political_international

عالمی سیاست، ملکی مفادات سب کی ترجیح ہوتے ہیں

EjazNews

شی جِن پنگ، چین کے انقلابی رہنما تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ چین دُنیا کے مرکزی سٹیج پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور غالباً کمیونسٹ پارٹی نے اس منزل تک پہنچنے کے لیے انہیں تاحیات صدر بنایا۔ چینی صدر ایک واضح ویژن رکھتے ہیں اور چین کو عالمی طاقت بنانا چاہتے ہیں۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے سرمایہ دارانہ اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف نعرے بازی کی بجائے چینی عوام کی خوش حالی کے لیے ایک لچک دار اور اقوامِ عالم کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی پالیسی اپنائی۔ا گرچہ چینی فوج دُنیا کی سب سے بڑی فوج ہے، لیکن اس کے باوجود بیجنگ نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا لیکن پوری دُنیا ہی اس بات کا اعتراف کرتی ہے۔ چین نے اپنی سفارت کاری اور اقتصادی استحکام کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ شی جِن پنگ نے ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ جیسا عالم گیر منصوبہ شروع کیا، جو امریکہ کے لیے بھی چیلنج بن چکا ہے۔
شی ایک ٹھنڈے مزاج کے حامل لیڈر ہیں، جن کی شخصیت میں اُن کی سحر انگیز مسکراہٹ سب سے نمایاں ہے۔ انہوں نے بڑے تدبر سے اپنے قریب ترین حریف، جاپان سے دوسری بڑی اقتصادی قوت کی پوزیشن چھینی۔ تاہم، اس وقت اُن کے لیے اصل چیلنج امریکہ یا عالمی طاقتیں نہیں، بلکہ چین کی برتری کو قائم رکھنا ہے۔ اپنے پیش روئوں کی طرح موجودہ چینی صدر بھی تاریخ کا یہ سبق ازبر کر چُکے ہیں کہ جنگیں اور تنازعات اقوام کو کمزور کرنے کا سب سے بڑا سبب بنتی ہیں اور دونوں عالم گیر جنگیں اس کی واضح مثال ہیں کہ فاتح ممالک بھی بالآخر بکھر گئے۔ یعنی دشمن کے خلاف میدان جنگ میں جیت ، عوام کے مسائل کے سامنے شکست کھا گئی۔ اگرچہ دُنیا چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھتی ہے، لیکن صدر شی امریکہ سے ہر حال میں روابط برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اس وقت یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر ہیں۔
ا گرچہ بحرالکاہل اور جنوبی چینی سمندر میں امریکہ کو برتری حاصل ہے، لیکن چینی صدر یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ کے 7بحری بیڑے ان عالمی تجارتی گزر گاہوں کو کُھلا رکھنے میں بھی بہت معاون ثابت ہو رہے ہیں اور انہیں چھیڑنے سے ایک ایسا خلا پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جو عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ ہو گا۔انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ چین کی غیر معمولی فوجی پیش رفت کے نتیجے میں جاپان ایٹمی طاقت بننے کی کوشش کر سکتا ہے اور اس ضمن میں ٹوکیو کوواشنگٹن اور نئی دہلی کی معاونت بھی حاصل ہو گی۔ ہر چند کہ چین نے ایشیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے، لیکن مستقبل میں اسے بحرہند میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان، چین کا قریب ترین حلیف ہے، لیکن اسے خود داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے۔ چینی صدر نہیں چاہتے کہ بھارت، ایشیا میں اس کے مقابل آئے اور وہ اسے اپنا ہم نوا بنانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے پارٹنر ہیں اور پھر بیجنگ نے کابل میں نئی دہلی کے کردار کی کبھی کُھل کر مخالفت نہیں کی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں