inidan Army

چین اور انڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں 20 انڈین فوجی اور ایک افسر ہلاک

EjazNews

لداخ کی وادی گالوان میں انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان سرحد پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔چین اور انڈیا کے درمیان سرحد پر کم از کم 2 مقامات پر تقریباً ایک ماہ سے کشیدہ صورت حال ہے۔
گزشتہ روز انڈین آرمی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق سرحدی کشیدگی کو حل کرنے کے لیے فی الحال دونوں ممالک کے سینئر فوجی افسران کے درمیان ملاقات ہو رہی ہے۔
نئی صورتحال میں جو بیان سامنے آیا ہے اس کے مطابق انڈین فوجی چینی سرحد پر ایک پرتشدد جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔
انڈیا کے سرکاری بیان کے مطابق یہ تصادم وادی گالوان کی سرحد پر فوجیوں کی واپسی کے دوران ہوئی ہے۔ لداخ میں انڈیا چین سرحد پر واقع وادی گالوان میں دونوں ممالک کی فوج کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں انڈیا کی جانب سے ایک آرمی افسر اور 20 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب چین نے انڈیا پر متنازع سرحد کو پار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ جھڑپ دونوں اطراف کی جانب سے علاقے میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور کئی ہفتوں سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ہوئی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ڑاو نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ انڈین افواج نے پیر کو دو مرتبہ سرحد عبور کی اور چینی افواج پر حملہ کیا اور انہیں اشتعال دلایا جس کے بعد دونوں افواج کے درمیاں جھڑپیں ہوئی۔ بیجنگ نے دہلی سے اس معاملے پر سخت احتجاج کیا ہے، تاہم ترجمان نے جھڑپوں میں کسی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا۔
دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان 3500 کلومیٹر سرحد ہے جس پر کوئی باقاعدہ حد بندی نہیں ہوئی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان اکثر اوقات جھگڑا اور تناو معمول کی بات ہے تاہم دہائیوں سے یہاں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔
9 مئی کو چین اور انڈیا کے درمیان جھڑپ میں دونوں کے کئی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔ اس جھڑپ میں دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف مکوں اور پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات میں تین انڈین فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات تھیں. جبکہ بعد میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ تین نہیں 20 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں