typhoid fever

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ اور صحت مندی

EjazNews

عام ٹائیفائیڈ، ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ میں کیوں کرتبدیل ہوا، اس مرض کے لاحق ہونے کی وجوہ کیا ہیں اور وہ کون سی علامات ہیں، جن کے ظاہر ہونے پر معالج سے فوری رابطہ ضروری ہے اور کس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کہ مرض سے بچا جا سکے؟
ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کو سمجھنے سے قبل عام ٹائیفائیڈ کی وضاحت ضروری ہے، جو ایک بیکٹریا “Salmonella typh”کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ یہ مخصوص بیکٹریامُنہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر، خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے، خاص طور پرLymph glands اور تلّی وغیرہ میں۔ اس کے بعد مریض بخار کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ بیکٹریا آلودہ،گندے پانی میں پایا جاتا ہے۔ اور ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی وجہ بھی یہی بیکٹریا ہے۔ تاہم، فرق یہ ہے کہ اس ٹائیفائیڈ کے جراثیم نے اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف اپنے اندر مدافعت پیدا کرلی ہے، اِسی لیے اسے XDRT: Extensively Drug-Resistant Typhoid کہا جاتا ہے۔
جراثیم کبھی ایک جیسے نہیں رہتے، ان میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اگر جراثیم میںکچھ ادویہ کے خلاف مدافعت پیدا ہو جائے، تو جس عارضےکے لیے وہ ادویہ استعمال کی جارہی ہوتی ہیں،اُس سے افاقہ نہیں ہوتا۔ جیساکہ ایکس ڈی آر ٹی بی یا اب ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ ہیں۔ جن ممالک میںبھی ، کسی بھی وجہ سےاینٹی بائیوٹیکس کا استعمال عام ہوا یا پھر مریضوں نے نسخے کے مطابق دوا استعمال نہیں کی، تو وہاں ایکس ڈی آر کے کیسز زیادہ سامنے آئے۔
یہ مرض قطعاً اچانک عام نہیں ہوا ۔ نومبر 2016ء میں جب پہلی بار حیدرآباد سے ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کا کیس رپورٹ ہوا، تب طبّی ماہرین نے فوری طور پر محکمۂ صحت،سندھ کو مطلع کر دیا تھا کہ آلودہ پانی، اینٹی بائیوٹیکس کا غیرضروری استعمال ،سیلف میڈی کیشن اور غیر معیاری لیبارٹریز(کیونکہ ان لیبارٹیر کی رپورٹس میں مرض کی تشخیص پازیٹو ہوتی ہے، جبکہ مریض ٹائیفائیڈ میں مبتلا نہیں ہوتا،اِسے طبّی اصطلاح میں false positive test رپورٹ کہا جاتا ہے۔جب کہ معالج اسی رپورٹ کی بنیاد پر علاج کرتا ہے، جو ٹائیفائیڈ کا ہوتا ہے )مرض کےتیزی سے پھیلائو کی وجہ بن سکتے ہیں،لیکن روک تھام کے ضمن میں کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس عارضے کے کیسز زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی علامات کا ذکر کیا جائے، تو ان میں تیز بخار، جسم، پیٹ میں درد، کبھی کبھار دست یا ڈائریا، بھوک ختم ہو جانا یا کم لگنا، قے، متلی اور کھانسی وغیرہ شامل ہیں۔
ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کا بیکٹریا جب جسم میں داخل ہوتا ہے، تو تقریباً ہفتے، دس دِن بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر بروقت تشخیص کے بعد علاج معالجے میں تاخیر نہ ہو، تو عمومی طور پر دس سے بارہ روز میں مریض ٹھیک ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہ بیکٹریا مریض کی قوت مدافعت بہت کم کردیتا ہے، تو مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے لیے 20سے 25روز درکار ہوتےہیں۔ رہی بات تشخیص کی، تو جب کوئی مریض مذکورہ علامات کے ساتھ معالج کے پاس آتا ہے، تو سب سے پہلے تو معمول کے ٹیسٹ، جن میں خون، پیشاب اور پاخانے کے ٹیسٹ، سینے کا ایکس رے وغیرہ شامل ہیں، تجویز کیے جاتے ہیں۔ ان کی رپورٹ آنے پر حتمی تشخیص کے لیےایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کے مخصوص ٹیسٹ مثلاً Typhidot اورWidalتجویزکیے جاتے ہیں۔
ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ ہر عُمر کے افراد کو متاثر کرسکتا ہے، تاہم بچّوں اور بوڑھوں کی قوتِ مدافعت کمزور کے سبب انھیں جلد اپنا شکار بنا لیتا ہے۔
بخار اور انفیکشن کے سبب شکمِ مادر میں پلنے والا بچّہ انتقال کر سکتا ہے ، کوئی پیدایشی نقص یا ذہنی و جسمانی معذوری بھی ہو سکتی ہے۔حتیٰ کہ حمل تک ضائع کرنے کی نوبت پیش آسکتی ہے۔ اِسی طرح خدانخواستہ اگر دودھ پلانے والی مائیںاس عارضے کا شکار ہوجائیں، تو دورانِ علاج نومولود کو اپنا دودھ نہ ہی پلائیں، تو بہتر ہے۔
اس مرض کی کئی پیچیدگیاں ہیں، مثلاً آنت کا پھٹ جانا، نمونیا، جگر اور دماغ کا متاثر ہوجانا، خون میں لوتھڑے بننا، جبکہ ڈائریا کی وجہ سے ڈی ہائی ڈریشن کے بھی امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے اس ضمن میں جو ایک بنیادی اقدام ناگزیر ہے، وہ71برسوں سے تاحال کیا نہیں گیا۔یعنی ہر سطح تک عوام کو صاف پانی مہیّا کرنا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت صرف یہی ایک قدم اُٹھالے، تو اس موذی مرض ہی پر نہیں، بلکہ ناصاف پانی سے پھیلنے والے دیگر عوارض مثلاً ہیپاٹائٹس اے، ای اور ہیضے وغیرہ کی بھی روک تھام سہل ہوجائے گی۔
یہ ویکسین ہر عُمر کے افراد کے لیے مؤثر ہے،جو کیپسول اور انجیکشن کی صورت دستیاب ہے۔ویسے تو اس کی ایک ہی ڈوزکافی ہے، مگر بہتر ہوگا کہ مستند معالج سے رابطہ کرلیا جائے۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مستند ڈاکٹرز کی نسبت اتائی اینٹی بائیوٹیکس زیادہ تجویز کرتے ہیں، پھر اینٹی بائیوٹیکس کے بے دریغ استعمال کی کوئی ایک وجہ نہیں۔ لوگ خود بھی سیلف میڈی کیشن کرتے ہیں، تو میڈیکل اسٹورز والے بھی علامات سُن کر اینٹی بائیوٹیکس دے دیتے ہیں۔ ایک مستند معالج مرض کی نوعیت دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ آیا مریض کے لیے اینٹی بائیوٹیکس مفیدبھی ہیں یا نہیں،نیزمریض کویہ ادویہ کتنی ملی گرام اور کتنے عرصے تک استعمال کرنی ہیں،اس کا بھی فیصلہ معالج ہی کرتا ہے۔ مشاہدے میں ہے کہ مریض اپنی مرضی سے دوچار دِن اینٹی بائیوٹیکس استعمال کر کے چھوڑ دیتے ہیں یا پھر ڈاکٹر کی ہدایت کے برعکس کم ملی گرام کی دوا کھاتے ہیں۔ بعض اوقات میڈیکل اسٹور والے کے پاس وہ دوا نہیں ہوتی، تو اسی فارمولے میں کوئی دوسری دوا دے دی جاتی ہے۔ تو یہ سب درست نہیں۔ کوئی بھی مرض لاحق ہونے کی صورت میں صرف مستند معالج سے رجوع کریں اور اُسی کی ہدایات پر عمل کریں۔ اگر ادویہ کا کورس مکمل ہونے سے قبل صحت یاب ہوجائیں، تب بھی علاج کا دورانیہ لازماً مکمل کریں۔ کیونکہ علاج کا دورانیہ مکمل نہ کرنے کی صورت میں مزید مضر اثرات مرتّب ہو سکتے ہیں۔
جولائی 2018ء میں امریکہ نے اپنے شہریوں کو پاکستان جانے کے لیے احتیاط کا مشورہ دیا تھا اور یونائیٹڈ اسٹیٹ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریویشن نے لیول 2کا الرٹ جاری کیا تھا ۔اس ضمن میں حکومت پاکستان نے مرحلہ وار ویکسی نیشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے،جو ایک اچھا اقدام ہے بشرطیکہ مہم جلد از جلد شروع کی جائے۔ رہی بات ذرائع ابلاغ کی، تو یہ مُلک کا چوتھا ستون ہے، جس کے ذریعے ہر سطح تک مرض کی علامات، بچائو اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کر کے اسے بہت مؤثر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سب سے ضروری تو مستند معالج سے علاج کروانا ہے۔ پھر مریض کی ادویہ، کھانے پینے اور آرام کا خاص خیال رکھا جائے۔ نیز،اُسے صاف ستھرا اور پُرسُکون ماحول بھی فراہم کریں۔
صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں، اُبال کر صاف پانی پئیں یا پھر کسی اور طریقے سے پانی صاف کریں۔ ہاتھوں کو بار بارصابن سے دھوئیں ،خصوصاً کھانے سے قبل اور بیت الخلاء کے استعمال کے بعد۔برتن اور باورچی خانہ صاف رکھیں، کھانا ہمیشہ ڈھک کر رکھیں، کھلے مقامات پر فروخت کیے جانے والا کھانا یا دیگر اشیاء نہ کھائیں، پھل اور سبزیاں اُبلے پانی سے دھوئیں۔ ایسا کچا گوشت اور سمندری غذا، جس میں جراثیم کا خدشہ ہو، استعمال نہ کریں۔ پیپر کرنسی بھی جراثیم کے پھیلائو کا ذریعہ ہے، لہٰذا نوٹ گننے کے بعد بھی ہاتھ اچھی طرح دھوئیں، جب کہ کسی ریستوران وغیرہ میں کھانا کھانے سے قبل صفائی کے حوالے سےاچھی طرح اطمینان کرلیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ گرمیوں ہیں اور عین ممکن ہے کہ بازاری برف کے استعمال کے نتیجے میں مزید کیسز رپورٹ ہوں، لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ بازاری برف استعمال نہ کریں۔ بصورت دیگر اچھی طرح تسلّی کر لی جائے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں