islam-light

نفاق اور اس کی اقسام

EjazNews

منافقت کی دو اقسام ہیں۔ ایک اعتقادی منافقت اور دوسری عملی منافقت۔
(الف) اعتقادی منافقت کا مطلب ہے کہ ظاہراً مسلمان ہوا جائے اور باطنی طور پر کفر پر رہا جائے۔ اس منافقت کی چھ اقسام ہیں۔
1 رسول اللہ ﷺکو جھٹلانا۔ 2 یا شریعت محمدی ﷺکی تکذیب کرنا۔ 3 رسول اللہ ﷺسے بغض رکھنا۔ 4 یا شریعت میں سے کسی ایک حکم سے بعض رکھنا۔ 5 دین اسلام کی کمزوری یا مسلمانوں کی شکست پر خوشی منانا۔ 6دین اسلام کی مدد کرتے وقت ناپسندیدگی کرنا۔
(ب) نفاق عملی کی پانچ انواع حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔
منافق کی پانچ نشانیاں ہیں: 1 بات کرے تو جھوٹ بولے۔ 2 وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ 3 امانت کرے تو خیانت کرے۔ 4 جھگڑا کرے تو گالی دے۔ 5معاہدہ کرے تو غداری کرے۔
شرک کے خطرات
اے اللہ کے بندو! اللہ تمہیں راہِ حق پر چلائے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ جس چیز سے منع کیا ہے وہ شرک ہے۔ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ اس گناہ پر دنیا و آخرت کی تمام تر سزاؤں کو مقرر کیا گیا ہے۔ شرک کی بنیاد پر ہی تو مشرکوں کا خون کرنا جائز، ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنانا درست قرار پاتا ہے۔ توبہ کے بغیر یہ گناہ کبھی معاف نہیں ہوتا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش دے گا‘‘۔
شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ یہ اللہ رب العالمین کی توہین ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حق کو غیروں کے لئے ادا کرنا ہے۔ یہ بڑی ناانصافی ہے۔ بے شک مشرک تو اللہ تعالیٰ کے خالق و مالک ہونے کی نفی کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے تکبرانہ روگردانی کرتا ہے۔ خالق کی صفات کو مخلوق کے مشابہ کرنا انتہائی کبیرہ گناہ ہے۔ بلکہ انسان کی عزت و کرامت کے منافی حرکت ہے۔ دیکھئے! انسان کی حیثیت تو ایک حقیر قطرے سے بڑھ کر نہیں۔ یہ انسان تو اپنی ایک ایک ضرورت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہے۔ عاجزی و انکساری کرتا ہے۔ چہ جائے کہ شرک کرتا پھرے۔ اور شرک تو ہوتا ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور صفات میں مخلوقات میں سے کسی کو شریک ٹھہرانا ہے۔ موجودہ دور میں بہت سے ایسے جاہل مسلمان، جو دین کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ طرح طرح کے خطرناک شرک میں مبتلا ہیں۔ ساتھ ساتھ ان کا یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ وہ بڑے توحید پرست ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شرک تو صرف پتھر اور درختوں کی عبادت کا نام ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ایسے شرک کرتے ہیں کہ ان کو خود بھی خبر نہیں ہوتی کہ وہ کوئی اسلامی کام کر رہے ہیں یا شرک کر رہے ہیں۔ مثلاً غیر اللہ کو پکارنا۔ رسول، ولی یا جنوں کو مدد کے لئے پکارنا، غیراللہ پر توکل کرنا، ان سے ڈرنا اور اُمیدیں رکھنا۔ غیر اللہ کے لئے جانوروں کو قربان کرنا اور ذبح کرنا۔ قبروں، ولیوں کے لئے ذبیحہ کرنا، غیراللہ کے لئے نذرونیاز کرنا، مدد طلب کرنا یا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات (نعوذ باﷲ) ہمارے کسی بزرگ میں حلول کر گئی ہے۔ شرک تصرف و اختیار بھی بڑا شرک ہے۔ یعنی کہ ہمارے قطب صاحب یا ولی کو بھی اللہ تعالیٰ کے اُمور میں اختیار حاصل ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کوئی بھی عبادت مثلاً نماز، زکوٰۃ، حج، نذر و نیاز، توکل، ذبح، سجود، رکوع طواف وغیرہ صرف اللہ ہی کے لئے ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے اُمور بھی جو چھوٹے شرک کی طرف راغب کرنے والا ہیں مثلاً ریاکاری، تصنع کرنا، نماز اور نیک اعمال کرتے تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں لیکن لوگوں کو دیکھ کر ان میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کرنا، وغیرہ ہیں۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’میں تم سے سب سے بڑھ کر شرک اصغر سے ڈرتا ہوں‘‘۔ (مسند احمد)۔ غیراللہ کے لئے قسم کھانا بھی شرک اصغر میں شامل ہے۔ من حلف بغیر اﷲ فقد اشرک یعنی جو غیراللہ کی قسم کھاتا ہے تو تحقیق اس نے شرک کیا۔ (مسند احمد)۔
غیر اللہ کی قسم اس وقت شرک اکبر بن جاتی ہے جب قسم کھانے والا، یہ کام بطورِتعظیم کرتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اگر کسی ولی کی جھوٹی قسم کھائی گئی تو وہ نقصان پہنچانے پر قادر ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے اور آپ چاہیں، یہ بھی شرکِ اصغر ہے۔
اے بندگانِ الٰہی! جب آپ نے شرک کی قباحت اور خطرات کا علم حاصل کر لیا ہے تو آپ پر لازم ہے کہ آپ اس شرک سے اجتناب کریں۔ شرک ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہنے کا بڑا سبب ہے۔ اور اوہام پرستی، باطل نظریات، بے عملی اور فسادِ اُمت و انسانیت کا سرچشمہ ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺکے پاس ایک شخص تشریف لایا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو چیزوں کی خبر دیجئے۔ آپ e نے فرمایا:1 جو اس حال میں مرے کہ کبھی شرک نہ کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ 2اور جو مرے اور وہ مشرک ہو تو وہ جہنم میں جائے گا۔ (صحیح

اپنا تبصرہ بھیجیں