ءمرو

عمرو کا استاد سے بیر

EjazNews

دوسرے دن سب لڑکے پڑھنے آئے اور دوپہر کے وقت سو گئے۔ استاد بھی سو گیا۔ عمرو کو جو مار پڑی تھی اس نے اس کا بدلہ چکا نا تھا۔ اس نے استاد کی پگڑی جسے شملہ بھی کہتے ہیں۔ استاد کے پاس سے چپکے سے اٹھائی اور حلوائی کی دکان پر لے گیا۔ دوکاندار کو کہا کہ استاد نے کہا ہے کہ یہ پگڑی رکھ لو اور اس کے بدلے پانچ روپے کی مٹھائی دے دو۔ اس نے پانچ روپے کے پیڑے ٹوکرے میں ڈال کر دے دئیے۔ عمرو نے بڑے بڑے پیڑے الگ کئے اور ان میں دس کی دوا جسے جمال گوٹا کہتے ہیں ملا دیا۔ اب جمال گوٹا ملے پیڑے اس نے اوپر اوپر رکھ دئیے اور مٹھائی کا ٹوکرا استاد کے سرہانے رکھ دیا اورخوداطمینان سے سو گیا۔ جب سب جاگے اور استاد نے لڑکوں سے کہا د’اسے جگاو “ لڑکوں نے عمرو کو جگایا تو استاد نے پوچھا ” یہ مٹھائی کیسی ہے “ عمرو نے کہا ”بابا جان نے منت مانی تھی وہ پوری ہو گئی تو وہ مٹھائی لائے تھے کہ آپ سے فاتحہ کروا لیں۔ بڑی دیر تک بیٹھے رہے اور آپ کے جاگنے کا انتظار کرتے رہے جب آپ نہ جاگے تو وہ زیادہ دیر بیٹھ نہ سکتے تھے ان کو ضروری کام تھا۔ جانے سے پہلے مجھے کہہ گئے کہ میں آپ سے فاتحہ دلوا کر لڑکوں میںبانٹ دوں۔ اب آپ فاتحہ کر دیں تاکہ لڑکوں میں مٹھائی بانتی جا سکے۔ استاد نے کہا ” کس کے نام کی فاتحہ کروں“۔ عمرو نے کہا ”ایک فقیر بابا شملہ تھے ان کے نام کی فاتحہ کریں“۔ استاد نے کہا ” یہ کیسا نام ہے “۔ عمرو نے کہا ”فقیروں کے نام ایسے ہی ہوا کرتے ہیں “ استاد نے فاتحہ پڑھ دی۔ فاتحہ کرنے کے بعد اوپر سے بڑے بڑے پیڑے اٹھا کر کھا لئے اور خوب مزے لئے۔ عمرو نے باقی مٹھائی کا ٹوکرا امیر اور مقیل کے سامنے رکھا ۔انہوں نے باقی لڑکوں کو بلا کر مٹھائی کھانے میں شریک کیا۔ سب نے مزے لے لے کر مٹھائی کھائی۔ تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ استاد کو دست آنے لگے۔ استاد نے عمرو سے کہا ”تم نے کیا کھلا دیا کہ دست آنے لگے “۔ عمرو نے کہا آپ مجھے بدنام مت کریں۔ سب لڑکوں نے یہی مٹھائی کھائی ہے۔ آپ کو بھوک تھوڑی تھی اور آپ نے مٹھائی بہت کھالی جس کی وجہ سے آپ کو دست لگ گئے۔ جب چھٹی کا وقت ہونے لگا اور استاد کے دست بند نہ ہوئے تو امیر نے عمرو سے کہا ”استاد کو اب تک دست آرہے ہیں اور چھٹی کا وقت ہونے لگا ہے کہیں راستے میں جاتے ہوئے ان کے کپڑے خراب نہ ہو جائیں۔ “ عمرو نے کہا ”اچھا ہے خراب ہو جائیں بہت مارتا ہے، اب مار کا مزہ چکھے گا۔“ یہ بات سن کر امیر چونکے اور کہا ”کیا تم نے کچھ کیا ہے “ ۔ عمرو نے کہا ”ہاں اور کون کرے گا“۔ امیر نے کہا ”کیا کیا ہے“ عمرو نے کہا ”جمال گوٹا ملایا ہے۔ “امیر نے یہ سن کر کہا ”بہت برا کیا“ پھر امیر نے دہی منگوایا اور اس کو دہی کھلایا جس سے استاد کے دست بند ہوئے اور انہیں آرام ہوا۔ اب استاد نے سکون کا سانس لیا۔ چھٹی کا وقت ہو گیا تھا استا دنے لڑکوں کو چھٹی دے دی ۔ اپنے کپڑے بدلے اب جو پگڑی سر پر رکھنے لگے تو پگڑی نہیں مل رہی تھی۔ ہر جگہ ڈھونڈی مگر پگڑی ہوتی تو ملتی۔ لڑکے سب جا چکے تھے اور وہ کس سے پوچھتے کہ پگڑی کہاں ہے۔ آخر سر پر دوپٹہ لپیٹا اور ہاتھ میں عصا لے کر مدرسے سے اپنے گھر کی طرف چلے۔
استاد جب حلوائی کی دوکان کے پاس سے گزرنے لگے تو حلوائی بھاگ کرآیا۔ استاد کو سلام کیا اور اس کی پگڑی استاد کو دیتے ہوئے کہا ”آپ نے پانچ روپے کی مٹھائی منگوائی اوربدلے میں اپنی پگڑی بھیج دی۔ آپ کا بہت اعتبار ہے۔ پیسے نہ ہوا کریں تو پگڑی بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے ہی حکم کر دیا کریں۔ میں مٹھائی بھیج دیا کروں گا۔ آپ کی اپنی دوکان ہے۔ جب چاہیں اور جتنی چاہیں مٹھائی منگوا لیا کریں۔ “ یہ سن کر استاد کو معلوم ہوا کہ آج جو مٹھائی تقسیم ہوئی ہے ویہی ہے جس کا ذکر حلوائی کر رہا ہے اور بابا شملہ یہی پگڑی ہے۔ استاد کو بہت غصہ آیا کہ اتنے سے لڑکے نے خوب بیوقوف بنایا۔ اور میں اس کا کچھ نہ کر سکا۔ مگر حلوائی کے سامنے انہوں نے یہ با ت ظاہر نہ کی۔ حلوائی کو انہوں نے مٹھائی کے پانچ روپے دئیے اورپگڑی اپنے سرپررکھ کر گھر کی طرف چل دئیے۔ گھر جا کر بھی ان کا غصہ کم نہ ہوا اور انہوں نے اپنا غصہ بیوی اور بیٹی پر اتارا۔ انہیں رہ رہ کر خیال آرہا تھا کس خوبصورتی سے عمرو نے ان کو بیوقوف بنایا اور وہ بیوقوف بن گئے۔
ساری رات استاد کو غصے کے مارے نیند نہ آئی اور وہ عمرو کو سزا دینے کے منصوبے بناتے رہے۔ انہوںنے سوچا کہ اس نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اسے ایسا سبق پڑھانا چاہئے کہ ساری عمر یاد رکھے اور آئندہ پریشان کرنے سے توبہ کر لے۔ اس کا علاج ضرورہونا چاہئے اور یہ علاج صبح ہی ہو سکتا ہے۔ اس وقت تو اپنی جان پر ہی عذاب جھیلنا ہے۔ صبح ہو گی تو بچے کہ وہ مار ماروں گا کہ ساری شوخیاں اور شرارتیں بھول جائے گا۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں