imran_khan

صوبے پوچھ لیتے توکبھی سخت لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتے:وزیراعظم

EjazNews

اسلام آباد میں کرونا کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے ان سے پوچھ لیتے تو وہ کبھی بھی سخت لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتے کیونکہ یہ قدم اٹھانے سے قبل غریبوں کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔ کرونا کی وجہ سے جو صورت حال بنی ماضی میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔
یورپ کی طرف دیکھ کر ممالک لاک ڈاؤن کی طرف جاتے گئے، ہمارے حالات ان سے یکسر مختلف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شروع سے ہی سخت لاک ڈاؤن کے خلاف تھا جس پر سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ لاک ڈاؤن نے سروس سٹرکچر کو تباہ کیا۔ شکر ہے ہم نے پریشر نہیں لیا اور بات سن لی گئی۔ انڈیا کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں حکومت نے سخت لاک ڈاؤن کیا جس کی وجہ سے وہاں غریبوں کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا زلزلے اور سیلاب کے موقع پر مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے امداد متاثر ہوئی۔کچھ علاقوں میں لوگ گاڑیاں بھر کر پہنچ رہے تھے جبکہ کچھ لوگ بھوکے بیٹھے تھے۔ریلیف فنڈ اور احساس پروگرام سے عوام کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ریلیف فنڈ میں کوئی ایک روپیہ دے تو حکومت اس میں چار روپے ڈال کر آگے دے دیتی ہے۔
وزیراعظم کے بقول پناہ گاہیں ایک زبردست پروگرام ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ بڑے شہروں میں کام کے لیے آتے ہیں۔ جب ان کو رہائش اور کھانا مفت ملتا ہے تو وہ سارے پیسے گھر بھجوا سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے لیے چیلنج ہے کہ بوڑھے اور دوسرے امراض کے شکار افراد کو کرونا سے بچائیں۔ریلیف فنڈ اور احساس پروگرام کی وجہ سے ہم بچ گئے کیونکہ حالات خراب ہو رہے تھے۔
وزیراعظم کا کہناتھا کہ امریکہ جیسے امیر ملک میں بھی لوگ میلوں لمبی قطاروں میں کھانا لینے کے کھڑے ہیں۔ اٹلی میں بھی حالات مختلف نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں