Dangers to the world

دنیا کولاحق خطرات

EjazNews

دنیا کب تباہہوگی ، کیسے تباہ ہوگی، قرآن پاک یہ تمام رموز اربوں باشندوں کے سامنے 14سو سال پہلے پیش کر چکا ہے مگر سائنسدان اسے اپنی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا سائنسی طور پر کس طرح تباہ ہوگی۔ چنانچہ 50سائنس دانو ں نے ایک گروپ بنایا اس گروپ نے دن رات سوچ بچار کے بعد ایسے 11نکات تیار کیے جو مستقبل میں دنیا کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ دہشت گردی ، ایٹمی جنگ، ماحولیاتی آلودگی ان سب کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا۔ 50 میں سے 3سائنس دانوںنے سیاسی قیادت میں بردباری اور لاعلمی کو انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرا دیا۔دونوبل انعام یافتہ سائنس دانوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو تشویشناک قرار دیا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات عالمی امن اور انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ صدر کو ان سے باز رہنا چاہیے۔ 2003ء میں کیمسٹری کا نوبل انعام حاصل کرنے والے ٹیچر ایگرے نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی لاعلم اوربد فطرت آدمی ہیں۔ وہ مخصوص قسم کے ووٹروں کو جاہلانہ جملے کستے رہتے ہیں بلکہ چمگادڑ نامی فلم میں کسی چڑیل کی مانند ہیں جو بہت ہی خود غرض یا عیار ہے۔ ایک امریکی نوبل انعام یافتہ سائنسدان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ماحولیات کے بارے میں پالیسی کو دنیا کی تباہی کا سبب قراردیا ۔ دنیا کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے نئی نسل کو اچھی خوراک اور صحت مند معاشرے کی ضرورت ہوگی۔ موسمیاتی تبدیلیاں ا ن دونوں عوامل کے لیے خطرناک ہوں گی۔ سائنس دانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کو زیور تعلیم سے آگاہ کریں اور انہیں بتائیں کہ صاف ستھرا ماحول ہی ان کی اچھی زندگی کا باعث ہو سکتا ہے اس کے لیے سیاسی سوچ اور پختہ ارادوں کی ضرورت ہے۔
50نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو دنیا کے لیے نمبر 1خطرہ قرار دیا ہے ایٹمی جنگ دوسرے اور بیماریوں کیخلاف مزاحمت تیسرے نمبر پر تھی۔ ایٹمی سائنسدانو ں نے خود غرضی ، بدنیتی اور انسانی ہمدردی کے فقدان کو بھی اقوام عالم کے لیے خطرہ قرار دیا۔ حقائق سے منہ موڑنا ،حقائق کو توڑنا یا حقائق سے لاعلمی پانچویں نمبر پر دنیا کے لیے پریشان کن ہے۔ بنیاد پرستی اور دہشت گردی چھٹے نمبر پر ، ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے ان جیسے لا علم لیڈر دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ مصنوعی ذہانت 8ویں ، عدم مساوات9ویں، منشیات 10ویں اور فیس بک 11ویں نمبر پرہے۔ صرف 5فیصد سائنسدانوں میں دنیا میں اس میں سے کوئی عوامل دنیا کے لیے خطرہ کے باعث نہیں بن سکتا ۔
40فیصد سائنسدانو ں کے مطابق دنیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم نیک شگون نہیں ۔ یہ عالمی امن میں تباہی کا باعث نہیں بنے گی اور دنیا اسی طرح تباہ ہوگی ایک نوبل انعام یافتہ سائنسدان نے کہا کہ جب کوئی اپنے آپ کو عقل قل سمجھنا شروع کر دے اور یہ سوچنا شروع کر دے کہ جو کہا جا رہا ہے سب کچھ جھوٹ ہے جب حکومتیں حقائق سے منہ چرائیں اور غلط رویے اختیار کریں ، تمام حقیقتوں کو نظر انداز کر دے سائنس کے ثابت شدہ فیصلوں کو مسترد کردے تو تباہی کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ان سائنسدانوں کے خیال میں فیس بک نئی نسل کو تباہ کر دے گا۔ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹس سماجی رابطوں میں فقدان کا باعث بن ر ہی ہے۔ آج کی نسل ان دیکھے رشتوں کی تلاش میں ہے اور دیکھے ہوئے رشتوں کو کھو رہی ہے کیا ہی اچھا ہوتا ہے کہ وہ سماجی رشتوں کا آغاز اپنے گھر سے کرتے گھر کے اندر تو لاعلمی اور لا تعلقی ہے بچے باپ سے اتنے غافل ہو چکے ہیں جتنے تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے تھے یوں سائنسدانوں کے خیال میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ سماجی رشتوں کو تباہ و برباد کر دیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں