budget

موجودہ حکومت کو دئیے گئے سابق حکومت کے تحفے

EjazNews

پاکستان کے ایک سابق وزیر خزانہ جو اپنے آپ کو ملک کا کیا دنیا کا ذہین ترین وزیر خزانہ سمجھتے تھے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوں یا عالمی بینک کے ساتھ ۔ انہوں نے ایک نئی منطق اجلاسوں میں پیش کی ہوتی تھی ۔ ان کے قریب رہنے والوں کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ اپنے آپ کو کارل مارکس یا اس پائے کے معاشی دانشور کے ہم پلہ سمجھتے تھے جس نے معیشت کو نیا تصور دیا۔لیکن اسی ذہین ترین وزیر خزانہ کے دور میں ملک پر کم از کم 19ارب ڈالر کا بوجھ بڑھ گیا۔ مالی سال 2013-14ءمیں انہوں نے 32کروڑ ڈالر کے قرضے غیر ملکی کمرشل لون لیے۔ انہوں نے اپنے ساڑھے چار برسوں میں ملک کو تقریباً 19اب قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔ یہ قرضہ انہوںنے برسر اقتدار آنے والی نئی حکومت کیلئے چھوڑا تھا اور دینا تو 20.75کروڑ عوام کو ہے۔ ذہین ترین وزیر خزانہ گردانے جانے والے وزیر خزانہ کر پیدا کر دہ قرضوں کے پہاڑ تلے دبے ہوئے عوام اپنا پیٹ کاٹنے کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں ۔انہوں نے عالمی اداروں ، سقوق بانڈز اور دوسرے ذرائع سے اربوں ڈالر لیے جہاں تک غیر ملکی کمرشل قرضوں کا تعلق ہے تو اپنے پہلی مالی سال میں انہوں نے 32کروڑ 25لاکھ مالیت کا قرضہ حاصل کیا۔ مالی سال 2014-15 ءمیں 15کروڑ ، مالی سال 2015-16ءمیں 1ارب 40کروڑ مالی سال 2016-17ءمیں 4ارب 37کروڑ اور اپنے آخری سال دسمبر میں وہ 1ارب 22کروڑ ڈالر کا قرضہ لے چکے تھے۔ کئی ارب ڈالر کے قرضے کے معاہدے مختلف اداروں کے ساتھ ہو چکے تھے جو ان کے مالی سال کے اختتام تک ملنے کی امید تھی۔ اس سے کمرشل قرضو ں کے حجم میں مزید کم از کم 1ارب ڈالر کا اضافہ ہونا تھا۔ انہو ں نے عالمی منڈیوں میں 7ارب ڈالر کے بانڈ فروخت کیے۔ یورپ بانڈز اور سقوق بانڈز پر شرح سود مختلف ہے۔ اسی عرصے میں آئی ایم ایف سے 12دسمبر تک 6.25ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کیا۔ اب ذرا تفصیلات میں جاتے ہیں۔ کمر شل لون بیرونی ذرائع سے لیے گئے۔ کچھ قرضوں کی مدت ایک سال اور کچھ کی ڈیڑھ سال تھی جبکہ 3-3ماہ کے قرضوں پر شرح سود لائبو ریٹ جمع تین فیصد سے سوا چار فیصد تک کا سود تھا۔ تاہم کچھ قرضوں پر شرح سود 2.50فیصد بھی تھی یہ قرضے غیر ملکی بینکوں، خلیج کمرشل بینک، نور بینک، کریڈٹ سوئس ،دبئی اسلامک بینک، چائینہ ڈویلپمنٹ بینک، سٹی بینک، اور آئی سی بی سی سے لیے گئے۔ زیادہ تر قرضوں کی مدت ڈیڑھ سال تھی کچھ کا دورانیہ 1سے3سال کا تھا۔بیرون ملک سے ترسیلات زر کا تخمینہ 18ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس رقم کی ترسیل میں فارن ایکسچینج کمپنیوں نے بھی عوام سے اربوں ڈالر وصول کیے یہی وجہ ہے کہ ملک کی25کمپنیوں نے حکومت کو بھی اربوں روپے کے ٹیکس ادا کیے۔ ان میں سے کسی بھی کمپنی کا منافع لاکھوں روپے سے کم نہیں۔ ایک کمپنی نے 14لاکھ روپیہ منافع کمایا جبکہ ایک اور کمپنی نے 1.25ارب روپیہ کمایا۔
سقوق بانڈ کے حصول کے لیے حکومت پاکستان نے اپنی تین موٹر ویز اور جناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ کراچی کو گروی رکھ دیا۔ ان میں سے کچھ قرضوں کی ادائیگی دسمبر 1921،کچھ قرضوں کی ادائیگی اکتوبر 2021 اور کچھ کی نومبر 2022تک کرنا ہوگی۔ یعنی موجودہ حکومت عالمی منڈیوں میں بیچے گئے سقوق بانڈ کے 3ارب روپے کو بھگتے گی۔ 2014-15اربوں روپے کے سقوق بانڈ دسمبر 2019 ءمیں ادا کرنا تھے ۔ 2016-17ءمیں بیچے گئے 1ارب ڈالر کے سقوق بانڈ کی خریداری اکتوبر 2021ءمیں ہوگی جبکہ 2018ءمیں بیچے گئے سقوق بانڈ نومبر 2022ءتک ادا کرنا ہوں گے۔ اندرون ملک بھی حکومت نے اربوں ڈالر کے سقوق بانڈ فروخت کیے۔ آپ حیران ہوں گے مالی سال 2013-14ءمیں اندرون ملک بیچے گئے سقوق بانڈ کا حجم 49ارب 54کروڑ ڈالر تھا جی ہاں 49ارب 54کروڑ تھا جی ہاں یہ ادا کیا جاچکا ہے ا س سے کہیں زیادہ رقمموجودہ حکومت پر ایک خوفناک بوجھ بنی ہے۔
مالی سال 2015-16ءمیں 314ارب روپے کے ڈومیسٹک بانڈز بیچے گئے ہیں اور ان کی ادائیگی دسمبر 2018ءسے مارچ 2018ءمیں کرنا ہوگی یہ اعداد و شمار درست ہے یا غلط ہمیں اس کا اندازہ نہیں ۔ اندرون ملک بیچے گئے سقوق بانڈز کے ہی مرتب کر دہ ہیں وفاقی وزارت خزانہ کی رپورٹ میں 2016-17 ءمیں اندرون ملک 71ارب روپے کے سقوق بانڈ بیچے گئے یہ بھی موجودہ حکومت بھگتے گی جبکہ ڈار صاحب کی بیرون ملک ہیں۔ 2018-19ءمیں اندرون ملک 1ارب روپے کے سقوق بانڈز فروخت کیے گئے۔
یوں موجودہ حکومت کو سابق حکومت نے قرضوں کے بوجھ کا ایک ایسا تحفہ دیا ہے جس سے وہ قوم اور ملک کونکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن ایک طرف قرضہ تو دور کی بات ہے سود کی ادائیگی مشکل ہے۔ اور اس قدر سود میں پھنسایا گیا کہ خود تو بیرون ملک چلے جاتے ہیں لیکن جو یہاں پر موجود ہوتے ہیں وہ سب بھگتتے ہیں کیونکہ جن کو جینا مرنا یہاں ہے انہوں کو ٹیکسوں کی صورت میں قرضوں کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔
آپ غور کریں کہ آپ ایک گھرمیں اپنے بیوی بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔ آپ کی جو آمدن ہوتی ہے آپ اس سے گزارا کرتے ہیں، اگر آمدن سے پوری نہیں پڑتی تو آپ اوور ٹائم لگاتے ہیں، پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں اور اگر کوئی مشکل آئے تو قرض لے کر اپنے اخراجات کو کھانے پینے کی ضرورت کو کم کر کے قرض اتارتے ہیں ۔ لیکن اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ قرض لے کر ادا میں نے تو نہیں کرنا پھر آپ جتنا چاہیں قرض لے سکتے ہیں اور ایسا ہی وطن عزیز کے ساتھ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ اور صرف ایک وزیرخزانہ کی بات نہیں ہے۔ یہ صرف مثال کے طور پر آپ کے سامنے کارکردگی رکھی گئی ہے۔اگر آپ اس سے پہلے بھی نظر دوڑائیں تو جس کو بھی اٹھائیں گے لال ہی ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں