palotion

بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی بھی ایک چیلنج ہے

EjazNews

سندھ اور بلوچستان کو بھی مختلف صورتحال کا سامنا ہے۔ بلوچستان میں پانی کی کمی اور کراچی میں حبس ، بارش اور بے لگام ٹریفک کے مسائل اب کسی حکومت کے بس میں نہیں رہے۔ ایک اور مسئلہ کوئلے کے بجلی گھروں میں سرمایہ کاری کا ہے گزشتہ حکومتوں کی نااہلی دیکھیں کہ پہلے کوئلے اور تھرمل کے بجلی گھر لگاتی ہے۔ اربوں روپے اس پر خرچ ہوتے ہیں یہ آسمان سے نہیں گرتا اور نہ ہی نوٹ درختوں پر اگتے ہیں۔ کروڑوں لوگوں کی محنت شاقہ سے چلنی والی معیشت اور حاصل ہونے والا سرمایہ مشینری کی خریدو فروخت میں برباد کیا جارہا ہے۔ نندی پور ہی کی مثال لے لیجئے۔ پہلے بجلی گھروں کو کوئلے پر لگایا گیا اور اب ان بجلی گھروں سے فضائی آلودگی کا اندیشہ ہے۔ وفاقی حکومت نے کوئلے کے پاور پلانٹس کی تنصیب پر اپنی ایک رپورٹ میں گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ کوئلے کے بجلی گھر سلفر ڈ ائی آکسفائیڈ، نائیڈروجن آکسائیڈ، کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت کئی مضر صحت گیسوں کی افزائش کا باعث بن رہے ہیں۔ جبکہ گرین ہاﺅس گیسوں جیسے مضر صحت گیسیں اس کے علاوہ ہیں بجلی کی تیاری کے عمل میں کوئلے سے راکھ کی صورت میں کچھ دھاتی مواد الگ ہو جاتا ہے۔ اس کے باریک زہریلے راکھ میں شامل کیمیکل انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ وفاقی حکومت کے مطابق کوئلے کے بجلی گھروں سے آرسینک اینٹی منی کیڈمیم ،کوبولٹ سیسہ میگنیشیم پارا ،نیکل ، بریلیم،کرومیم اور سیلینیم جیسے خطرناک دھاتی اثرات بھی اس کی راکھ میں شامل ہوتے ہیں۔ تاہم عالمی طور پر بجلی گھروں میں کپڑے کے فلٹر اور بعض دوسرے جدید آلات کے ذریعے ان اجزاءکو فضا میں شامل ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ کو بھی بعض عمل کے ذریعے صاف کیا جاسکتا ہے۔ نائیٹروجن آکسائیڈ کو بھی مختلف برنر کے ذریعے جلا کر اس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ پارے کی صفائی کے لیے کاربن کے فلٹر بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سے کم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کوئلے کے بجلی گھروں میں ایسا سو فیصد ممکن ہے یا نہیں اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تا حال فضائی آلودگی کو کنٹرول نہیں کیا جاسکا۔ ملتان میں داخل ہونے سے پہلے ایک کھاد فیکٹری کا دھواں ہمارا استقبال کرتاہے۔ ہمیں ملتان پہنچنے کی خبر کھاد فیکٹری کے اسی دھوئیں سے ملتی ہے جس کی بو 3کلو میٹر کے رقبے سے محسوس ہوتی ہے مگر کہتے ہیں کھاد فیکٹری سے کوئی آلودگی نہیں ہوتی۔ پاکستان میں ہزاروں فیکٹریاں ،کاریں آلودگی پھیلانے کا سبب ہیں ایسے آلات تیار ہونے چاہیے جن کی موجودگی سے آلودگی پر قابو پایا جاسکے ۔اس مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ اب ہمارے کنٹرول سے نکل چکا ہے اب بھی اگر ہم نے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کی تو ابھی اس کا دورانیہ تقریباً25دن تک ہے مستقبل میں اس کے کئی دور بھی آسکتے ہیں۔ فی الحال تو نومبر سے فروری تک ایک ہی دور آتا ہے۔ اور ایک ہی بارش میں یہ تمام آلودگی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن ہمیں بارش کے علاوہ خود بھی کچھ کرنا چاہیے یہ وہ صورتحال ہے جس کا سامنا نئی حکومت کو کرنا ہو گا یہ ایک چیلنج ہے۔ جو موجودہ حکومت آنے والی حکومت کے لیے چھوڑ کر گئی ہے۔
یہ نہیں کہ دنیا کے دوسرے معاشرے فضائی آلودگی کا سبب نہیں بن رہے ۔ انڈیا میں کسان جب کھیتوں کی کٹائی کے بعد بچا ہوا بھسہ جلاتے ہیں تو اس سے نا صرف انڈیا پوری طرح آلودہ ہو تا ہے اس کے اثرات پاکستان کے کچھ علاقوں میںبھی محسوس کیے جاتے ہیں کیونکہ سرحدیں ساتھ ساتھ ہیں۔ شنگھائی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہو تا ہے۔ اس کے ساتھ امریکہ کوئلے سے سب سے زیادہ بجلی کی پیداوار کرتا ہے۔ ہم تو ان کے مقابلے میں عشر عشیر کی پیداوار اورکوئلے کو نہیں جلاتے ۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے ماحول کو صاف کرنے کی طرف توجہ نہ دیں ۔ کوئلے سے بجلی پیداکرنے کیلئے ایک عرصے سے سائنسدانوں کی ایک ٹیم کام کر رہی ہے اورہمارے پاس کوئلے کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں جس سے بجلی پیدا کر کے ہم اپنی قوم کو سستی بجلی فراہم کر کے آئی پی پی پیز سے جان چھڑا سکتے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ بھی بچا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی انڈسٹری کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔ ہمیں بجلی کی پیداوار بڑھانے کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی فضا کو آلودہ ہونے سے بچانے کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہیے ۔ کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا ملک امریکہ اپنے شہریوں کو آلودگی سے بھی بچاتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں