umro_aur_ustad

عمرو کی استاد سے شرارتیں(۲)

EjazNews

ایک دن ایک لڑکے کی ماں نے میٹھے چاول پکائے ۔ ماں نے سوچا استاد کو میٹھا پسند ہے وہ میٹھے چاول کھا کر بہت خوش ہوں گے اور میرے لڑکے کو اچھی طرح پڑھائیں گے تو ماں نے لڑکے کو کہا کہ اپنے استاد کو یہ کھانا جا کر دو۔ لڑکے نے کپڑے میں بندھا ہوا برتن جا کر استاد کو دے دیا۔ اس نے کپڑا کھول کر دیکھا اور میٹھے چاول دیکھ کر ان کا دل خوش ہو گیا، اس وقت وہ کھانا کھا چکے تھے اور اب انہیں بھوک نہیں تھی تو انہوں نے سوچا کہ گھر جا کر ان کو کھائوں گا۔ استاد نے عمرو کو بلایا اور کپڑے میں بندھا برتن اس کے حوالے کر کے کہا کہ اس میں ا یک مرغ بند ہے، اسے راستے میں کھولنا نہیں ورنہ مرغ اڑ جائے گا۔ اب یہ برتن میرے گھر دے آئو۔ عمرو نے کہا ’’ میں بھلا مرغ کو کھول کر کیوں اڑائو ںگا۔ جیسا آپ نے کہا ہے میں وہی کروں گا اور اس بندھے ہوئے برتن کو آپ کے گھر پہنچائوں گا۔ ‘‘ یہ کہہ کر عمرونے وہ بندھا ہوا برتن سر پر رکھا اور استاد کے گھر کی راہ لی۔ ابھی استا دکا گھر تھوڑا سا دور تھا کہ اس نے سوچا دیکھنا چاہئے کہ برتن میں کیا ہے۔ اس نے کپڑا کھولا۔ دیکھا کہ برتن میں بہت اچھے پکے ہوئے میٹھے چاول ہیں۔ چاول دیکھ کر عمرو کو یاد آیا کہ وہ تو بہت بھوکا ہے۔ اس نے چاول کھانے شروع کر دئیے۔ جب اس کا پیٹ بھر گیا تو اس نے دیکھا کہ تھوڑے سے چاول بچے ہوئے ہیں اس نے ان بچے ہوئے چاولوں کو کتوں کے آگے ڈالا اور برتن کو کپڑے میں باندھ کر سر پر رکھا اور استاد کے گھر کا دروازہ کھٹ کھٹایا۔ استاد کی بیوی نے پوچھا ’’کون ہے ‘‘ ۔ کہا’’میں عمرو ہوں ‘‘۔ استاد کی بیوی نے کہا ’’کیسے آنا ہوا‘‘۔ عمرو نے کہا ’’استاد صاحب نے کھانابھیجا ہے یہ لے لیں‘‘۔ استاد کی بیوی آئی اور کھانا لے کر جانے لگی تو عمرو بولا ’’استاد صاحب نے کہا ہے شام کو کھانا مت پکائیے گا یہ کھانا کھائیں گے۔‘‘ استاد کی بیوی نے کہا ’’اچھا‘‘۔ استاد کی بیوی نے بندھا ہوا برتن رکھ دیا اور عمرو نے واپس آکر استاد کو بتایا کہومیں وہ بندھا ہوا برتن گھر دے آیا ہوں۔ استاد نے اسے شاباشی دی کہ بڑا اچھا بچہ ہے۔ ہر کام بڑے شوق سے کرتا ہے۔ استاد سے رخصت ہو کر عمرو گھر آگیا۔ استاد نے بھی چھٹی کے بعد اپنے گھر کی راہ لی۔ گھر پہنچ کر استاد نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ آج کیا پکا ہے۔ بیوی نے کہا کہ آج تو میں نے کچھ نہیں پکایا۔ استاد نے کہا ’’کیوں‘‘ بیوی نے کہا ’’آپ نے خود ہی منع کیا تھا کہ آج کچھ نہ پکانا‘‘۔ استاد نے کہا ’’میں نے کب کہا تھا‘‘ بیوی نے کہا ’’آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ خود ہی تو عمرو کو کہا تھا کہ گھر میں کہہ دینا شام کو کچھ نہ پکائو تو میں نےآپ کے کہے پر عمل کیا اور کچھ نہیں پکایا۔ ہاں وہ بندھا ہوا برتن رکھا جس میں آپ نے عمرو کے ہاتھ کھانا بھجوایا ہے ۔‘‘ استاد نے کہا ’’اچھا تو وہی برتن لے آئو وہی کھا لیتے ہیں ‘‘۔ بیوی نے برتن لا کر سامنے رکھ دیا۔ استاد نے کپڑا کھولا تو اندر برتن خالی تھا اور اس میں چاول کا ایک دانہ بھی نہیں ۔ استاد کو یہ دیکھ کربہت غصہ آیا مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ استاد ساری رات بھوکے رہے۔ بھوک کے مارے ان کو نیند بھی نہیں آرہی تھی اور جاگتے ہوئے عمرو پر غصہ بڑھتا جارہا تھا۔ سوچ رہے تھے صبح تو مار مار کر اس کی کھال ادھیڑ دوں گا۔ بہت پریشان کر رکھا ہے اور آج تو بھوکا بھی رکھا ہے۔ اسے تو میں نہیں چھوڑوں گا۔ صبح ناشتہ کر کے استاد مدرسے گئے۔ عمرو بڑے آرام سے اپنے وقت پر مدرسے آیا تو اس نے آتے ہی اسے اپنے پاس بلایا اور کہا ’’کل کھانے کاکیا کیا ‘‘۔ عمرو نے حیران ہو کر کہا ’’کھانا۔ کھانے کا تو مجھے پتہ نہیں۔ ہاں جو مرغ آپ نےمجھے گھر لے جانے کے لئے دیا تھا وہ کپڑے کو پھاڑ کر اڑ گیا۔ میں اسے پکڑنے کیلئے بھاگا مگر وہ ہاتھ نہیں آیا اور میں بھاگتا رہ گیا‘‘۔ استاد دانت پیس کر رہ گئے۔ پھر غصے میں بولے ’’شام کے کھانے کے لئے کیوں منع کیا‘‘۔ عمرو نے کہا’’یہ مجھ سے غلطی ہوئی‘‘۔ غلطی سے میں نے کہہ دیا کہ شام کو کھانا نہ پکائیے گا۔ استاد نے عمرو کو باندھ کر مارا ،وہ چیختا تھا مگر وہ اسے اور مارتے تھے ۔ سب لڑکے اس کی مار کا تماشا د یکھ رہے تھے اور عمرو کی چیخوں سے مدرسہ گونج رہا تھا۔ آخر امیر حمزہ کو عمرو پر رحم آگیا۔ اس نے استادکی منتیں کر کے عمرو کی خطا معاف کرائی اور عمرو سے کہلوایا کہ وہ آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کرے گا۔ استاد نے کہا ’’آئندہ ایسی حرکت کبھی نہ کرنا ورنہ جان سے مار ڈالوں گا۔ ‘‘ عمرو نے کہا ’’میری توبہ ہے ۔ میں ایسا کبھی نہ کروں گا‘‘ اور پھر یوں ہوا کہ لگتا تھا عمرو سے اچھا بچہ اور کوئی نہیں ہے۔ وہ نہ شرارتیں کرتا نہ دوسروں کو کرنے دیتا۔ بلکہ اگر کوئی بچہ شرارت کرتا تو وہ اس کو بھی منع کرتا۔ اب استاد نے جانا کہ یہ لڑکا واقعی سدھر گیا ہے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں