hazrat dawood as

حضرت داﺅد علیہ السلام(۲)

EjazNews

تسخیر و تسبیح جبال و طیور:
حضرت داﺅد علیہ السلام خدائے تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں بہت زیادہ مصروف رہتے تھے اور اس قدر خوش الحان تھے کہ جب زبور پڑھتے یا خدا کی تسبیح و تہلیل میں مشغول ہوتے تو ان کے وجد آفریں نغموں سے نہ صرف انسان بلکہ وحوش و طیور وجد میں آجاتے اور آپ کے ارد گرد جمع ہو کرحمد خدا کے ترانے گاتے اور سریلی اور پر کیف آوازوںسے تقدیس و تسبیح میں حضرت داﺅد کی ہمنوائی کرتے اور ضرب یہی نہیں بلکہ پہاڑ بھی خدا کی حمد میں گونج اٹھتے۔ چنانچہ داﺅد علیہ السلام کی اس فضیلت کا قرآن عزیز نے سورة انبیاءسبا اور صٓ میں صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
ترجمہ: اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کوتابع کر دیا ہے کہ وہ داﺅد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور ہم ہی میں ایسا کرنے کی قدرت ہے اور بیشک ہم نے داﺅد کو اپنی جانب سے فضیلت بخشی ہے (وہ یہ کہ ہم نے حکم دیا) اے پہاڑواور پرندوں تم داﺅد کے ساتھ مل کر تسبیح اورپاکی بیان کرو۔ (سبا)
ترجمہ: بیشک ہم نے داﺅد کے لیے پہاڑوں کو مسخر کر دیا کہ اس کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کرتے ہیں اور پرندوں کے پرے کے پرے جمع ہوتے اور سب مل کر حمد خدا کرتے ہیں۔ (صٓ)
بعض مفسرین نے ان آیات کی تفسیر میں کہا ہے کہ چرند و پرند اور پہاڑوں کی تسبیح زبان حال سے تھی گویا کائنات کی ہر شے کا وجود اور اس کی ترکیب بلکہ اس کی حقیقت کا ذرہ ذرہ خدا کی خالقیت کا شاہد ہے اور یہی اس کی تسبیح و تحمید ہے۔
سیب اگرچہ زبان حال نہیں رکھتا اور نطبق سے محروم ہے لیکن اس کی خوشبو اور اس کی لطافت، اس کا حسن اور اس کی نزاکت جدا جدا پکار کر کہہ رہے ہیں فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
امام رازی نے یہی مسلک اختیار کیا ہے مگر بایں جلالت قدر اس مسلک کے ثبوت میں ایسی فلسفیانہ دلیل پیش کی ہے جو عقل و نقل دونوں اعتبار سے رکیک ہے بلکہ اس کو دلیل کہنا بھی غلط ہے۔
ہم کو یہ حقیقت کبھی بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قرآن عزیز کا طرز استدلال ان فلسفیانہ موشگافیوں کے تابع نہیں ہے جو محض ظن اور تخمین کی بنیادوں پر قائم ہیں ۔ خصوصاً یونانی فلسفہ کے مزعومہ اصول پر ایک بات کہی جائے اور پھر قرآن عزیز کے صاف اور سادہ مطلب کو اس کے سانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو قرآن عزیز اس کو برداشت نہیں کرتا۔
اس خیال کے برعکس محققین کی یہ رائے کہ حیوانات، نباتات اور جمادات حقیقةً تسبیح کرتے ہیں اورا ن کی تسبیح کے صرف یہی معنی نہیں ہیں کہ ان کا وجود زبان حال سے صانع حکیم پر دلالت کرتا ہے اور یہی ان کی تسبیح ہے، اس لیے کہ قرآن عزیز نے سورة بنی اسرائیل میں بصراحت یہ اعلان کیا ہے۔
ترجمہ: آسمان اور زمین خدا کی تسبیح کرتے ہیںا ور کائنات کی ہر شے خدا کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کا فہم و ادراک نہیں رکھتے۔ (بنی اسرائیل)
اس جگہ دو باتیں صاف نظر آتی ہیں (۱) کائنات کی ہر شے تسبیح کرتی ہے (۲) جن و انس ان کی تسبیح سمجھنے کا ادراک و فہم نہیں رکھتے تو اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین اور کائنات کی ہر شے حیوانات، نباتات اور جمادات کی جانب تسبیح کی نسبت فرمائی ہے تو یہ ضرور ہے کہ ان اشیا ءمیں تسبیح کا حقیقی وجود موجود ہو اور پھر دوسرے جملہ کا اس پر اطلاق کیا جائے کہ جن وانس ان کی تسبیح کے فہم و ادراک سے قاصر ہیں۔ اگر اس جگہ تسبیح کے حقیقی معنی نہ لیے جائیں بلکہ ”زبان حال سے تسبیح کرنا“ اس معنی کو اختیار کیا جائے تو پھر قرآن عزیز کا یہ ارشاد یہ کیسے صحیح ہوگا ولکن لا تفقھون تسبحیھم تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے اس لیے کہ اگر ایک دہری اس کونہیں سمجھتا کہ کائنات کا ہر ذرہ خدائے واحد کی ہستی کا پتہ دے رہا ہے تو تمام اہل مذاہب خصوصاً ہر مسلمان تو بے شبہ اس کو سمجھتا ہے اور وہ جب کبھی وجود باری پر کچھ سوچتا ہے تو اس کا یقین کر کے سوچتا ہے کہ کائنات کاذرہ ذرہ اس کی ہستی کا اقرار کر رہا ہے اور ہر شے کا وجود ہی خالق کائنات کا پتہ دے رہاہے۔ ابن حزم نے ”الفصل “ میں اس جگہ یہ شبہ پیش کیا ہے کہ اگر حیوانات، نباتات اور جمادات کی تسبیح کو حقیقةً تسبیح پر محمول کیا جائے تو یہ اشکال لازماً آئے گا کہ ایک دہری انسان بھی ”شے “ ہے۔ مگر وہ خدا کی تسبیح کسی لمحہ بھی نہیں کرتا۔ لہٰذا آیت کا عموم کیسے صحیح باقی رہے گا۔
ابن حزم کا یہ اشکال بہت ہی سطحی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس شبہ کے بیان کرتے وقت ان کی نظر قرآن عزیز کے اس مطلب و مراد سے غافل ہو گئی جو اس مقام پر اس کے پیش نظر ہے اور انہوں نے آیت زیر بحث کے سیاق و سباق پر غور نہیں فرمایا۔
قرآن عزیز اس آیت سے قبل مشرکین کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کوبتا رہا ہے کہ مشرکین اپنی نا سمجھی اور کج فہمی سے خدا کے ساتھ معبود ان باطل کو شریک ٹھہراتے ہیں لیکن قرآن جب اس مسئلہ کے بطلان کو ان پر واضح کرتا اور طرح طرح سے سمجھاتا ہے تو ان پر نصیحت کا الٹا اثر پڑتا ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ نفرت کرنے لگتے ہیں حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے ان تمام باطل نسبتوں سے جو مشرکین اس کی جانب منسوب کرتے ہیں۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ یہ انسان ہی ہے جو اس قسم کی مشرکانہ گمراہی میں مبتلا ہو رہا ہے ورنہ ساتوں آسمان و زمین اور کائنات کی ہر شے خدا کی پاکی بیان کرتی اور شرک سے بیزاری کا اظہار کرتی ہے۔ مگر انسان ان کی اس تسبیح کے فہم و ادراک سے قاصر ہے بیشک اللہ بردبار ہے، بخشنے والا۔
اس کے بعد مشرکین کے باطل عقیدہ کا ثمرہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے ہیں تو ہم ان کے اور مشرکین کے درمیان ایک ”حجاب “ قائم کر دیتے ہیں یعنی وہ جب قرآن کو خدا کا کلام نہیں مانتے تو وہ آپ کو رسول بھی تسلیم نہیں کرتے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ آپ کی نصیحت سے منہ موڑ کر آخرت کے انجام سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
قرآن عزیز کی تفصیلات اور سیاق و سباق کی تصریحات کے بعد ابن حزم کے شبہ کے لیے کو ئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی، وہ توصاف صاف یہ کہہ رہا ہے کہ خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی ناپاک جرا¿ت ”انسان“ کو ہی ہوئی اس لیے کہ وہ متضاد اوصاف کا مجموعہ ہے لیکن اس کے علاوہ کائنات کی ہر شے خدا کے سامنے حقیقت کے سوا اور کچھ کہنے کی جرا¿ت نہیں رکھتی اور اسی لیے وہ صرف پاکی ہی بیان کرتی ہے اور ”تسبیح و تحمید“ اس کاشیوہ ہے۔
شیخ بدر الدین عینی نے محققین کے اس مسلک کو اس حدیث کے تحت میں مختصر مگر مدلل بیان کیا ہے جس میں دو قبروں میں مردوں پر عذاب ہونے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درخت کی ایک سبز شاخ کو چیر کر دونوں قبروں پر لگاتے ہوئے یہ ارشاد فرمانے کاذکر ہے کہ جب تک یہ شاخیں خشک نہ ہونگی یہ دونوں عذاب سے محفوظ رہینگے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
”الہ علم آیة وان من شئی الا یسبح بحمدہ کے معنی بیان کرتے ہیں کہ ہرزندہ شے خدا کی حمد کرتی ہے اور ہرشے کو اس کے درجہ کے مناسب زندگی حاصل ہے اور لکڑی (نباتات) میں زندگی اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک وہ سبز رہے اور خشک ہو جانا اس کی موت کا اعلان ہے اور پتھر (جمادات )کی زندگی اس کے سالم رہنے سے وابستہ ہے اور اس کا ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا اس کی موت کا پیغام ہے اور محققین کایہی مسلک ہے کہ آیت (بغیر کسی تاویل کے) اپنے عموم پر ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ اشیاءکیا حقیقةً تسبیح کرتی ہیں یا اپنے حال سے صانع اور خالق پر دلالت کرنا ہی ان کی تسبیح ہے۔
تو اہل تحقیق کامذہب یہ ہے کہ یہ اشیاءحقیقةًتسبیح کرتی ہیں اور جگہ ”عقل“بھی اس کو محال نہیں سمجھتی اور ”نص“ بھی بصراحت اس کا اظہار کرتی ہے تو ضروری ہے کہ اس کا مطلب وہی لیا جائے جو اہل تحقیق فرماتے ہیں۔
نص قرآنی کی صراحت تو آپ کے سامنے ہے لیکن عقل کیوں اس کو محال نہیں سمجھتی تو اس کا فتویٰ عقل ہی سے لیجئے۔
عقلاءدہر کا اس پر اتفاق ہے کہ گفتگو اور قول کے لیے ”نطق“ شرط نہیں ہے اور اگر کسی شے میں ”حیات“ اور ”صوت“ موجود ہیں تو اس کی جانب قول کی نسبت بے تردد صحیح ہے چنانچہ فلاسفہ یونان حیوانات کے اندر حیات کے ساتھ جزئیات کا حس بھی تسلیم کرتے رہے ہیں اور جدید سائنس کے دور میں تو یہ مشاہدہ ہو رہا ہے کہ نباتات کے اندر بھی ”حیات“ اور ”احساس“ دونوں چیزیں موجود ہیں حتیٰ کے جزئیات کا تمیز بھی تجربہ میں آچکا ہے چھوئی موئی کا درخت ہاتھ لگانے سے مرجھا جاتا ہے اور ہاتھ الگ ہونے سے پھر شاداب ہو جاتا ہے۔ ”مردم خور درخت“ انسان یا حیوان کے قریب ہونے پر اس کا احساس کرتا اور فوراً اپنی شاخیں دراز کرکے اس کو دبوچ کر پانی گرفت میں کر لیتا ہے۔ یہ اب رات دن کے مشاہدے ہیں۔بعض سائنسدانوں کا اب یہ دعویٰ ہے کہ ایک نہایت ہی ضعیف اور غیر محسوس قسم کی حیات جمادات کے اندر بھی پائی جاتی ہے اور وہی اس کے نمو کی کفیل ہے۔
غرض نقل اور عقل دونوں اعتبار سے قرآن عزیز کا یہ ارشاد کہ ”کائنات کی ہر شے خدا کی حمدو ثناءکرتی ہے“ اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے ہے اور ”دلالت حال“ کے ساتھ اس کی تاویل کرنا فضول ہے۔ البتہ ان کی یہ تسبیح و تحمید انسانوں کے عام فہم و ادراک سے بالاتر رکھی گئی ہے اور خدا کی مرضی اور مشیت کے ماتحت کبھی کبھی انبیاءو رسل کو اس کا فہم و ادراک عطا ہوجاتا ہے جو ان کے لیے بطور نشان (معجزہ) کے ہوتا ہے چنانچہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ایک خصوصی شرف و امتیازیہ تھا کہ جب وہ صبح و شام خدا کی حمدو ثنا کرتے اور اس کی پاکی اور تقدیس میں مشغول ہوتے تو وحوش و طیور اور پہاڑ بھی ان کے ساتھ بلند آواز سے خدا کی تسبیح و تحمید میں ان کی ہمنوائی کرتے اور حضرت داﺅد اور وہ سب ایک دوسرے کی تسبیح و تحمید کو سنتے، حضرت داﺅد کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کا قرآن عزیز نے سورة انبیاء، سبا اورص ٓ میں صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
یہ واضح ہے کہ علماءحق میں سے جن علماءنے سورہ بنی اسرائیل کی آیت میں جن و انس کے علاوہ اشیاءکی تسبیح کو ”حال“ پر محمول کیا ہے، انہوں نے بھی بلا خوف یہ تسلیم کیا ہے کہ حضرت داﺅد کا معاملہ اس عام حالت سے جدا معجزات سے تعلق رکھتا ہے اوران مقامات میں حیوانات و جمادات کی تسبیح و تحمید حقیقی معنی ہی کے لحاظ سے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان معجزات میں حقیقت ہی مراد ہے جن میں کنکریوں کا کلمہ پڑھنا، امتن خانہ کا گریہ کرنا اور حیوانات کا آپ سے ہم کلام ہونا ثابت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں