bill-gates

دنیا کا سب سے امیر شخص کتابیں کیوں پڑھتا ہے؟

EjazNews

اچھی کتابیں پڑھنا بل گیٹ کا شوق ہے۔ یہ شخص صرف مشینی آدمی نہیں اسے صرف نوٹ کمانے کا شوق نہیں ۔دنیا کی بڑی این جی او میں ایک این جی او اس کی ہے سماجی خدمت میں اس کی ایک جستجو ہے جس کے لیے وہ اپنے نصف سے زیادہ فنڈز مختص کر چکا ہے۔ اس کی خیراتی فاﺅنڈیشن دنیا کی بڑی فاﺅنڈیشن میں شامل ہے۔ یہی بل گیٹ تعلیم کو عام کرنا چاہتا ہے۔ شدید گرمیوں کے موسم میں پہاڑوں پر ٹھنڈے مقام پر یا ساحل سمندر کے کنارے کتابیں پڑھنا اس کا پرانا شوق ہے۔ گزشتہ برسوں اس نے اپنے لیے 28کتابوں اور 1جریدے کا انتخابات کیا آپ کو پتہ ہے وہ جریدا کون سا تھا یہ جریدا افغانستان میں عورتوں نے نکالا ۔ اس کا تعلق افغان خواتین کی سیاسی ، سماجی اور معاشی زندگی پر محیط ہے ۔ خواتین افغانستان میں کیا کردار ادا کر رہی ہیں اس کا پتہ اسے اس جریدے سے چلا۔اسی طرح اس نے موسم گرما میں جن پانچ کتابوں کا انتخاب کیا ان میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی کتاب آ فل لائف بھی شامل ہے۔ جمی کارٹر بطور صدر ہی نہیں ایک دانشور اور ایک کاشتکار کے طور پر بل گیٹ کی پسندیدہ شخصیت ہمیشہ سے رہے ہیں ۔ اس کتاب سے ہمیں پتہ چلا کہ جمی کارٹر کیا ہیں ان کا بچپن جنوبی افریقی کی گولیوں کی ناقابل برداشت والے معاشرے میں گزرا،ذرا بڑے ہوئے تو وہی زندگی ملی جو اچھی نہ تھی ان کے گھر میں پانی نہ تھا نہ بجلی تھی۔ان کے والد ایک کاشتکار تھے۔ بل گیٹ کو جمی کارٹر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ آئیے پڑھتے ہیں جمی کارٹر کی کتاب آ فل لائف پر کیا کہتے ہیں۔
ہمارے سابق صدر جمی کارٹر پہلے بھی دو درجن سے زائد کتابیں تصنیف کر چکے ہیں پھر بھی انہوں نے اپنی تصنیف کے لیے عظیم باتیں چھپا رکھی تھیں جو بہت تجسس آمیز ہیں اور ان کی زندگی میں اس کا بہت اثر ہے۔ مجھے جمی کارٹر کی کتاب سے یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ ایک عام کاشتکار دنیا کے سب سے بڑے عہدے پر کیسے پہنچے ان کی جارجیا میں پرورش کیسی ہوئی ،دیہی معاشرے میں ایک ایسے گھر میں مقیم تھے نہ پانی تھا نہ گھر میں بجلی تھی نہ انسولیشن تھی معاشرے کی اس بدترین زندگی سے وائٹ ہاﺅس کی خوبصورت زندگی تک وہ کیسے پہنچے یہ سب کچھ ان کی کتاب سے ملے گا۔
پلینس کے سفر پر جاتے ہوئے میں صدر کارٹر کی کتاب آ فل لائف بھی ساتھ لے گیا۔ کئی حوالوں سے یہ کتاب پڑھنے والی ہے۔ یہ کتاب دلچسپی سے بھرپور ہے۔ یہ سفر کی داستان ہے ۔بیانیہ انداز بہت سادہ پروقار ہے۔ ایک فرنیچر انڈسٹری سے تعلق رکھنے والا چھوٹا سا کاشتکار دیہی زندگی بسر کرنے والا کس طرح ایک بھرپور زندگی گزارنے میں کامیاب ہوا۔ یہ راز اسی کتاب میں ہے۔ اگرچہ وہ کئی عشروں سے تصنیفات لکھ رہے ہیں لیکن آ فل لائف میں بہت سی چیزیں نئی ہیں۔ یہ کتاب ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی جب قوم کا قومی شخصیات اور ا داروں پر اعتماد کم ہو گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ سابق صدر کارٹر نے بطور صدر کئی غلطیاں کیں۔ لیکن جب ہم یہ کتاب پڑھتے ہیں تو ہمیں ان کی شخصیت کے بارے میں پتہ چلے گا۔ اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ وہ کتنے بہادر اور کتنے بڑے لیڈر تھے۔ وہ دنیا کو کتنے اچھے طریقے سے سمجھتے تھے۔ اورانہوں نے کس طرح سے ہیومن رائٹس اور عالمی صحت کے شعبوں میں کام کرنے کے اربوں انسانوں کو ایک اچھی زندگی گزارنے کا موقع مہیا کیا ۔ ان کی ابتدائی زندگی جارجیا کے ایک چھوٹے سے گاﺅں سی ایلزsearsroebuckمیں گزری وہاں بجلی تھی نہ پانی اور نہ انسولیشن، گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں شدید سردی۔ ایک کاشتکار بننا ہی ان کا خواب نہ تھا۔ لیکن ان کی زندگی یہی تھی کاشتکاری۔ لیکن ان کی زندگی کا پہلا وسیع تر تجربہ اس وقت آیا جب وہ امریکی بحریہ میں شامل ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی نیول اکیڈیمی میں طالب علم کے طور پر شامل ہوئے۔ پھر وہ آبدوزوں پر آفیسر مقرر ہوئے۔ جنگ کوریا میں انہوں نے ایڈوانس آبی آبدوزوں میں کردار ادا کیا۔ امریکہ کے سابق صدر کارٹر کو ایک ایٹمی سائنسدان بھی کہا جاسکتا ہے۔ وہ امریکی بحریہ میں بہت تیزی سے ترقی کر رہے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جارجیا میں اپنے گھر میں منتقل ہوئے۔ ان کے باپ کا انتقال ہو گیا تھا ان کے گھر کو ان کی ضرورت تھی ۔ اسی سے ان کی اہلیہ بھی غصے میں تھیں۔ بطور ایک خود پسند شخصیت کے یہ بات بڑی منتقی ہے کہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلے ان کے والد جیمز کارٹر نے اپنے بیٹے کی کبھی داد و تحسین نہ کی۔ لیکن جمی کو کوئی گلہ نہیں۔ باپ بیٹے کا رشتہ جمی کارٹر کی پوری زندگی پر اثرات مرتب کرتا رہا اور ان کی شخصیت کی تشکیل میں ان کا کردار نمایاں رہا۔
کیا آپ جانتے کے امریکہ کا یہ صدر جیک آف ٹریک تھا لیکن دوسراحصہ اس پر صادر نہیں آتا۔وہ ماسٹر آف نن نہیں بلکہ کئی شعبوں کا ماسٹر تھا۔اکثر میں اس کی مہارت انتہا پر تھی۔ وہ کاشتکاری سے لے کے جنگلات سازی تک ،فارسٹ فائٹنگ سے لے کر فرنیچر سازی تک، کیلولیس سے لے کر ایٹمی فزکس تک سب پر اس کی نظر تھی۔ اتنے شعبوں کا ماہربھلا کیسے ہو سکتا ہے ۔ بطور صدر اس پر مائیکرومینجنگ کے حوالے سے بہت تنقید کے نشتر برسائے گئے
لوگ کہتے ہیں وہ وائٹ ہاﺅس کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں دخل دیتے ہیں حتیٰ کہ وائٹ کا ٹین اسکوپ کیسا ہوگا۔اس میں بھی وہ اپنی رائے ضرور دیتے تھے۔نچلی ترین سطح پر بھی ان کی نظر تھی۔ لیکن ان سب سے بالاتر جمی کارٹر کی نظر راست وابستگی اپنے سروسز پر تھی وہ اپنی خدمات کو بہترین سطح پر رکھنا چاہتے تھے اور جس کے لیے انہوں نے محنت بھی کی لیبر کی ، جسمانی لیبر بھی کی اور جارجیا کے قانون ساز بھی بنے۔ تعلیمی بورڈ میں بھی شامل رہے،مقامی ہسپتال کی اتھارٹی کے ممبر بھی رہے ۔ اور کئی بہت سی رضا کارانہ سیٹوں پر بھی کام بھی کیا۔نوجوان کارٹر 1962ءمیں جارجیا کی سینٹ کا ممبر بنا۔ وہ بہت خوش قسمت تھے وہ ہر دوڑ میں ان کی اہلیہ ان کے ساتھ تھیں۔ان کی بڑی اچھی سیاسی جبلت کی حامل تھی اور وائٹ ہاﺅس تک پہنچنے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے ۔ یہ سفر جمی کارٹر نے صرف 14سال میں طے کر لیا۔ میں اس کتاب کے صرف د و واقعات آپ کے پیش نظر رکھنا چاہو ں گا۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ نہ ہوتا اگر کارٹر اپنی چھوٹی سی ذہانت کا مظاہرہ نہ کرتے اور چھوٹا سے جیسٹرظاہر نہ کرتے۔ اسرائیلی وزیراعظم مینا چین بیکن جمی کارٹر سے شدید ناراض تھے اور کسی بھی لمحے مذاکرات ختم ہونے والے تھے۔ کارٹر اسرائیلی وزیراعظم بیگن کے کیبن میں گئے اور انہیں کچھ ان کے 8پوتوں کی تصویریں دیں جن پر ذاتی جملے تحریر تھے۔ انہیں پڑھ کر بیگن کی آنکھیں تر ہوگئیں ان کی آنکھ زبان گنگ ہو گئی اور آنسو ان کے چہر ے پر بہنے لگے۔وہ بہت جذباتی تھے ۔ کارٹر بھی بہت جذباتی تھے۔ چند منٹ تک سوچتے رہے اور کچھ اور کوشش کرنے کو کہا،اور پھر جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔
دوسرا واقعہ ایران ہوسٹیج ، ا یران میں امریکی یرغمالیوں کا بحران ہے۔ سی آئی اے نے جرمنی کے جعلی پاسپورٹوںپر اپنے کچھ ایجنٹ ایران میں بھجوا دئیے ۔ کسٹم حکام نے ایک ایجنٹ کو جعلی پاسپورٹ رکھنے پر حراست میں لے لیا ۔ تمہارے پاسپورٹ میں کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے ،افسر نے کہامیں نے پہلی مرتبہ جرمنی کی ایسی کوئی دستاویز دیکھی ہے جس میں پورے نام کی جگہ پر مڈل نام پہلے لکھا گیا ہے۔ اس میں کچھ نہ کچھ گڑ بڑ تو ہے آپ کا نام جوزف ایچ شیمڈ ہے۔ ایجنٹ نے فوری ذہانت کا مظاہرہ کیا آپ ٹھیک کہتے ہیں جب میں پیدا ہوا تومیرا مڈل نام ہٹلر تھا اورمیں نے یہ نام استعمال نہ کرنے کے لیے خصوصی اجازت لی تھی۔ اس طرح اس ذہانت نے اسے بچا لیا۔ ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اچھائیاں کریں اور خود بھی اچھا رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں