hazrat dawood as-5

حضرت داﺅد علیہ السلام (۵)

EjazNews

اس جگہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے ایک امتحان کا ذکر ہے جو خدائے تعالیٰ کی جانب سے ان کو پیش آیا۔ حضرت داﺅد نے اول اس کو نہیں سمجھا مگر یکایک دل میں یہ خیال آیا کہ منجانب اللہ ایک آزمائش ہے۔ لہٰذا فوراً ہی خدا کے برگزیدہ پیغمبروں کی طرح حق تعالیٰ کی جانب رجوع کیا، استغفار کیا اور درگاہ الٰہی میں ان کا استغفار قبول ہو کر ان کی عظمت شان اور تقرب الی اللہ کا باعث بنا۔
معاملہ صرف اسی قدر تھا لیکن بعض مفسرین نے جب یہ دیکھا کہ قرآن عزیز نے اس آزمائش کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی اور توراة اور اسرائیلی روایات میں اوریاہ کی بیوی کی ایک داستان موجود ہے جس میں حضرت داﺅد سے خدا کی ناراضی کا بھی ذکر ہے تو بلا تامل اس خرافات کو اس آیت کی تفسیربنا کر آزمائش، استغفار اور قبول استغفار کو اس کے ساتھ چسپاں کر دیا۔
یہ دیکھ کر جلیل القدر مفسرین اور محققین سے ضبط نہ ہو سکا اور انہوں نے روشن دلائل و براہین کے ساتھ یہ واضح کیا کہ اس خرافی روایت کاسورة صٓ کی ان آیات کی تفسیر سے دور کابھی کوئی علاقہ نہیں ہے اور نہ صرف یہ بلکہ یہ پوری داستان از اول تا آخر یہودیوں کی من گھڑت اور پر از بہتان روایتیں ہیں جن کےلیے اسلامیات میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
چنانچہ حافظ عماد الدین ابن کثیر اپنی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:
ترجمہ: اس جگہ مفسروں نے ایک ایسا قصہ بیان کیا ہے بلا شبہ جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی موجود نہیں ہے کہ جس کی پیروی ضروری ہو جائے۔ (تفسیر ابن کثیر)
اور اپنی تاریخ البدایة و النہایة میں اس سے بھی زیادہ زور کے ساتھ فرماتے ہیں۔
ترجمہ: اور بہت سے اگلے اور پچھلے مفسروں نے اس مقام پر چند اور حکایتیں نقل کی ہیں ان میں سے اکثر وبیشتر یہودیوں کی من گھڑت روایتیں ہیں اور بعض ان میں سے یقینی طور پر جھوٹی اور باطل ہیں ہم نے اس لیے ان کوقصداً بیان نہیں کیا اور قرآن عظیم نے جس قدر واقعہ بیان کیا ہے صرف اسی قدر بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے راہ مستقیم پر چلاتا ہے۔
اور کتاب الفضل میں حافظ ابو محمد بن حزم ان آیات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔
ترجمہ : اور قرآن کا یہ قول سچا اور صحیح ہے اور یہ کسی طرح بھی اس روایت پر دلالت نہیں کرتا جس کو ان مسخروں کا زبوں نے بیان کیا ہے جو ایسی خرافات سے لپٹے رہتے ہیں جن کو یہود نے ایجاد کیا ہے۔(الفصل فی الملل والنحل جلد ۴)
اسی طرح نسیم الریاض میں خفا جی نے شفاءمیں قاضی عیاض نے بحر المحیط میں ابو حیان اندلسی نے تفسیر کبیر میں امام رازی نے اور دیگر محققین نے اس تمام خرافات کو مردود قرار دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس سلسلہ میں نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تفصیل منقول نہیں ہے۔
آیات کی صحیح تفاسیر:
پھر ان تمام خرافات سے الگ ہو کر ان محققین نے آیات کی جوتفسیریں کی ہیں وہ یا صحیح آثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں اور یا قرآن عزیز کے سیاق و سباق کو پیش نظر رکھ کر ذوق سلیم کے ذریعہ کی گئی ہیں۔ اس لیے یہی صحیح اور قابل توجہ ہیں۔
(۱) علامہ ابن حزم فرماتے ہیں کہ واقعہ صرف اس قدر ہے کہ دو شخص اچانک محراب داﺅد میں داخل ہو گئے جہاں حضرت داﺅد علیہ السلام عبادت الٰہی میں مشغول تھے اور چونکہ ان دونوں کا معاملہ حقیقی واقعی تھا اوران کو اس کے طے کرانے میں عجلت تھی اس لیے وہ دیوارپھاند کر چلے آئے۔ حضرت داﺅد نے مدعی کا بیان سن کرتذکیر و وعظ کے پیش نظر اول زمانے کے فساد حال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ زبردستوں پر ارباب قوت کے مظالم کا ہمیشہ یہی حال رہا ہے کہ وہ ان کی زندگی کو صرف اپنی راحت کا ایک آلہ سمجھتے رہے ہیں اور یہ بہت ہی بری بات ہے۔ البتہ خدا کے مومن بندے جو نیکو کار بھی ہیں ایسے مظالم سے بچتے اور خدا کا خوف کرتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔
اس کے بعد حضرت داﺅد نے انصاف پر مبنی فیصلہ کر کے قضیہ کو ختم کردیا جب فریقین چلے گئے تو حضرت داﺅد کے بلند احساسات نے ان کے قلب و دماغ کو ادھر متوجہ کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم الشان حکومت اور بے نظیر سطوت جو ان کو بخشی ہے در حقیقت ان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے اور امتحان ہے اس امر کا کہ ذات واحد نے اپنی اس کثیر مخلوق پر مجھ کو جو عزت و بلندی عطا فرمائی ہے، اس سے متعلق عائد شدہ فریضہ کو میں کہاں تک صحیح طور پر انجام دیتا اورخدا کی اس نعمت کا اپنی عملی زندگی سے کس طرح شکر ادا کرتا ہوں۔
چنانچہ حضرت داﺅد پر اس وجدانی کیفیت کا اس قدر اثر پڑا کہ وہ فوراً درگاہ الٰہی میں سر بسجود ہو گئے اور طلب مغفرت کرتے ہوئے اعتراف کرنے لگے کہ خدایا اس عظیم المراتبت ذمہ داری سے سبکدوش ہونا بھی میری اپنی طاقت سے باہر ہے جب تک کہ تیری اعانت شامل حال نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت داﺅد کا یہ عمل پسند آیا اور اس کی مغفرت نے ان کو اپنی آغوش میں ڈھانپ لیا۔
ابن حزم اس تفسیر کے بعد فرماتے ہیں کہ ”استغفار “ خدا کی درگاہ میں ایسا محبوب عمل ہے کہ اس کے لیے ہرگز یہ ضروری نہیں کہ اس سے پہلے گناہ اور معصیت وجود میں آئے اور پھر اس کے رد عمل کے طور پر طلب مغفرت کی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ ”استغفار“ ملائکة اللہ سے بھی ثابت ہے حالانکہ قرآن عزیز نے تصریح کی ہے کہ ملائکة اللہ کی شان یہ ہے ”لا یعصون اللہ مآ امر ھم و یفعلون ما یومرون “ (وہ خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے)۔ چنانچہ قرآن عزیز نے فرشتوں کے استغفار کا اس طرح ذکر کیا ہے:
ترجمہ: اور وہ فرشتے استغفار کرتے ہیں مومنوں کے لیے (اور کہتے ہیں)اے ہمارے پروردگار تو بخش دے ان کو جو تیری جانب رجوع ہوتے ہیں اور تیری راہ کی پیروی کرتے ہیں۔
ابن حزم کی اس تفسیر کی تائید میں ہم اس قدر اور اضافہ کرتے ہیں کہ حضرت داﺅد کے زیر بحث واقعہ میں قرآن عزیز نے ان کے عصیان اور گناہ کا مطلق کوئی تذکرہ نہیں کیا بلکہ فتناہ کہہ کر صرف یہ بتایا ہے کہ ان کو کسی آزمائش میں ڈال دیا گیا اور آزمائش کے لیے ہرگز یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی گناہ اور خطا سے ہی متعلق ہو جیسا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے ساتھ امتحان کا معاملہ پیش آیا۔ لہٰذا حضرت داﺅد کا یہ معاملہ بھی کسی معصیت یا گناہ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ پیغمبرانہ شان کے مطابق احساس فرض اور خدا کے حضور میں اپنی عبودیت و بیچارگی کا بہترین مظاہرہ تھا۔
قرآن عزیز کی زیر بحث آیات کے معانی و مطالب اگرچہ اس تفسیر کے متحمل ہیں اور اسے حضرت داﺅد کی پیغمبرانہ جلالت شان اورزیادہ نمایاں ہوتی ہے تاہم یہ تفسیر اجتہادی ہے۔ اس لیے کہ اس میں آزمائش کی جو صورت بیان کی ہے وہ آیت یا کسی حدیث میں مذکور نہیں ہے صرف اجتہاد سے تعلق رکھتی ہے۔
(۲) ابو مسلم نے ان آیات کی تفسیر میں کہا ہے کہ داﺅد علیہ السلام کے سامنے جب دو شخصوں نے بحیثیت مدعی اور مدعا علیہ کے اپنا قضیہ پیش کیا تو داﺅد علیہ السلام نے مدعی علیہ کو جواب دہی کا موقع دیے بغیر فقط مدعی کا بیان سن کر اپنی نصیحت میں اس قسم کی باتیں فرمائیں کہ جن سے فی الجملہ مدعی کی تائید ہوتی تھی اور چونکہ یہ طریق عام حالات میں انصاف کے خلاف تھا۔ اس لیے حضرت داﺅد کا یہ ارشاد اگرچہ صرف تا صحانہ انداز میں تھا اور ابھی قضیہ کے انفصال کی نوبت نہیں آئی تھی تاہم ان جیسے جلیل القدر پیغمبر کے شایان شان نہیں تھا۔ لہٰذا یہ تھا وہ ”فتنہ“جس میں حضرت داﺅد پڑ گئے۔
مگر جب کہ اس قسم کی لغزشوں پر خدائے تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو فوراً متنبہ کر دیتا ہے تو حضرت داﺅد کو بھی معاً تنبہ ہوا کہ ان سے قضیہ زیر بحث میں لغزش ہو گئی اوران کے لیے یہ ابتلا اور آزمائش ہے اس لیے وہ خدا کی درگاہ میں طالب مغفرت ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شرف قبولیت سے نوازا بلکہ ان کے اس پسندیدہ عمل کی وجہ سے ان کی رفعت شان کو اورزیادہ بلند کر دیا۔ (روح المعانی)
ہم اس توجیہ پر یہ اضافہ کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد کو نصیحت فرمائی کہ داﺅد ! تم دنیا کے عام حاکموں اوربادشاہوں کی طرح نہیں ہو جو اکثر وبیشتر حق و انصاف سے بے پروا ہو کر خدا کی مخلوق پر محض ہوا نفس اور ذاتی غرض کی تکمیل کے لیے حکومت کرتے ہیں، تم خدا کی زمین میں اس کی جانب نائب اور ”خلیفہ “ ہو اور خدمت خلق تمہاری حیات طیبہ کا طغرائے امتیاز، اس لیے تمہارا فرض ہے کہ ہر لمحہ حق و انصاف کوپیش نظر رکھو اوراس معاملہ میں کسی قسم کی بھی لغزت نہ ہونے دو اور صراط مستقیم ہی کو اپنی شاہراہ سمجھو۔ لہٰذا قرآن عزیز نے اسی حقیقت کے اظہار کے لیے آیات زیر بحث کے بعد اس آیت کو بیان کیا ۔ ”یداد انا جعلنک خلیفة فی الارض (الآیہ)
ان ہر دو توجیہات میں دونوں مفسروں نے تصریح کی ہے کہ یہ قضہ فرضی نہ تھا بلکہ حقیقت پر مبنی تھا اور فریقین ملائکہ اللہ نہیں تھے بلکہ انسان تھے کیونکہ قرآن عزیز کا تبادر یہی ظاہر کرتا ہے۔
آیات زیر بحث کی یہ توجیہ بھی اگرچہ استنباط و اجتہاد نظرسے تعلق رکھتی ہے تاہم آیات کے نظم و ربط کے ساتھ بہت زیادہ مطابق ہے اور اس لیے مفسرین کی نگاہ میں بہت زیادہ مقبول ہے۔
لیکن گزشتہ ہر دو توجیہات میں جدا جدا ایک خلش ہے جو قابل غور ہے، پہلی توجیہ میں ربط آیات کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آیات کی بیان کردہ اس توجیہ کوتسلیم کر لیا جائے جو ابن حزم نے بیان کی ہے تو پھر اگلی آیت یداود انا جعلنک خلیفة فی الارض (الایہ) کا آیات زیر بحث کے ساتھ کوئی تعلق اور ربط نظر نہیں آتا کہ اس موقع پر حضرت داﺅد کی ایک ایسی اہم فضیلت کے ذکر کے کیا معنی ہیں جو قرآن عزیز میں حضرت آدم علیہ السلام کے بعد انبیاءو رسل میں سے صرف ان ہی کے لیے بیان کی گئی۔
اور ابو مسلم کی توجیہ میں یہ خلش پیدا ہوتی ہے کہ جبکہ فصل مقدمات میں دنیوی حکام اور بادشاہوں کےیہاں بھی یہ مسلم ہے کہ ہمیشہ فیصلہ فریقین کے بیانات سننے کے بعد ہونا چاہئے بلکہ یوں کہیے کہ یہ طریق کار بجکہ ایک طے شدہ فطری مسئلہ ہے تو حضرت داﺅد جیسے اولو العزم پیغمبر کے متعلق یہ کس طرح یقین کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے مدعی علیہ کا بیان سنے بغیر مدعی کے حق میں فیصلہ دے دیا یا اپنے رجحان طبع کا اظہار کر دیا یہ کوئی ایسی باریک اور دقیق بات نہیں ہے کہ جو حسب اتفاق حضرت داﺅد کے فہم و ادراک میں نہ آئی اور اس بارہ میں ان سے لغزش ہو گئی۔
لہٰذا ان ہر دو توجیہات سے جدا ہمارے نزدیک آیات کی بہتر توجیہ و تفسیر وہ ہے جونظم کلام، ربط آیات اور سیاق و سباق میں مطابقت کے لحاظ سے بھی صحیح ہے اور جس کی بنیاد حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ایک ”اثر“ پر قائم ہے۔
(۴)حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ حضرت داﺅد نے تقسیم کار کے پیش نظر اپنے معمولات کو چار دنوں پر اس طرح تقسیم کر دیا تھا۔ ایک دن خالص عبادت الٰہی کے لیے ۔ ایک دن فصل مقدمات کے لیے ایک دن خالص ذات کے لیے اور ایک دن بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لیے عام تھا۔
لیکن تقسیم ایام کی اس تفصیل میں اس حصہ کو زیادہ اہمیت حاصل تھی جو عبادت کے لیے مخصوص تھا اس لیے کہ یوں تو حضرت داﺅد علیہ السلام کا کوئی دن بھی عبادت الٰہی سے خالی نہ تھا مگر ایک دن کو انہوں نے صرف اسی کے لیے مخصوص کر لیا تھا اور اس میں دوسرا کوئی کام انجام نہیں دیتے تھے، چنانچہ قرآن عزیز ان کے اوصاف کو انہ اواب“کہہ کر نمایاں کرتا ہے۔
نیز قرآن عزیز اور بنی اسرائیل کی تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت داﺅد حجرہ بند کر کے عبادت اور تسبیح و تحمید کیا کرتے تھے تاکہ کوئی خلل انداز نہ ہو سکے۔ گویا تقسیم ایام میں صرف یہی ایک دن ایسا تھا جس میں حضرت داﺅد تک کسی کا پہنچنا سخت دشوار تھا اور بنی اسرائیل سے ان کا تعلق منقطع ہو جاتا تھا اور باقی ایام میں اگر کوئی خاص ہنگامی صورت پیش آجائے تو حضرت داﺅد کے ساتھ واسطہ باقی رہتا تھا اور وہ اپنے معاملات کو ان کی جانب رجوع کر سکتے تھے۔
اب غور طلب بات یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عبادت الٰہی اورخدا کی تسبیح و تہلیل ایک مسلمان کا مقصد حیات ہے تاہم خدائے تعالیٰ نے جن ہستیوں کو اپنی مخلوق کی رشد و ہدایت اور خدمت خلق کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے ”کثرت عبادت “ کے مقابلہ میں ادائیگی فرض میں انہماک عند اللہ زیادہ محبوب اور پسندیدہ عمل ہے۔ بے شبہ ایک صوفی اور مرتاض عابدو زاہد جس قدر بھی گوشہ گیر اور خلوت پذیر ہو کر عبادات میں مشغول رہتا ہے منصب ولایت کے درجات کو اسی قدر زیادہ حاصل کرتا رہتاہے، بخلاف منصب نبوت و منصب خلافت کے خدائے تعالیٰ کی جانب سے اس کی موہبت و عطا کی غرض و غایت مخلوق کی رشد و ہدایت اور ان کی خدمت و صیانت ہے۔ اس لیے اس کا کمال مخلوق کے ساتھ رشتہ و تعلق قائم کرکے احکام الٰہی کو سربلند کرنا ہے نہ کہ خلوت گزیں ہو کر صوفی بننا۔
لہٰذا حضرت داﺅد کی یہ تقسیم اگرچہ زندگی کے نظم اور تقسیم عمل کے لحاظ سے ہر طرح قابل ستائش تھی لیکن اس میں ایک دن کو عبادت الٰہی کے لیے اس طرح خاص کرلینا کہ ان کا تعلق مخلوق خدا سے منقطع ہو جائے منصب نبوت اور منصب خلافت کے منافی تھا اور حضرت داﺅد علیہ السلام جیسے اولو العزم پیغمبر اور خلیفة اللہ کے لیے کسی طرح موزوں نہ تھا۔ اس لیے کہ حضرت داﺅد کو اللہ تعالیٰ نے ایک گوشہ نشین عابد و زاہد اور مرتاض کی حیثیت سے نہیں نوازا تھا بلکہ ان کو نبوت اور خلافت بخش کرمخلوق کی دینی و دنیوی ہر قسم کی خدمت و ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا تھا اور اس طرح ان کی حیات طیبہ کا شاہکار ”ہدایت خلق“ اور خدمت خلق“ تھا نہ کہ ”کثرت عبادت“ چنانچہ حضرت داﺅد کی اس روش کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح آزمائش (فتنہ) میں مبتلا کر دیا کہ دو شخص جن کے درمیان ایک خاص مناقشہ تھا ، عبادت کے مخصوص دن میں حجرہ کی دیوار پھاند کر اندر داخل ہو گئے۔ حضرت داﺅد نے اچانک خلاف عادت اس طرح دو انسانوں کو موجود پایاتو بہ تقاضائے بشری گھبرا گئے۔ دونوں نے صورت حال کااندازہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ آپ خوف نہ کریں،ہمارے اچانک اس طرح داخل ہونے کی وجہ یہ قضیہ ہے اور ہم اس کافیصلہ چاہتے ہیں۔ تب حضرت داﺅد نے واقعات کو سنا اور مسطور ہ بالا نصیحت فرمائی۔
قرآن عزیز نے اس مقام کے عام پہلوﺅں کو نظر انداز کر دیا کیونکہ وہ ہر فہم رسا میں خود بخود آجاتے ہیں کہ داﺅد علیہ السلام کا فیصلہ بلاشبہ حق کے مطابق ہی رہا ہوگا اور اس نے صرف اسی پہلو کو نمایاں کیا جس کا تعلق رشد و ہدایت سے تھا، یعنی زبردستوں کا زیر دستوں کے ساتھ ظلم کرنا۔
غرض فریقین کا فیصلہ کرنے کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام کو فوراً تنبہ ہوا کہ مجھ کو خدائے تعالیٰ نے اس آزمائش میں کس لیے ڈالا اور وہ حقیقت حال کو سمجھ کر خدا کی درگاہ میں سر بسجدہ ہوئے اور استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ نے استغفار کو شرف قبولیت عطا فرما کر ان کی عظمت کو اور دوبالا کر دیا اور پھر یہ نصیحت فرمائی کہ اے داﺅد ! ہم نے تم کو پورا حق ادا کرو اور یہ خیال رکھو کہ اس راہ میں عدل و انصاف بنیاد کار رہے اور صراط مستقیم سے ہٹ کر کبھی بھی افراط و تفریط کی راہ کو اختیار نہ کرو۔
(۴) قیاس و اجتہاد یا آثار صحابہ سے استباط پر مبنی گزشتہ توجیہات سے جدا مشہور محدث حاکم نے مستدرک میں خود حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے ان آیات کی تفسیر نقل کی ہے اور محدثین نے اس روایت کوصحیح اور حسن تسلیم کیا ہے لہٰذا بلا شبہ اس کو مسطورہ بالا توجیہات پر برتری اور تفوق حاصل ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت داﺅد نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں اراہ فخر عرض کیا: بار الہا!دن اور رات میں ایک ساعت بھی ایسی نہیں گزرتی کہ داﺅد یا آل داﺅد میں سے کوئی شخص ایک لمحہ کے لیے بھی تیری تسبیح و تہلیل میں مشغول نہ رہتا ۔
اللہ تعالیٰ کو اپنے مقرب پیغمبر داﺅد علیہ السلام کا یہ فخر یہ انداز پسند نہ آیا۔ وحی آئی، داﺅد !یہ جو کچھ بھی ہے صرف ہماری اعانت اور ہمارے فضل و کرم کی وجہ سے ہے ورنہ تجھ میں اور تیری اولاد میں یہ قدرت کہاں کہ وہ اس نظم پر قائم رہ سکیں اور اب جبکہ تم نے یہ دعویٰ کیا ہے تو یہ دعویٰ کیا ہے تو میں تم کو آزمائش میں ڈالوں گا ۔ حضرت داﺅد نے عرض کیا۔ خدا یا جب ایسا ہو تو پہلے سے مجھ کو اطلاع دیدی جائے لیکن آزمائش کے معاملہ میں حضرت داﺅد کی استدعا قبول نہیں ہوئی اور حضرت داﺅد کو اس طرح فتنہ میں ڈال دیا گیا جو قرآن عزیز میں مذکور ہے۔( مستدرک جلد۲)
یعنی حضرت داﺅد اس قضیہ کے فیصلہ دینے میں تسبیح و تحمید سے محروم ہو گئے اور حسب اتفاق آل داﺅد میں سے بھی اس وقت کوئی عبادت الٰہی میں مصروف نہ تھا۔
اس تفسیر کابھی حاصل یہی نکلتا ہے کہ بمصداق ”حسنات الابرار سیئات المقربیں“ نہ یہ کوئی گناہ کا معاملہ تھا اور نہ معصیت کا بلکہ حضرت داﺅد علیہ السلام جیسے الولوالعزم پیغمبر کے شایان شان نہیں تھا اس لیے ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے متنبہ کر دیا گیا۔
غرض قرآن عزیز کی ان آیات کی تفاسیر میں علماءمحققین نے جو کچھ کہا ہے یا وہ قابل تسلیم ہے اور یا ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس کی تفسیر حقیقی تفسیر ہے مگر یہودیوں کی خرافات اور ہفوات کا ان آیات سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں