Dr_yasmen_rashid

لاہور کے جن علاقوں میں وائرس کا زیادہ پھیلاﺅ ہے ان کو بند کر دیا جائے گا: وزیر صحت پنجاب

EjazNews

وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاون میں نرمی کے بعد حکومت کی طرف سے ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کی پوری کوشش کی گئی اور اس کی خلاف ورزی پر دکانیں اور مارکیٹس بھی سیل کی لیکن لوگوں نے عمل نہیں کیا۔وزیراعظم عمران خان لاہور آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ جن علاقوں میں وائرس کا پھیلاوزیادہ ہے اس حوالے سے اقدامات کرنے ہوں گے۔ گزشتہ 2 روز میں ہم نے دیکھا کہ لاہور کے جن علاقوں میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں ان کے حوالے سے مختلف احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں گی۔ وائرس کے زیادہ پھیلاو کے باعث کل 12 بجے کے بعد ان علاقوں کو بند کردیا جائے گا۔ لاہور میں شاہدرہ، اندرون لاہور کے کچھ علاقے، مزنگ، شاد باغ، ہربنس پورہ، گلبرگ، لاہور کینٹ کے کچھ علاقے، نشتر ٹاون کا بیشتر حصہ اور علامہ اقبال ٹاون میں شامل کچھ سوسائٹیز کو مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔ ان علاقوں میں، کھانے پینے کی اشیا، فارمیسیز اور کچھ کاروبار جیسا کہ حفاظتی طبی آلات بنانے والی فیکٹریاں کھلی رہیں گی، جن کی فہرست آویزاں کردی جائے گی جس کا اطلاق کل رات 12 بجے سے ہوگا۔کمشنر لاہور اور سی سی پی او لاہور کی مدد سے اس حکم پر عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔لاہور کے ان علاقوں میں کم از کم 2ہفتوں کے لیے لاک ڈاون لگایا جارہا ہے اور دوران صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے اگر کچھ بہتری آئی تو ان علاقوں کو وقت سے پہلے کھولا جاسکتا ہے۔دیگر علاقے جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہورہا انہیں بھی خبردار ہوجانا چاہیے کہ اگر ایسا کرنے سے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا تو یہ نہ ہو دیگر علاقوں کو بھی بند کردیا جائے۔ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں تاکہ معیشت بھی چلتی رہے اور کاروبار بھی چلتا رہے تاکہ وائرس کے پھیلاو میں روک تھام کی جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں