asad_ummer

جولائی کے آخر تک مصدقہ کیسز کی تعداد 10 سے 12 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے:وفاقی وزیر

EjazNews

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کے بعدوفاقی وزیر نے میڈیا بریفنگ دی جس میں ان کا کہنا تھا وزیراعظم نے اپریل میں جب بندشوں میں کمی کی تھی اور اس کے بعد مئی میں بھی تو وہ ہر مرتبہ یہی تاکید کرتے تھے کہ ہم جتنی حفاظتی تدا بیر کو اپنائیں گے، ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کریں گے اتنا ہی کورونا کی وبا کا پھیلاؤ کم ہوگا۔ بدقسمتی سے پچھلے چند ہفتوں میں ایسا دیکھنے میں بھی آیا اس وقت جو صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ جون کے وسط میں ملک میں کورونا وائرس کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ مصدقہ کیسز موجود ہیں۔ جس طریقے سے صورتحال جارہی ہے اگر اس میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی تو ہمارے ماہرین کے مطابق جون کے آخر تک اس تعداد میں 2 گنا اضافہ ہوچکا ہوگا یعنی یہ تقریباً 3 لاکھ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ جیسے حالات ہیں جولائی کے آخر تک مصدقہ کیسز کی تعداد 10 سے 12 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بارہاایس او پیز کا ذکر ہوتا ہے، جس میں 2 بنیادی چیزیں ہیں کہ ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ قائم کریں۔ دنیا میں جو تحقیق ہوئی ہے اس سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ماسک وبا کے پھیلاؤ کی رفتار میں کمی کا مؤثر طریقہ ہے اور کچھ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر سب لوگ ماسک پہنیں تو وبا کی رفتار میں 50 فیصد کمی کی جاسکتی ہے۔اسی لیے مئی کے مہینے میں این سی او سی اور وزارت صحت سے جاری کردہ ہدایات میں عوامی مقامات، بازاروں، فیکٹریوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ لوگوں نے ماسک پہنے ہوتے ہیں لیکن کئی افراد ایسے بھی ہیں جو ماسک نہیں پہنتے، اس وبا سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ ماسک پہننا ہے، اگر اپنا اور اپنے خاندان کا دفاع کرنا چاہتے ہیں تو ماسک پہنیں۔ سماجی فاصلہ قائم کریں اور اس حوالے سے حکومت ہدایات جاری کرچکی ہے اور گزشتہ 10 روز سے انتظامی کارروائی شروع کی گئی ہے، دکانیں بند کی گئی ہیں، ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے چالان کیے گئے ہیں۔یہ عوام کو پریشان کرنے کے لیے نہیں ہے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی صحت کا خیال رکھا جائے اگر نہیں کریں گے تو لوگوں سے روزگار چھننا شروع ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں وبا کا پھیلاؤ اس لیے بڑھا ہے کیونکہ ہم حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں کررہے ہیں اس لیے انتظامی کارروائی میں اضافہ کیا جارہا ہے تاکہ لوگ محفوظ رہیں اور روزگار کا پہیہ بھی چلتا رہے اور وہ بھوک و افلاس کی طرف نہ جائیں۔ اسلام آباد میں کارروائی کی گئی ہے، وزیراعظم گزشتہ روز لاہور گئے تھے اور پنجاب میں سختی کا فیصلہ کیا گیا اور آج پنجاب حکومت اعلان کرے گی کہ جن علاقوں میں وبا کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھتا نظر آرہا ہے ان علاقوں میں انتظامی کارروائی کرکے ٹارگٹڈ یا اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔ ملک میں 1200 چھوٹے مقامات پر یہ بندشیں نافذ تھیں اور اب پنجاب میں لاہور سے بندشوں کا آغاز کیا جائے گا اور پیر سے پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی زیادہ پھیلاؤ والے مقامات کی نشاندہی کی جائے گی۔ وبا نے تو پھیلنا ہے لیکن ہمیں اس کی رفتار میں کمی کرنی ہے تاکہ ہمارا صحت کا نظام مفلوج نہ ہو اور بڑے شہروں کے ہسپتال دباؤ کا شکار نہ ہوں جو دباؤ کا شکار ہوئے بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں