Quran

توحید

EjazNews

اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ صرف ایک ’’اللہ‘‘ ہی اپنی بادشاہت، افعال، الوہیت اور معبودیت میں یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
توحید کی تین قسمیں ہیں:
توحید ربوبیت:
توحید کا معنی یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی خالق، رزاق، مدبر اور پرورش کرنے کے اعتبار سے اکیلا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جو تمام جہانوںکا پروردگار ہے۔ (سورۃ الفاتحہ۲:)۔
دوسرے مقام پر فرمایا: ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم کو رزق دیا، پھر تم کو موت دے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے (مقررکردہ) شریکوں میں کوئی ہے جو یہ کام کرے؟ اللہ تعالیٰ پاک اور بلند ہے تمہارے شرک سے۔ (سورۃ الروم۴۰:)۔
توحید اُلُوہیت:
صرف اللہ تعالیٰ کو ہی معبود ماننا اور شرک سے اپنے آپ کو بچانا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
ترجمہ :اور تیرے رب نے فیصلہ کیا کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو۔ (بنی اسرائیل۲۳:)
ترجمہ:اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔(النساء۳۶:)
توحید اسماء و صفات:
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے جو نام اور صفات خاص کی ہیں ان پر ایمان لانا، اسی طرح جو صفات رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کی ہیں، ان پر اس طرح ایمان لانا کہ ان کی کیفیت تبدیل نہ ہو۔ ان صفات کی کوئی مثال نہیں ہے اور ان صفات کو معطل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
ترجمہ:اللہ تعالیٰ کے مانند کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔(الشوری۱۱:)
توحید کے مخالف اُمور(شرک):
شرک کی دو اقسام ہیں۔
شرکِ اکبر جو دین سے خارج کر دیتا ہے۔
شرکِ اصغر جو توحید کی کاملیت میں نقص پیدا کرتا ہے۔
عبادات میں سے کسی بھی عبادت کو غیر اللہ کیلئے انجام دینا شرک اکبر ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا، اور اس کے علاوہ ہر گناہ جسے وہ چاہے بخش دے گا۔(النسا۴۸:)
شرکِ اکبر کی اقسام درج ذیل ہیں:
دعاء میں شرک کرنا۔ جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں (اور وہ بھنور میں پھنس جاتی ہے) تو خالص ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور جب (اللہ) انہیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔ (سورۃ العنکبوت۶۵:)۔
نیت، ارادے اور مقصد میں شرک کرنا۔

ترجمہ:جو شخص دنیا کی زندگی اوراس کی زیب و زینت چاہتا ہے تو ہم اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی دیں گے اور کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔(سورئہ ہود۱۵:)
فرمانِ الٰہی ہے:
ترجمہ:یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے جہنم کے کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کا ہر کام ضائع ہو گیا اور ہر عمل باطل ٹھہرا۔ (سورہ ہود۱۶:)۔
اطاعت میں شرک کرنا: ’’ان (یہود و نصاریٰ) نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنے علما اور راہبوں کو رب بنایا ہوا تھا۔ (سورہ توبہ۳۱:)۔
محبت میں شرک کرنا: فرمانِ الٰہی ہے: ’’کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے علاوہ لوگوں کو شریک بنایا ہے۔ یہ ان سے اللہ تعالیٰ کی محبت جیسی محبت کرتے ہیں، اور ایمان والے تو صرف اللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرتے ہیں‘‘۔ (سورہ بقرہ۱۶۵:)۔
شرکِ اصغر :
شرک کی یہ ایسی قسم ہے جو شرک اکبر کی طرف لے جانے کا وسیلہ ہے۔ جیسا کہ ریاکاری کرنا۔ مثال کے طور پر ایک شخص کسی کو یوں کہے: ’’جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں‘‘۔ وغیرہ۔ یا نماز تو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے لئے پڑھی لیکن جب کسی نے دیکھا تو نماز کے کسی ایک رُکن کو تھوڑا سا لمبا کیا اور خوب سنوار کر ادا کیا کیونکہ کوئی دیکھ رہا ہے۔ چنانچہ یہ بھی شرکِ اصغر ہے۔
لاالٰہ الا اﷲکا معنی:
کلمۂ توحید کا مطلب ہے کہ اکیلے اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں ہے ۔اس کلمے پر کما حقہٗ عمل کرنے کی بہت سی شرطیں ہیں جو درج ذیل ہیں:
علم:
یعنی اس کلمے کے مطلب کا علم ہونا ضروری ہے۔ اس کلمے میں پہلے انکار ہے پھر اثبات ہے۔ اس بات کا علم ہونا چاہیے۔ یہ بھی واضح رہے کہ علم جہالت کے منافی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

ترجمہ:(اے نبیﷺ) جان لو! کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔(سورہ محمد۱۹:)
یقین کامل:
دوسری شرط ایسا یقین رکھنا ہے کہ جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’بے شک مومن وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں، پھر ان میں کسی قسم کا شک نہیں کرتے‘‘۔ (سورۃ الحجرات۱۵:)۔
اخلاص:
تیسری شرط ایسا اخلاص ہے کہ جس میں شرک کی آمیزش نہ ہو۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’خبردار! دین خالصتاً اللہ ہی کے لئے ہے۔ (سورۃ الزمر۳:)۔
ایک اور مقام پر فرمایا: ’’اور لوگوں کو صرف یک طرفہ ہوکر خالصتاً اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ (سورۃ البینہ۵:)۔
تصدیق کرنا۔ سچ بولنا:
چوتھی شرط ایسی صداقت ہے جس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ فرمانِ الٰہی ہے:
ترجمہ:’’کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟ اور البتہ تحقیق ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ سچ بولنے والوں اور جھوٹوں میں امتیاز کر دے۔ (سورۃ العنکبوت ۲تا۳)۔
محبت کرنا:
اس کلمے اور اس کے تقاضوں سے محبت کرنا بھی ایک اہم شرط ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
ترجمہ:’’اور لوگوں میں سے بعض اللہ کے علاوہ شریکوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کی جاتی ہے۔ (لیکن) ایمان والے تو صرف اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ (سورۃ البقرہ۱۶۵:)۔
فرمانبرداری کرنا
کلمۂ توحید جن اُمور پر دلالت کرتا ہے ان کاموں کو بجالانا بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید شاہد ہے: ’’جو شخص اپنے چہرے کو نیکی کرتے ہوئے اللہ کے لئے جھکا دے، تو تحقیق اس نے ایک مضبوط کڑے کو تھام لیا ہے‘‘۔ (سورہ لقمان۲۲:)۔
قبول کرنا:
اس کلمے کے تقاضوں کو قولاً و عملاً قبول کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
ترجمہ:’’بے شک ان (مشرکین)کو جب کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے تو یہ تکبر کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنوں، شاعر کے لئے چھوڑ دیں‘‘۔ (سورہ الصافات:۳۵تا۳۶)۔

اپنا تبصرہ بھیجیں