تو ان پربھی بھرپور توجہ دیں۔
پیڈی کیور (Pedicure):
پیروں اورناخنوں کی صفائی ستھرائی کے عمل کو پیڈی کیور کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں پیروں کو اچھی طرح صاف کرتے ہیں اور ناخنوں کو سلیقے سے تراش کر Shapeدیا جاتا ہے یہ ا یک آسان عمل ہے۔ اس کے لیے آپ کو کسی بیوٹی پارلر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ گھر پر بھی کر سکتی ہیں۔ ہاں البتہ آپ کے پیر بہت زیادہ خراب ہوگئے ہو ں تو پھر کسی بیوٹی کلینگ میں جاسکتی ہیں۔
پہلے طریقہ کار کو سمجھیں ۔ مطلوبہ چیزیں اپنے سامنے رکھیں اور پیروں پر پیڈی کیورنگ کا عمل شروع کر دیں۔
ضروری اشیا:
گرم پانی سے بھرا ہوا ایک برتن ، صابن، نیل پالش، نیل پالش ریموور، نیل بفر، اسکرب کریم ، نیل ، فائلر، نیل کٹر اورنج اسٹک ، کولڈ کریم ، کاٹن تولیہ اور اسفنج۔
طریقہ کار:
روئی کو نیل پالش ریمور میں بھگو کر ناخنوں پر پہلے سے لگی ہوئی نیل پالش اتار لیں۔ نیل پالش صاف کرنے کا عمل ہاتھوں کی دائر ے نما حرکت سے کریں اس کے بعد نیل کٹر کے ذریعے ناخنوں کو تراش لیں۔ ناخنوں کو ہمیشہ سیدھا کاٹا کریں ۔ اس طرح ناخنوں کے کنارے نہیں رہ پائیں گے۔ ورنہ یہ کنارے چپل یا جوتے وغیرہ پہنتے ہوئے آپ کو تکلیف دیں گے۔
اب نیل فائیلر کے ذریعے ناخنوں کو ہموار کر لیں اس کے بعد ناخنوں پر کریم لگائیں اور پیروں کو گرم پانی میں ڈبو دیں۔ 10-15منٹ تک پانی میں ڈبو ئے رکھیں۔ اس کے بعد پیروں کو باہر نکال کر انہیں صاف کرنے کے لیے اسفنج سے رگڑیں۔ اس کے بعد ناخنوں پر کولڈ کریم سے مساج کریں۔
مساج کرنے کے بعد روئی سے ناخنوں کو صاف کریں اس کے بعد نیل بفر سے ناخنوں کو دوبارہ ہموار کریں اس عمل سے ناخنوں کے سخت کنارے نرم ہو جائیں گے اورناخن بھی چمکنے لگیں گے ۔
اب اسکرب کریم سے پیروں پر مساج کریں۔ پھر گیلے اسفنج سے پیروں کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اورنج اسٹک سے ناخنوں کے کنارے اور اندرونی حصوں کو صاف کر لیں۔
اورنج اسٹک سے ناخنوں کو صاف کرنے کے بعد روئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے انگلیوں کے درمیان رکھ کر نیل پالش لگانا شروع کر دیں۔ اس طرح نیل پالش پھیلے گی نہیں اور انگلیوں پر نہیں لگتی۔ اس کے بعد پانچ منٹ کے لیے رک جائیں پھر نیل پالش کا دوسرا کوٹ لگائیں۔ لیجئے ہو گئی آپ کے پیروں کی پیڈی کیورنگ۔
اپنے پیروں کی قدرتی دلکشی بحال رکھنے کے لیے انہیں صابن اور جھانوے یا نرم برش کے ذریعے رگڑ رگڑ کر روزانہ صاف کیا کریں۔ آپ کو روزانہ ناخنوں کو تراشنے کی ضرورت تو نہیں لیکن اورنج اسٹک کے ذریے اس کی صفائی ضرور کرلیا کریں کیونکہ ناخنوں میں روزانہ میل جمتا رہتا ہے۔
مسائل:
جسم کے دیگر حصوں کی طرح پیروں کے بھی مسائل ہیں جیسے کہ پسینہ آنا، پاﺅں کا ٹھنڈا ہوجانا، سجن، خارش ، ایگزیما، پھپھوندی اور گٹے پڑنا۔ ان تکالیف کو معمولی سمجھ کر نظر انداز مت کیجئے فوراً کسی ماہر ڈاکٹر سے اس کا علاج کروائیے۔ ہاتھوں اور پیروں میں پسینہ آنا تکلیف دہ نہیں ہے لیکن اسی کی وجہ سے آپ خود کو بے چین اور گندا محسوس کرنے لگتی ہیں۔
بعض لوگوں کے پیر پسینے میں بھیگتے رہتے ہیں۔ اس طرح اور کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے پیر سخت اور سن ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں کو کھلے منہ کے جوتے پہننے چاہیے۔جوتے پہننے سے پہلے پیروں پر تھوڑا سا کارن فلور ڈال لیں پھر تھوڑا سا ٹالکم پاﺅڈر چھڑک لیں۔ اگر اس کے باوجود پسینے کی شکایت ہو تو دن میں تین چار بار خوب اچھی طرح دھو لیا کریں۔
جہاں تک ممکن ہو نائیلون کے موزے پہننے سے گریز کریں۔ کاٹن کے موزے بہت آرام دو ہوتے ہیں اس کے علاوہ ایک مرتبہ موزے پہننے کے بعد دھوئے بغیر دوبارہ نہ پہنیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں