hazrat dawood as

حضرت داؤد علیہ السلام(۱)

EjazNews

نسب نامہ:
گزشتہ واقعہ میں حضرت دائود علیہ السلام کا مختصر ذکر آچکا اور یہ واضح ہو چکا کہ قتل جالوت میں بے نظیر شجاعت کے اظہار نے بنی اسرائیل کے قلوب پر دائود علیہ السلام کی محبت و عظمت کا سکہ بٹھا دیا تھا اور ان کی شخصیت ممتاز اور نمایاں ہو چکی تھی چنانچہ یہی دائود آگے چل کر خدا کے برگزیدہ رسول اور پیغمبر بنے اور بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لیے رسول اور ان کے اجتماعی نظم و ضبط کے لیے خلیفہ مقرر ہوئے۔
ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں حضرت دائود کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے۔ دائود بن ایشیا(ایشی)بن عوبد بن عابر (یا عابز) بن سلمون بن نحشون بن عونیا ذب (یا عمی ناذب) بن ارم (یا رام) بن حصرون بن فارص بن یہوذا بن یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم (علیہ السلام) خطوط کے اندر جو نام درج ہیں وہ ابن جریر سے منقول ہیں اور ثعلی نے عرائس البیان میں بعض ناموں کی جگہ دوسرے نام بیان کیے ہیں مگر اس پر سب کا اتفاق ہے کہ دائود علیہ السلام اسرائیلی اسباط میں یہودا کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔(تاریخ ابن کثیر)
توراۃ میں ہے کہ ایشا یا ایشی کے بہت سے لڑکے تھے اور دائود ان سب میں صغیر سن تھے۔
حلیہ مبارک:
محمد بن اسحق نے وہب بن منبہؒ کے واسطہ سے حضرت دائود کا حلیہ مبارک اس طرح نقل کیا ہے: پستہ قد نیگوں آنکھیں، جسم پر بال بہت کم تھے چہررہ اور بشر ے سے طہارت قلب اور نفاست طبع جھلکتی تھی۔
قرآن عزیز میں ذکر مبارک:
قرآن عزیز میں حضرت دائود علیہ السلام کا ذکرسور بقرہ، نساء، مائدہ، انعام، اسراء، انبیاء،نمل، سبا اورص میں آیا ہے ان سورتوں میں 16جگہ نام مذکور ہے اور بعض سورتوں میں مختصر اوربعض میں تفصیلی طورپر ان کے حالات وواقعات کاذکر اور ان کی رشد و ہدایت کابیان ہے۔
نبوت و رسالت:
حضرت دائود علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی محبت کا نتیجہ یہ نکلا کہ طالوت کی موجودگی میں ہی یا اس کی موت کے بعد عنان حکومت حضرت دائود علیہ السلام کے ہاتھ میں آگئی اور اس عرصہ میں ان پر خدا کا ایک اور زبردست انعام یہ ہوا کہ وہ منصب نبوت و رسالت سے بھی سرفراز کر دئیے گئے۔
حضرت دائود سے قبل بنی اسرائیل میں یہ سلسلہ قائم تھا کہ حکومت ایک سبط (خاندان) سے وابستہ تھی اور نبوت و رسالت دوسرے سبط سے، یہودا کے گھرانے میں نبوت چلی آتی تھی اور افراہیم کے خاندان میں حکومت و سلطنت دائود علیہ السلام پہلے شخص ہیں جن کے اندر خدائے تعالیٰ نے یہ دونوں نعمتیں یکجا جمع کر دی تھیں وہ خدا کے پیغمبر اور رسول بھی تھے اور صاحب تاج و تخت بھی ۔ چنانچہ قرآن عزیز نے حضرت دائود کے اس شرف کا اس طرح ذکر کیا ہے:
ترجمہ: اللہ نے ان کو حکومت بھی عطا کی اور حکمت (نبوت) بھی اور اپنی مرضی سے جو چاہا سکھایا۔ (بقرۃ)۔
ترجمہ : اے دائود! بے شک ہم نے تم کو زمین میں اپنا نائب بنایا ہے۔ (صٓ)
ترجمہ: اور ہم نے ہر ایک (دائود و سلیمان) کو حکومت بخشی اور علم عطا کیا۔ (انبیاء)
انبیاء و رسل میں سے حضرت آدم علیہ السلام کے علاوہ حضرت دائود ہی وہ پیغمبر یں جن کو قرآن عزیز نے خلیفہ کے لقب سے پکارا ہے۔
تحقیق و کاوش کے بعد حضرت دائود کی اس امتیازی خصوصیت کی دو حکمتیں سمجھ میں آتی ہیں، ایک آئندہ اپنے موقعہ پر آئیگی اور دوسری حکمت یہ ہے کہ جبکہ بنی اسرائیل میں صدیوں سے قائم شدہ رسم کے خلاف حضرت دائود میں نبوت ورسالت کے ساتھ حکومت و سلطنت بھی جمع کر دی گئی تو ضروری تھا کہ ان کو ایک ایسے لقب سے پکارا جائے جو اللہ تعالیٰ کی صفات علم و قدرت کا مظہر اتم ہونے پر صراحت کرتا ہو اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے شریعت حقہ کی اصطلاح میں خلفیہ سے بہتر اور کوئی لفظ نہیں ہو سکتا تھا۔
الحاصل حضرت دائود علیہ السلام بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کی خدمت بھی سرانجام دیتے اور ان کی اجتماعی حیات کی نگرانی کا فرض بھی ادا فرماتے تھے۔
عظمت مملکت:
قرآن عزیز تورات اور اسرائیلی تاریخ اس کے شاہد ہیں کہ حضرت دائود علیہ السلام شجاعت و بسالت ، اصابت رائے اور قوت فکر و تد بیر جیسے اوصاف کے پیش نظر کامل و مکمل انسان تھے اورفتح و نصرت ان کے قدم چومتی تھی اور خدا کافضل و کرم اس درجہ ان کے شامل حال تھا کہ دشمن کے مقابلہ میں ان کی جماعت کتنی ہی مختصر ہوتی کامیابی ہمیشہ ان ہی کے ہاتھ رہتی اس لیے بہت تھوڑے عرصہ میں شام، عراق، فلسطین اور شرق اردن کے تمام علاقوں پر ان کا حکم نافذ اور ایلہ ( خلیج عقبہ) سے لے کر فرات کے تمام علاقوں اور دمشق تک تمام ملک ان کے زیر نگیں تھا اور اگر حجاز کے بھی ان حصوں کو شامل کرلیا جائے جو ان کے قلمرو حکومت کا حصہ بن چکے تھے تو یہ کہنا کسی طرح بیجا نہ ہوگا کہ حضرت دائود کی مملکت و حکومت بلا شرکت ’’سامی اقوام‘‘ کی واحد سلطنت تھی جو جدید فلسفہ تاریخ اقوام کے مطابق ’’وحدت عرب‘‘ یا اس سے بھی زیادہ وسیع ’’وحدت اقوام سامیہ‘‘ کی حکومت کہی جاسکتی ہے اور پھر کثرت لشکر اور وسعت حدود رقبہ مملکت کے ساتھ ساتھ ’’وحی الٰہی‘‘ کے شرف نے ان کی عظمت و شوکت اور صولت و ہیبت کو اور بھی زیادہ بلند کر دیا تھا اور رعایا کو یہ یقین حاصل تھا کہ اگر حضر ت دائود علیہ السلام کے سامنے کوئی ایسا معاملہ رکھ دیا جائے یا ایسی کوئی مہم پیش کر دی جائے جو انتہائی پیچیدہ ہو یا کذب و افتراء نے اس پر زیادہ سے زیادہ ملمع کر دیا ہو، تب بھی ’’وحی الٰہی‘‘ کے ذریعہ ان پر حقیقت حال منکشف ہو جاتی ہے اس لیے جن و انس کسی کو بھی یہ حوصلہ نہیں ہو تاتھا کہ وہ ان کے ا حکام کی خلاف ورزی کریں چنانچہ ابن جریر نے اپنی تاریخ میں حضر ت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمی ایک بیل کا مناقشہ لے کر دائو دعلیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوئے۔ ہر ایک یہ کہتاتھا کہ یہ میری ملک ہے اور دوسرا غاصب ہے۔ حضرت دائود علیہ السلام نے قضیہ کا فیصلہ دوسرے دن پر موخر کر دیا۔ دوسرے دن انہوں نے مدعی سے فرمایا کہ رات میں خدا نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تجھ کو قتل کر دیا جا ئے لہٰذا تو صحیح صحیح بات بیان کر ؟ مدعی نے کہا: خدا کے سچے نبی! اس مقدمہ میں تو میرا بیان قطعاً حق اور سچ ہے، لیکن اس واقعہ سے قبل میں نے اس (مدعی علیہ) کے باپ کو دھوکا دے کر مار ڈالا تھا یہ سن کر حضرت دائود علیہ السلام نے اس کوقصاص میں قتل کر دینے کا حکم صادر فرمایا۔
اسی قسم کے واقعات ہوتے تھے جن کی وجہ سے حضرت دائود علیہ السلام کے حکم اور ان کی عظمت و شوکت کے سامنے سب پست اور فرمانبردارتھے۔ قرآن عزیز کی آیت ذیل میں حضرت دائود کی اسی عظمت مملکت اور موہبت حکمت و نبوت کا اظہار کیا گیا۔
ترجمہ: اور ہم نے اس کی حکومت کو مضبوط کیا اور اس کو حکمت (نبوت) عطا کی اور صحیح فیصلہ کی قوت بخشی۔ (صٓ)
اس آیت اور گزشتہ آیات میں ’’حکمت‘‘ سے کیا مراد ہے؟یہ سوال ہے جو مفسرین کے یہاں زیر بحث ہے ہمارے نزدیک اقوال سلف کا خلاصہ یہ ہے کہ اس جگہ حکمت سے دو باتیں مراد ہیں ایک نبوت اور دوسری عقل و دانش کا وہ مقام جس پر فائز ہو کر کوئی شخص راہ راست کی بجائے کبھی کج روی اختیار نہیں کر سکتا۔ بعض علماء نے حکمت سے زبور مرادلی ہے۔ اسی طرح ’’فصل خطاب‘‘ سے بھی دو امور کی جانب اشارہ ہے:
(۱) وہ تقریر و خطابت کے فن میں کمال رکھتے تھے اور اس طرح بولتے تھے کہ لفظ لفظ اور فقرہ فقرہ جدا جدا فہم و ادراک میں آتا تھا اور اس سے کلام میں فصاحت و لطافت اور شوکت بیان پیدا ہو جاتی تھی۔
ان کا حکم اور فیصلہ حق و باطل کے درمیان قول فصیل کی حیثیت رکھتا تھا۔
زبور:
بنی اسرائیل کی رشد و ہدایت کے لیے ’’اصل اور اساس‘‘ توراۃ تھی لیکن حالات و اقعات اور زمانہ کے تغیرات کے پیش نظر حضرت دائود کو بھی خدا کی جانب سے زبور عطا ہوئی جو توراۃ کے قوانین و اصول کے اندر رہ کر اسرائیلی گروہ کی رشد و ہدایت کے لیے بھیجی گئی تھی۔ چنانچہ حضرت دائود نے شریعت موسوی کو از سر نو زندہ کیا۔ اسرائیلیوں کور اہ ہدایت دکھائی اور نو روحی سے مستفیض ہو کر تشنہ کا مان معرفت الٰہی کو سیراب فرمایا۔
زبور خدا کی حمد کے نغموں سے معمور تھی اور حضرت دائود کو اللہ تعالیٰ نے ایسا لہجہ اورسحر آگیں لحن عطا فرمایا تھا کہ جب زبور کی تلاوت فرماتے تھے تو جن و انس حتیٰ کہ وحوش وطیور تک وجد میں آجاتے تھے۔ اس لیے آج تک ’’لحن دائود‘‘ ضرت المثل ہے۔
مصنف عبد الرزاق میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ابو موسیٰ اشعری کے حسن صوت کو سنتے تو ارشاد فرماتے: ابو موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے لحن دائود عطا فرمایا ہے۔
لغت میں زبور کے معنی پارے اور ٹکڑے کے ہیں چونکہ یہ کتاب دراصل توراۃ کی تکمیل کے لیے نازل ہوئی تھی اس لیے گویا اسی کا ایک حصہ اور ٹکڑا ہے۔
زبور ایسے قصائد اور مسجع کلمات کا مجموعہ تھا جس میں خدا کی حمدو ثنا اور انسانی عبدت و عجز کے اعتراف اور پند و نصائح اور بصائر و حکم کے مضامین تھے۔ مسند احمد میں ایک روایت منقول ہے کہ زبور کا نزول رمضان میں ہوا اور وہ مواعظ و حکم کا مجموعہ تھی۔نیز بعض بشارتاً اور پیشن گوئیاں بھی منقول تھیں ۔چنانچہ بعض مفسرین نے یہ تصریح کی ہے کہ آیت مسطور ہ ذیل میں زبور کے جس واقعہ کااظہار کیا گیاہے وہ دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ (رضی اللہ عنہم) کی بشارت سے متعلق ہے اور وہی اس کا م صداق ہیں۔
ترجمہ: اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ کہہ دیا تا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ (انبیاء)
قرآن عزیز نے جگہ جگہ توراۃ، انجیل اور زبور کو خدا کی وحی فرمایا ہے منز ل من اللہ بتایا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے دیدئہ و دانستہ خدا کی ان کتابوں کو بدل ڈالا اور جگہ جگہ اپنی مرضی کے مطابق ا ن میں تحریف کر دی حتیٰ کہ اب ان کے حقائق پر اس قدر پردہ پڑ گیا ہے کہ اصل اور جعل کے درمیان فرق کرنا سخت مشکل بلکہ ناممکن ہو گیا ہے۔
ترجمہ: بعض یہود و ہ ہیں جو (توراۃ و انجیل و زبور) کے کلمات کو ان کی اصل حقیقت سے بدلتے اور پھیرتے ہیں۔ (بقرہ)
چنانچہ تورا ۃ و انجیل کے علاوہ خود زبور اس کی زندہ شہادت موجود ہے۔ موجودہ زبور میں ان مختلف حصوں کی تعداد جن کو اہل کتاب کی اصطلاح میں مزبور کہا جاتا ہے ایک سو پچاس ہے ۔ ان حصوں پر جو نام درج ہیں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ سب حصے حضرت دائود کے مزبور نہیں ہیں کیونکہ بعض پر اگر حضرت دائود کا نام ثبت ہے تو بعض پر مغنیوں کے استاذ قورح کا اور بعض پر شوشیم کے سروں پر آصف کا اور بعض پر گتیت کا اور بعض پر کسی کا نام نہیں ہے۔ علاہ ازیں بعض ایسے مزبور بھی ہیں جو حضرت دائود علیہ السلام سے صدیوں بعد تصنیف کیے گئے ہیں۔ مثلا ً یہ مزبور:
اے خدا قومیں تیری میراث میں گھس آئی ہیں ، انہوں نے تیری مقدس ہیکل کو ناپاک کیا ہے ۔انہوں نے یروشلم کو کھنڈر بنا دیا ہے۔
اس مزبور میں اس ہولناک واقعہ کا تذکرہ ہے جو بنو کدرز ر(بخت نصر)کے ہاتھوں اسرائیل کو پیش آیا اور ظاہر ہے کہ یہ واقعہ دائود علیہ السلام کے صدیوں بعد پیش آیا ہے۔
بہر حال خدائے تعالیٰ حضرت دائود علیہ السلام پر زبور نازل فرمائی اور ان کے ذریعہ بنی اسرائیل کو رشد و ہدایت کا پیغام سنایا۔
ترجمہ: اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور ہم نے دائود کو زبور بخشی او ہم نے دائود کو زبر عطا کی ۔(نساء)
بخاری کتاب الانبیاء میں ایک روایت منقول ہے کہ حضرت دائود پوری زبور کو اتنے مختصر و قت میں تلاوت کر لیا کرتے کہ جب وہ گھوڑے پر زین کسنا شروع کرتے تو تلاوت بھی شروع کرتے اور جب کس کر فارغ ہوتے تو پوری زبور ختم کر چکے ہوتے۔
حضرت دائود اور قرآ ن و تورات:
اس مقام پر قرآن عزیزاور تورات کے درمیان سخت اختلاف ہے قرآن عزیز تو حضرت دائود کو اگر صاحب شوکت و صولت بادشاہ مانتا ہے تو جلیل القدر پیغمبر اور رسول بھی تسلیم کرتا ہےلیکن تورات ان کو صرف ’’کنگ دائود ‘‘ (شاہ دائود)ہی تسلیم کرتی ہے اوران کی نبوت و رسالت کا اقرار نہیں کرتی۔ ظاہر ہے کہ تورات کا انکار تحکم اور بے سرو پا بات ہے اور ساری قسم کے کذب و افترا پر مبنی ہے جس کا ثبوت بارہا تحریروں میں دیا جا چکا ہے۔
خصائص دائود:
اللہ تعالیٰ نے یوں تو سب ہی پیغمبروں کو خصوصی شرف و امتیاز بخشا ہے اور اپنے نبیوں اور رسولوں کو بے شمار انعام و اکرام سے نوازا ہے تاہم شرف و خصوصیت کے درجات کے اعتبارسے ان کے درمیان بھی فرق مراتب ر کھا ہے اور یہی امتیازی درجات و مراتب ان کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتے ہیں۔
ترجمہ: یہ رسول! ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (بقرہ)
چنانچہ دائود علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن عزیز نے چند خصاص و امتیازات کا تذکرہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس رسول کو کس درجہ بزرگی اور عظمت عطا فرمائی ہے لیکن یہ واضح رہے کہ قرآن عزیز کی بیان کردہ خصائص انبیاء و رسل میں خاصہ کے وہ منطقی معنی مراد نہیں کہ کسی دوسرے شخص میں قطعاًاس کا وجودنہ پایا جائے او وہ وصف صرف اسی کے اندر محدود ہو بلکہ اس مقام پر خاصہ وہ وصف مراد ہے جو اس ذات میں تمام و کمال درجہ پر پایا جاتا ہواور اس کے ذکر سے ذہن فوراً اس شخصیت کی جانب متوجہ ہو جاتا ہو اگرچہ بعض حالات میں اس وصف خاص کا وجود دوسرے نبیوں میں بھی جلوہ گر نظر آتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں