islamic-studes

حضرت عثمان ؓ تیسرے خلیفہ راشد

EjazNews

سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنا تاریخ کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ اس زمانہ کے لحاظ سے آپؓ کی خدمات اتنی دقیع ہیں کہ فروغِ اسلام کی خاطر ان کی بے نفسی ایثار اور قربانی کی داد دینا پڑتی ہے ۔اپنے دور خلافت میں انہوں نے نہ صرف یہ کہ حضرت عمرؓ کے شروع کئے ہوئے مشن کو آگے بڑھایا بلکہ اسے اتنا مستحکم بنایا کہ آج بھی عالم اسلام کی مملکتی حدود وہی ہیں جو ان کے دور میں تھیں۔ بنو اُمیہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں جس طرح سرگرم تھے وہ کسی سے پوشیدہ ہے ،اس زمانے میں بنو اُمیہ کے ایک اکابر میں سے ایک کا یعنی حضرت عثمانؓ کا اسلام قبول کرنا اور پھر اس کی راہ میں ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنا کتنا بڑا یثار ہے۔ بنو اُمیہ کے دیگر اکابر کئی فتح مکہ کے بعد اسلام لائے جب کہ ید خلون فی دین اللہ افواجا کا سماں پیدا ہو چکا تھا۔ عبد مناف کے دونوں لڑکوں میں ہاشم حضور کے پردادا ہیں اور انہی کے بھائی عبدالشمس کے ایک بیٹے امیہ ہیں جن کے نام کی نسبت سے بنو امیہ مشہور ہیں۔ امیہ کے لڑکے ابو العاص ہیں ان کے لڑکے عفان ہیں اور ان کے لڑکے حضرت عثمانؓ ہیں ۔اکابر بنو اُمیہ حضور ہادی برحق کی مخالفت میں جسد واحد کی طرح معروف رہے۔ اسی خاندان کے ایک فرد حرب کے بیٹے ابو سفیان نے ہر جنگ میں کفار مکہ کی قیادت کی یہاںتک کہ حضرت خدیجہؓ کے اپنے خاندانی قبرستان میں دفن کئے جانے کی بھی مخالفت کی۔ انہی بنوامیہ میں سے حضرت عثمان کا اسلام قبول کر کے حضور اور انصار مہاجرین کا دست و بازو بن جانا ان کی ایک عظیم خدمت ہے ۔انہوں نے اسلام کے لئے جو مالی ایثار کیا اس کی تو مثال ہی نہیں ملتی آپؓ صاحب الجرتین بھی ہیںاور زوج لانبتین بھی یعنی آپؓ کو حضور ختم المرسلین کی دو صاحبزادیوں کے شوہر ہونے کا شرف حاصل ہے ۔اسی نسبت سے آپؓ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے لیکن اس کی ایک روحانی حیثیت بھی ہے یعنی آپؓ سے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے کام کو آگے بڑھایا اور یوں یہ ہر دو انوار آپؓ کی ذات میں جمع ہو گئے۔ اسلام میں انتشار پھیلانے والوں کی حرکات سے آپؓ بخوبی واقف تھے لیکن آپؓ کے ایک اشارے پر شامیں پوچھیں مدینہ منورہ پر متعین کی جا سکتی تھیں۔ لیکن حضرت امیر معاویہؓ کی فوجوں کے مدینہ میں تعینات کئے جانے کی درخواست کے باوجود آپؓ نے مدینہ النبی میں فوج کی اس طرح تعیناتی گوارانہ کی کہ جب آپؓ باہر جائیں تو فوج کے سپاہی آپؓ کے آگے پیچھے رہیں اسے آپؓ نے سنت نبوی اور شخیں کی روش کے خلا ف سمجھا۔ آپؓ اگر چاہتے تو شام میں امیر معاویہؓ کے پاس جا سکتے تھے لیکن آپؓ نے مستقر نبوی کی جدائی گوارا نہ کی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے جب آپؓ سے باغیوں کی سرکوبی کے لئے طاقت کے استعمال کی اجازت مانگی تو یہ تک بھی آپ نے گوارا نہ کیا کیونکہ آپ اپنی ذات کی خاطر خون بہانے کو قطعاً تیار نہ تھے۔ آپ ؓنہایت خوش رُو اور خوبصورت تھے۔ رنگ گندم گوں قد میانہ، ریش مبارک بڑی اور گھنی تھی، ناک بلند اور خمدار تھی رخسار پر گوشت تھے سر کے بال گھنے اور زلفیں کانوں تک تھیں، دانت پیوستہ اور چمکدار تھے مزاج میں صفائی پسندی بہت تھی ہمیشہ اچھے مگر سادہ کپڑے پہنتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد روزانہ غسل کرنا آپ کا معمول تھا عموماً تہ بند باندھتے تھے۔ موسیٰ بن طلحہ کا قول ہے کہ حضرت عثمانؓ ابنائے زمانہ میں سب سے زیادہ حسین تھے۔ ایرانی انہیں عربی نوشیرواں ثانی کے نام سے یاد کرتے تھے رضی اللہ تعالیٰ عنہ¾۔
حضرت عثمانؓ بن عفان خلیفہ ثالث کے دور خلافت کو عموماً دورَ انتشار کہا جاتا ہے۔ اور اس فیشن میں ان کے دور خلافت کی برکات کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ ان کا کم احسان ہے کہ انہوں نے پورے عالم اسلام کوایک قرآن کریم پر متفق کیا اور ان کے بعد عالم اسلام خود قرآن کریم میں اختلاف پیدا ہونے کی مصیبت سے بچ گیا۔ آپؓ نے چراگاہیں بنوائیںجہاں بیت المال کے مویشی چرا کرتے تھے اور ان کی پوری طرح دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ مسجد میں خوشبوئیں جلائیں۔ نماز جمعہ میں اذان اوّل کا اجراءکیا۔ مو¿ذنوں کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔ پولیس کا باقاعدہ محکمہ قائم کیا۔ مسجد نبوی اور حرم مبارک کی توسیع فرمائی بحریہ کی بنیاد ڈالی اور اسلامی سلطنت کو سندھ اور افریقہ تک وسعت دی۔ اسلام میں فتنوں کا آغاز مانعین زکوٰة کو بغاوت سے حضرت ابوبکرؓ کے عہد مبارک سے ہی ہو گیا تھا۔ لیکن اس کی سیاسی فراست اور جرا¿ت سے یہ فتنہ دب گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں اسلام دشمن طاقتوں کو سر اٹھانے کی جرا¿ت نہ ہوئی۔ لیکن وہ زیر زمین موقعہ کے منتظر رہے۔ حضرت عثمانؓ کے خلیفہ ہونے کے ساتھ ہی ان اسلام دشمن عناصر کو قبائلی عصبیت کو ہوا دینے کا موقع مل گیا۔ حضرت ابو بکرؓ قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت عمرؓ قبیلہ بنو عدی سے تھے یہ دونوں قبیلے اس شدید جاہلی عصبیت سے مبرا تھے جو اسلام سے قبل بنو ہاشم اور بن امیہ میں چلی آرہی تھی۔ حضرت عثمانؓ کے خلیفہ ہونے کے ساتھ ہی ان لوگوں نے گڑھے مردے اُکھاڑنے شروع کر دیئے حالانکہ حضرت عثمانؓ یا حضرت علیؓ میں سے نہ تھا دونوں جید صحابہؓ عشرہ مبشرہ کے رکن اور سید نا ختم المرسلین بلکہ حضرت عثمانؓ کی بیعت سب سے اوّل حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ہی کی یہ دشمنان اسلام عہد عثمانی کے چھ سالہ دور اول میں حضرت عثمانؓ کے ان افعال کے غیر اسلامی ہونے پروپیگنڈا کرتے رہے جو قطعاً غیر اسلامی نہ تھے۔ مثلاً حضرت عثمان کی اقربا نوازی یا مملکت کے عہدوں پر بنو امیہ کی تعیناتی۔ چونکہ عوام کو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی سیرت میںایسی مثالیں نہیں ملتی تھیں اس لئے عوام کو حضرت عثمانؓکا یہ طرز عمل کچھ عجیب سا لگا ورنہ نہ اولین دو خلفاءکا طرز عمل خیر اسلامی تھا اور نہ حضرت عثمانؓ کا یہ سب کچھ بر بنائے تقاضائے وقت کیا گیا تھا اور اس سے اسلام کے اصولوں کی قطعاً نفی ہوتی تھی دشمنان اسلام نے جب اہل بیعت کو اپنے مقاصد کے لےے آڑ بنایا جس سے بنو امیہ نے یہ سمجھا کہ یہ سب کچھ بنو ہاشم کے مقتدار افراد کے ایمان پر کیا جا رہا ہے بہر حال دشمنان اسلام اس آڑ میں کام کر گئے حالانہ بنو ہاشم اور خاص طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس فتنہ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن سلطنت کے وسیع ہونے کی وجہ سے اسی پر پوری طرح قابو نہ پایا جا سکا لوگ عبداللہ ابن سبا یہودی کی ایجنٹوں کے باتوں میں آگئے یہ ایجنٹ فرضی ناموں سے عاملوںکی فرضی مظالم کی داستانیں لکھ لکھ کر بڑے بڑے صحابہؓ کے نام بھیجتے رہتے ہیں ان عناصر کی آخری سازش یہ تھی کہ انہوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا اور بہانہ یہ بنایا کہ ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔ یہ ۹۴ دن کا محاصرہ بالآخر حضرت عثمانؓ کی شہادت پر ختم ہوا۔ دشمنان اسلام کی لگائی ہوئی اس آگ کی تپش آج بھی عالم اسلام میںہر طرف محسوس ہو رہی ہے اور حضرت عثمانؓ کا خون بھی اُسے ٹھنڈا نہ کر سکا۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ ۸۱ ذی الحج ۵۳ھ کو جمعہ کے دن مدینہ میں پیش آیا، باغیوںنے آپ کو شہید کرنے کے بعد بیت المال کو لوٹ لیا۔ حضرت عثمان ؓ کے جسم اطہر کے کپڑے اور اہل بیت کے تمام ملبوسات اور زیور تک چھین لئے۔ تین دن تک نعش بے گورو کف پڑی رہی بالآخر اسے رات کے وقت بغیر غسل دیئے شہداءکے دستور کے مطابق خاموشی سے دفن کر دیا گیا۔ اس عظیم خلیفہ کے جنازے میں سترہ افراد شریک تھے۔ حالانکہ اس وقت اسلامی سلطنت عرب سے کابل تک پھیلی ہوئی تھی۔ حضرت عثمان کی شہادت سے مسلمانوں کے درمیان جو خون آسام تلوار بے نیام ہوئی تھی اور فتنہ فساد کا جو دروازہ کھلا تھا وہ آج تک بند نہیں ہوا۔ صحابہ کرام کے فضائل بیان کرنے کے لیے تودفاتر کے دفاتر درکار ہیں لیکن حضرت عثمانؓ بن عفان تو وہ جلیل ، مقدر صحابی تھے جن کی چند خوبیاں صرف ان سے ہی مخصوص تھیں۔ آپؓ ذی الہجزتین کے لقب سے بھی ملقب تھے یعنی آپ نے دو دفعہ ہجرت کی تھی اور ذوالنورین کا اعزاز بھی آپؓ کو حاصل تھا۔ فروغ اسلام کے لئے آپؓ کی خدمات عظیم ہیں اور آپؓ غنی کے لقب سے ملقب تھے۔ بنو ہاشم اور بنو امیہ کی دیرینہ رنجشیں پھر سے منظر عام پر آنے لگی تھیں اگرچہ آپؓ کسی قسم کے بھی لقب سے بالاتر تھے۔ اپنے خاندان بنو امیہ سے آپ کا حسن سلوک کسی جانبداری پر مبنی نہ تھا۔ بلکہ صلہ رحمی کے باعث تھا۔ بنو امیہ میں آپ کو السابقون الاولون کا درجہ حاصل ہے ۔بنو امیہ کے دیگر مقتدر حضرات مثلاً ابوسفیانؓ۔ حضرت معاویہؓ اور آپؓ کے چچا الحکم فتح مکہ کے دن ایمان لائے ۔گو ان سب حضرات نے اسلام لانے کے بعد اپنی جانثاری سے اکثر و پیشتر اس تاخیر کی تلافی کر دی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت بنو امیہ کا ستارہ عروج پر تھا۔ ابوسفیان بن حرب بن امیہ بن عبدالثمن بن عبد مناف اور قریش کی دوسری شاخ محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف، تولیت کعبہ کے منصب میں برابر کے شریک تھے۔ گو بنو امیہ کو زیادہ اقتدار حاصل تھا۔ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی نبوت کیا تو بنو امیہ نے سمجھا کہ یہ محض انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ سب سے بڑا خدائی اعزاز تھا جو بنو ہاشم کو ملا تھا، ابوسفیان اسلام کے خلاف ہر معرکہ میں قیادت کے فرائض سر انجام دیتے رہے لیکن انہی کے قبیلہ کے عثمان بن عفان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہے بلکہ ان معرکوں میں حضرت عثمان ؓ کا مالی ایثار نمایاں رہا۔
جو فتنہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کا سبب بنا ذرا غور و خوض اور وسعت قلبی سے جو مسلمانوں کی خاص صفت تھی ان مشکلات کو دور کیا جا سکتا تھا ۔ لیکن حسدو رشک کا دور آچکا تھا جس کی حضورﷺ نے یوں پیش گوئی فرمائی تھی ”مجھے تمہارے فقر فاقہ سے کوئی خوف نہیںبلکہ میں تمہاری دنیاوی دولت ہی سے ڈرتا ہوں۔“
ایم ڈی سکندر

اپنا تبصرہ بھیجیں