umro_4

عمرو کی استاد سے شرارتیں(۴)

EjazNews

استاد نے جا کر خواجہ عبدالمطلب کے سامنے اپنی پگڑی اتار کر رکھ دی اور اپنے جسم کے ز خم دکھا کر رو رو کر اپنا حال سنایا کہ عمرو نے میرا برا حال کر دیا ہے۔ خواجہ عبدالمطلب عمرو کی حرکت پر بہت غصے میں آئے۔ ابھی وہ غصہ کر ہی رہے تھے کہ زبیدہ مرغیوں والی روتی پیٹتی آئی کہ عمرو میرے گھر سے مرغی اور انڈے لے گیا ہے۔ میں تو ان چیزوں کو بیچ کر گزارا کرتی ہوں اتنا نقصان کیسے برداشت کروں گی۔ یہ کہہ کر زبیدہ رونے لگی۔خواجہ عبدالمطلب نے زبیدہ کو مرغی او ر انڈوں کی قیمت دی۔ اتنے میں کبابی کا آدمی آگیاکہ عمرو نے ہماری دوکان سے کباب اور خاگینہ بنوایا، روٹیاں اور قلچہ پکوایا اور آپ سے پیسے دلوانے کو کہا۔ خواجہ نے اس آدمی سے پوچھا وہ لڑکا کدھر گیا ہے۔ اس آدمی نے کہا ’’ابو قبیس پہاڑ کی طرف گیا ہے ‘‘۔ خواجہ نے اس آدمی سے پوچھا کہ تمہارے کتنے پیسے بنے۔ آدمی نے پیسوں کا حساب بتادیا۔ خواجہ نے کبابی کے آدمی کوپیسے دئیے ۔ وہ آدمی پیسے لے کر چلا گیاتو خواجہ عبدالمطلب نے استاد سے کہا تم اپنے مدرسے کے لڑکے لے کر جائو اور اس کے ساتھی لڑکوں کو پکڑ کر لے آئو‘‘۔ استاد نے یہ سنا تو مدرسہ کی طرف چلا ،راستے میں سوچتا جارہا تھا کہ بچو ایک مرتبہ ہاتھ لگ جائو ۔ وہ مار ماروں گا کہ آئندہ کے لئے ایسی حرکت کرنا بھول جائو گے۔
استاد مدرسے پہنچا تو اس نے بیس لڑکوں کو اپنے ساتھ لیا ان لڑکوں کے ہاتھ میں لکڑیاں پکڑا دیں کہ عمرو کو ان لکڑیوں سے خوب مارنا۔ استا د ان بیس لڑکوں کو لے کر ابو قبیس پہاڑ کی طرف چلے ۔ جب پہاڑ کے قریب پہنچے تو عمرو نے ان کو دیکھ لیا۔ یہ دیکھ کر عمرو قہقہے لگا کر ہنسنے لگا اور ہنستے ہنستے امیر حمزہ سے کہا۔’’دیکھو استاد لڑکوں کو ساتھ لے کر مجھے پکڑنے کو آرہا ہے۔ یہ کیا سمجھتا ہے کہ مجھے پکڑ لے گا ۔ مجھے بیت اللہ کی قسم میں ان سب سے لڑوں گا۔ کوئی پہلوان بھی مجھے پکڑنے آجائے تو اس سے بھی لڑوں گا۔ میں ان کے ہاتھ آنے والا نہیں ہوں۔ ہاں اگر خواجہ عبدالمطلب آجائیں تو اور بات ہے۔ جب میں مجبور ہو جائوں گا۔‘‘ امیر حمز ہ نے کہا ’’میں بھی تیرے ساتھ ہوں مقبل نے کہا ’’ میں بھی تمہارا ساتھ دو ں گا۔‘‘ دوسرے لڑکوں نے کہا ہم بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ ان سب کا مقابلہ کریں گے۔ اتنی دیر میں استاد اور اس کے ساتھ آئے ہوئے لڑکے پہاڑ کے نیچے آگئے۔ استاد نے لڑکوں سے کہا ’’جائو اور ان تمام لڑکوں کوپکڑ کر لے آئو۔ عمرو کو تو کسی صورت میں مت چھوڑنا مار مار کے میرے پاس لے آئو‘‘۔ لڑکے ہاتھوں میں لکڑیاں لے کر عمرو کی طرف دوڑے۔عمرو چپ چاپ کھڑا رہا۔ جب وہ لڑکے قریب پہنچے تو عمرو نے ایک پتھر اٹھا لیا جو لڑکا سب سے آگے آرہا تھا عمرو نے اس کے سرپر پتھر دے مارا۔ اس لڑکے کا پتھر لگنے سے سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ خون بہتا دیکھا تو وہ لڑکا سر کے زخم پر ہاتھ رکھ کے الٹا بھاگا۔ وہ درد کے مارے رو رہا تھا، چلا رہا تھا۔ امیر حمزہ نے بھی دو تین لڑکوں کے ہاتھ پائوں توڑے ،مقبل نے ایک لڑکے کی لکڑی اس سے چھین لی اور کئی لڑکو ں کو لکڑی سے مارا۔ اب بڑھنے والے لڑکوں کے قدم رک گئے اور وہ زخمی ہو کر بھاگے اور استاد کے پاس جا کر دم لیا۔ استاد نے جب دیکھا کہ یوں کام نہیں بنا تو وہ خود ہاتھ میں عصا لے کر عمرو کی طرف دوڑے ان کا خیال تھا کہ عمرو اس کا لحاظ کرے گا اور پکڑا جائے گا مگر عمرو لحاظ کرنے والوںمیں سے نہیں تھا اور وہ تو استاد کو ستانے اور پریشان کرنے کا موقع ڈھونڈتا اور ایسا موقع تو اسے اچانک مل گیا تھا اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا بھی جانتا تھا ۔اس نے ایک پتھر اٹھا کر استاد کے سر پر مارا ۔ استادکی پگڑی گر گئی اور سر پھوٹ گیا۔ ا ستاد کو بڑی شرم آئی اب عمرو تو ہاتھ نہیں آرہاتھا کہ اس پر غصہ نکالتے انہوں نے غصے میں اپنا عصا توڑ ڈالا خود زخمی زمین پر گرے پڑے تھے اور شرم سے اٹھ نہیں پا رہے تھے۔
وہ لڑکے جو زخمی ہو کر بھاگے تھے وہ اپنے اپنے گھروں میں پہنچے تو ان کے ماں باپ نے انہیں زخمی حالت میں دیکھا تو پریشان ہو گئےاور پوچھنے لگے ’’تمہارا یہ حال کس نے کر دیا۔ تم تو پڑھنے گئے تھے پھر زخمی ہو کر کیسے آگئے۔ کیا استاد نے اس طرح مارا ہے کہ تمہیں زخمی کر دیا ہے ‘‘۔ لڑکوںنے کہا ’’نہیں استاد نے نہیں مارا ہے بلکہ عمرو اور امیر حمز ہ نے مارا ہے ۔ ماں نے کہا ’’بھلا ان کو کیا حق ہے کہ وہ مدرسے میں تمہیں اس طرح بری طرح ماریں ‘‘۔ لڑکوں نے کہا ’’مدرسےمیں نہیں مارا۔ بلکہ استاد کے کہنے پر ہم استاد کے ساتھ انہیں پکڑنے گئے تھے اور ان لوگوں نے ہمیں مارا اور خون بہادیا‘‘۔
لڑکوں کے ماں باپ ان لڑکوں کو خواجہ عبدالمطلب کے پاس لے گئے اور ان کو دکھایا کہ آپ دیکھئے آپ کے لاڈلوں نے ہمارے لڑکوں کا کیا حال کر دیا ہے۔
خواجہ عبدالمطلب کو بہت زیادہ غصہ آیا۔ انہوںنے اسی وقت اونٹ منگوایااور اونٹ پر سوار ہو کر پہاڑ کی طرف گئے۔ انہوں نے کہا اب تو میں ہی اس کو سزاد و ں گا یہ اوروں کے قابو میں آنے والا نہیں ہے۔ عمرو پہاڑ پر چڑھ کر دیکھ رہا تھا کہ استاد اب کس کو بھیجتے ہیں مگر اس نے دیکھا کہ دور سے ایک اونٹ آرہا ہے اور اونٹ پرخواجہ عبدالمطلب سوار ہیں۔ یہ دیکھ کر تو ڈر کے مارے اس کی جان ہی نکل گئی ،بھاگا ہوا پہاڑ سے نیچے اترا۔ امیر حمزہ سے کہا ’’آپ کے والد خود آگئے ہیں اب میں ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ میں جاتا ہوں آپ اپنی فکر کریں‘‘۔ یہ کہہ کر پہاڑ کے دوسری طرف سے عمرو چلا گیا ۔ جب خواجہ عبدالمطلب پہاڑ کے قریب آئے اور امیر حمزہ نے اپنے باپ کو دیکھا تو بھاگ کر آگے بڑھا اور اپنے باپ کے پائوں پکڑ لئے۔ خواجہ نے امیر حمزہ کو گلے سے لگایا اور کہا کہ ’’ میں جانتا ہوں تمہارا کوئی قصور نہیں۔ ساری شرارت اس عمرو کی ہے۔ وہی سب برائی کی جڑ ہے، سب کو اسی نے بری راہ پر لگایا ہے۔ اس کو خود تو پڑھنا نہیں ہے دوسروں کو پڑھتے وہ دیکھ نہیں سکتا۔ جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ استاد دوسرے بچوں کو بھی نہ پڑھائے۔ اب ایک مرتبہ عمرو میرے ہاتھ لگے پھر دیکھنا میں اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوں۔‘‘

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں