Dr_yasmen_rashid

پنجاب حکومت کی اجازت سے ایکٹیمراکا تجربہ ایک ہزار مریضوں پر کیا جائے گا:وزیر صحت پنجاب

EjazNews

انہوں نے کہا کہ لوگ خود سے کسی ہسپتال جانے کے بجائے 1122 پر کال کریں، وہ خود آ کر مریض کو لے جائیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ کس ہسپتال میں جگہ میسر ہے اور صورتحال کے حساب سے مریض کو کس ہسپتال میں لے جانا چاہیے۔ اکثر لوگ افراتفری کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی مرضی سے کسی بھی ہسپتال میں چلے جاتے ہیں لہٰذا ہمیں فیصلہ کرنے دیں کہ مریض کو کہاں لے کر جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکٹیمرا انجیکشن کے ہمیں فوائد نظر آئے ہیں اور ہم نے اس پر کام شروع کردیا ہے جبکہ دنیا کے مقابلے میں ایک بہت بڑا ٹرائل کرنے لگے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں میں ایک ہزار مریضوں پر اس دوا کے ٹرائل کی اجازت دے دی ہے۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر محمود شوکت نے بتایا کہ اس دوا ایکٹیمرا کا عمومی استعمال نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمیں کچھ شواہد موصول ہوئے تھے کہ یہ دوا مفید ہو سکتی ہے اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ٹرائل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ٹرائل کرتے ہوئے کچھ مخصوص علامات میں اور مخصوص مریضوں پر ہی دوا کو استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس دوا کے نقصانات بھی بہت ہیں، یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ یہ دوا اتنی کنٹرول ڈرگ ہے کہ جو کمپنی اس دوا کو بناتی ہے تو اسے بھی بین الاقوامی سطح پر اس دوا کو مارکیٹ میں بیچنے کی اجازت نہیں اور یہ براہ راست کمپنی سے ہی لینی پڑتی ہے۔ لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہونا غلط ہے کہ یہ دوا فوری طور پر دی جائے یا ہر مریض کو دی جائے، اگر یہ دوا ہدایات اور ٹیسٹ کے بغیر دی گئی تو اس کا نقصان زیادہ ہو گا۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ اس دوا کے غلط استعمال کی اطلاعات موصول ہوئیں اسی لیے ہم نے اس موضوع کو زیر بحث لانا ضروری سمجھا۔ یہ انجیکشن صرف کمپنی بناتی ہے اور انتہائی محدود تعداد میں بناتی ہے اور ہمارے ماہرین نے کمپنی سے گفتگو کر کے ایک قیمت کا تعین کیا ہے جس کے بعد مکمل دوا ایک لاکھ 2ہزار روپے کی ہو گی۔ 400ملی گرام کا انجیکشن 24گھنٹے میں ایک مرتبہ لگے گا جبکہ اگر 200 ملی گرام کے ہوں تو دو لگیں گے اور پھر 24 گھنٹے میں صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے دوبارہ لگایا جائے گا۔
وزیر صحت نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ یہ انجیکشن وزارت صحت کے علم میں لائے بغیر سرکاری یا نجی ہسپتال میں استعمال نہیں ہو گا۔اس انجیکشن کو تجویز کرنے اور استعمال کیے جانے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ اس مرض کا دنیا میں کہیں بھی کوئی علاج موجود نہیں لہٰذا ڈاکٹرز جان بچانے کے لیے ہر قسم کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی پروفیسر اگر یہ دوا لکھ کر دے رہا ہے تو اس کی نیت پر شک نہ کریں۔ اس دوا کے استعمال کا ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت ٹیسٹ کرانے ہوتے ہیں، ڈی ڈائمرز ہیں اور دیگر علامات ہیں جنہیں ہم نے سب کو بھیج دیا ہے اور ان سب چیزوں کو مدنظر رکھ ہی اس دوا کا استعمال کر سکیں گے اور یہ ہدایات ماہرین نے بنائی ہیں تاکہ دوا کا غلط استعمال نہ ہو۔یہ زندگی بچانے کی دوا نہیں ہے بلکہ کچھ مریضوں پر اس کا اچھا اثر ہو گا اور کچھ ایسے مریض بھی ہیں جن پر اچھا اثر نہیں ہو گا اور اسی لیے دنیا کا لٹریچر پڑھ کر یہ ہدایات وضع کی گئی ہیں تاکہ کسی کو غلط انجیکشن نہ لگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں