surgical

سرجیکل آلات کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے

EjazNews

ہم اس ترقی یافتہ زمانے میں خود کو بہت جینیس جنریشن سمجھتے ہیں ہم سمجھتے ہیں ہماری سیالکوٹ کی سرجیکل انڈسٹری دنیا میں سب سے آگے ہے اور ہے بھی اس زمانے میں ہی ہم سرجیکل آلات کے چند چیمپیئن ممالک میں شامل ہیں۔ مگر زمانہ قدیم میں رومیوں کو اس سرجیکل انڈسٹری کا بانی مانا جاتا ہے۔ پمپائی میں قدیم ترین سرجیکل آلات اس بات کے گواہ ہیں۔ مگر یہ تہذیب پہلی صدی عیسوی میں وسویس نامی آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے خسک و خاشک کی طرح جل کر راکھ ہو گئی۔ کچھ باقیات ملیں جو اس کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھیں مگر یہ ترقی یافتہ تہذیب اور ترقی یافتہ قوم اپنے آپ کو ماﺅنٹ ورسویس سے نہ بچا سکے۔ اور اب سنا ہے کہ ماﺅنٹ ورسیوس کا لاوا پھر زیر زمین پک رہا ہے کہا جاتا ہے کہ اس کا پھٹنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگا جب دنیا کا ایک مناسب حصہ ماﺅنٹ ورسویس کے لاوا جل کر راکھ ہو جائے گا۔
دنیا کے قدیم ترین سرجیکل آلات کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آپ کو رومیو کے شہر پمپائی میں 5سو کلو میٹرکے بعد ایک چھوٹے سے قصبے ادریاٹک سی (Adriatic seac)کی جانب جانا ہوگا۔ جہاں ریمینائی(Rimini) نامی چھوٹا سا شہر واقع تھا۔ شمالی اٹلی کے اس شہر کی آبادی لگ بھگ 150نفوس ہو گی۔ 268 قبل از مسیح میں یہ شہر جن قوموں کا مسکن تھا وہ چلس (Celts) اور اتروسکینس (Etrusans) کہلاتی تھیں۔ ہم رومی باشندے اسے آرمینیم کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ اسی کی بندرگاہ کواستعمال کیا کرتے تھے۔ جولیس سیزر 49قبل از مسیح میں اس کے قریبی دریا روبی کان پر بھی ٹھہرا۔ مشہور زمانہ یا بدنام زمانہ خانہ جنگی اسی زمانے میں ہوئی۔ کھدائی کے دوران زیر زمین ایک سرجن کا گھر ملا ہے۔ یہ گھر سرجیکل آلات کا خزانہ ہے۔ اس کی دریافت تقریباً 3دہائیاں قبل 1989 ءمیں ہوئی یہ سرجیکل آلات کا غالباً اپنے زمانے کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ مکان دو منزلہ ہے ڈائنگ روم ، بیڈم روم،گھر کے اندر باتھ روم، کچن ، لیونگ روم اور گھر کے باہر خوبصورت باغیچہ ڈیزائن ہے۔ آج کے زمانے میں اتنا خوبصورت ڈیزائن کمپیوٹروں پر ہی بنایا جاسکتا ہے۔ اسی کے اندر ایک کمرے کو ڈاکٹر اپنے مریضوں کے علاج کے لیے استعما ل کرتا تھا ایسا ماہرین آثار قدیمہ نے اخذ کیا ہے۔ کیونکہ اس کی دیواروں پر بھی کچھ طبی قسم کے الفاظ لکھے ہوئے جو ہیں تو اطالوی زبان کے ترجمے سے ماہرین نے اسے علاج گاہ قرار دیا ہے۔چنانچہ اس تحریر کو معروف اطالوی جریدے نے بھی اپنی اشاعت میں شائع کیا۔زیادہ تر آلات لوہے یا دیگر جیسا کہ کانسی کی مدد سے ملا کر تیار کیے گئے تھے۔ تاہم کچھ آلات لکڑی ، لوہے اور ہڈی جیسی نامیاتی اشیاءسے بھی بنائے گئے ہیں غالباً یہ آتش فشاں کے لاوے میں نیست و نابود ہو گئے۔ تیسری صدی عیسوی میں اس عالیشان مکان کی دیواریں بھی زمین بوس ہو گئیں دریافت شدہ مکان میں استعمال ہونے والی سوئیاں، بکس (Scelples) اور (Forceps) وغیرہ بھی شامل ہیں۔ماہرین آثار قدیمہ اور دو اسکیپل بلیڈ کی مدد سے ہرنیاں کا آپریشن بھی کیا گیا تھا۔ دیگر آلات آنکھوں کی سرجری میں استعمال ہونے والی سرجری سے ملتے جلتے ہیں دیگر آلات میں غالباً ہڈیوں کی سرجری میں استعمال ہوتے ہیں ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ مکان غالباً فوجی ڈاکٹر کا تھا۔رومی سلطنت نے اپنی سرحدوں میں توسیع کے لیے ہر وقت اپنی فوج کو تیار رکھا ہوا تھا۔ ہر سال کوئی نہ کوئی علاقہ ہتھیا لیتے تھے اور اسی لیے سرحدی علاقوں میں زخمی فوجیوں کے لیے ڈاکٹروں کی فوری ضرورت تھی۔ وویان نتن (Vian nueton)نے اپنی کتاب اینشن میڈیسن میں بھی کہا ہے اس کتاب میں ڈائیولسز آف کیرسلز (Diocis of Carystus)میں سرجیکل آلات کا ذکر ملتا ہے یہ شخص 14ویں صدی قبل از مسیح میں یونانی طبیع دان تھا۔ قدیم مصنف سیلسز کے مطابق چمچ کی شکل کا یہ آلہ دراصل تیروں کے زخم کی صفائی یا جسم میں لگے ہوئے تیروں کو نکالنے میں کام آتا تھا۔لوہے کے دستے والا بھی ایک آلا ملا ہے کسی طرح کی چمچ کی شکل کی ایک تیز دھار شے ملی ہے یہ بھی غالباً تیروں کے بالائی حصوں کی باقیات میں استعمال ہوتے تھے۔ قدیم مصری علاقے میں کھدائی کا یہ کام 1989ءسے 1997ءتک جاری رہا۔ اور اس کے کئی حصوں کو آثار قدیمہ کہہ کر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ یہاں 8ویں صدی کی لا تعداد قبریں ملی ہیں ان قبروں کو ساتھ خوبصورت مقبرے کی باقیات بھی موجود ہیں ،کھنڈر ویران ہیں مگر بہت خوبصورت ہیں نقش و نگار سے منقشہ ہیں۔ 2007ءمیں ان تاریخی ورثے کو نمائش کے لیے کھول دیا گیا تھا اور اس وقت سے اب تک اس قدیم ورثے سے محظوظ ہو چکے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں