journalism

میڈیا بحران میں ہزاروں صحافی گھر میں بیٹھ گئے ہیں،کوئی پرسان حال نہیں

EjazNews

صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ اس پیشے سے وابستہ لوگ دن رات محنت کر کے آپ تک خبروں کو پہنچاتے ہیں ۔ لیکن ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے۔ آپ اس بات کو مانیں یا نہ مانیں پاکستان کے ٹاپ کے اخباروں میں کام کرنے والے بے شمار ورکرز کی تنخواہیں قابل شرم حد تک کم ہیں ۔ اسی طرح ایک مشہور رائے ہے کہ صحافیوں کے پاس پیسے ہوتے ہیں سب کے پاس نہیں ہوتے اس بات کو مان لیں ۔ 20-20سال کے تجربے کے بعد جب دو تنخواہیں دے کر ان کو فارغ کیا جاتا ہے تو اس وقت سوچیں کیا حالات ہوں گے۔

ان کی گفتگو جو انہوں نے ہمارے ساتھ کی-آپ یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں

معروف صحافی اعجاز بٹ کی صحافت سے وابستگی کم سے کم 20سال پر محیط ہے لیکن اس سارے دورانیہ میں انہوں نے کیا دیکھا ، لوگوں کو کیسا پایا، صحافی لیڈر شپ کو کیسا دیکھا ۔ صحافیوں کے حالات کو کیسا پایا ؟ ۔ آئیے ان کی سچی اور کھری باتوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
سوال:کرونا وائرس ہر طرف پھیلا ہوا ، اس بارے میں آپ کیا کہیںگے ؟۔
جواب: کرونا وائرس مارچ میں پاکستان میں آیا۔ پاکستان کی تمام فیلڈ پر اس کے اثرات ہوئے ۔ اس کے اثرات صحافیوں کیلئے بہت مشکلات پیدا ہوئیں۔ بہت سے اخبارات اور چینل سے صحافیوں کو نکال دیا گیا اور کچھ کو کہا گیا گھر پر بیٹھ کر کام کریں بعد میںان کو نکا ل دیا گیا۔ اس بحران سے ہزاروں صحافی گھر میں بیٹھ گئے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو برسراقتدارلانے میں سب سے زیادہ میڈیا کا کردار ہے۔ لیکن اس کے میڈیا پر ایک بحران آیا اس کے پیچھے ان کو مشاورت دینے والے ہیں۔
میڈیا میں حکومت کے دشمن مخالفت برائے مخالفت کرنے والے تھے یا میڈیا مالکان تھے۔ وہ اس وقت سٹیبل ہیں اور اینکر بھی سٹیبل ہیں لیکن اس کے اثرات فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں پر پڑے۔ بیروزگار ہونے والے صحافیوں میں ایک لاکھ سے بیس ہزار کمانے والے ہیں ۔ جو پہلے حکومت کو آنکھیں دکھا رہے تھے وہ اب بھی آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ ان کی تنخواہیں اب بھی لاکھوں میں ہیں۔

لیکن وہ لوگ جو دس ہزار سے شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ ان کی تنخواہیں اسی ہزار یا لاکھ ہوئی تو انہیں نکال دیا گیا۔ لیکن پیراشوٹر کو بھرتی کر کے ان کو نکال دیا گیا۔ 20سال سے کام کرنے والوں کو نکال دیا گیا اور کسی اداکار یا کویت سے آئے ہوئے لوگوں کو اینکر بنا دیا گیا اور کیے ہوئے کام پر ریٹنگ بنائی ۔
سوال:کرونا وائرس میں صحافی لیڈر شپ کا کردار کیا رہا؟۔
جواب:لیڈر کا بنیادی مقصد پوری کمیونٹی کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے ۔ کمیونٹی کی مشکلات کا ازالہ کرنا ہوتا ہے۔ صحافیوں کو جتنی بھی لیڈر شپ ملی ہے ان میں زیادہ تر میر صادق اور میر جعفر ہیں۔ لیڈر شپ اکتوبر اور نومبر میں ایکٹو ہو جاتی ہے۔ اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جن کے مسائل ہوتے ہیں وہ چمٹ جاتے ہیں اور ووٹ بھی دے دیتے ہیں۔
لاہور پریس کلب کے صحافی 3ہزار سے زائد ہیں ۔ لاہرو پریس کلب کے 3ہزار کے صحافیوں کا مسئلہ ہے لاہور کی آباد ی سوا کروڑ کے قریب ہے ۔ ان میں سے صرف 3ہزار کے مسئلے کس نے حل کرنے ہیں صحافی لیڈر شپ نے ۔ ان تین ہزار میں سے جو بیروزگار ہوئے ہیں ان میں سے بیروزگار صرف ایک ہزار ہوئے ہیں ۔اب ان بیروزگار ہونے والے صحافیوں کے بقایا جات دلوانے کا اہتمام کیا جاتا ۔ ان کے مسائل کا حل کیا جاتا ۔ جب میں پریس کلب جاتا ہوں تو بعض لوگ ادھار مانگتے دیکھے جاتے ہیں وہ بار بار اتنے لوگوں سے مانگتا ہے تو لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیتے ہیں۔ میں مثال دیتا ہوں کہ وکلیوں کے لیڈروں نے حکومت سے مذاکرات کیے ان میں ایک کروڑ فیس لینے والے وکیل بھی ہیں اور کسی کو کیس بھی نہیں ملتے وہ بھی ہیں۔ میرے مطابق ان کو جو پیسے ملے انہوں نے تمام رجسٹرڈ وکلاءمیں تقسیم کر دیا۔ ینگ ڈاکٹروں کی تنظیم نے حکومت سے مذاکرات کیے حکومت نے ان کو مراعات دیں۔ پولیس فرنٹ لائن پر ہے حکومت نے ان کو بھی مراعات دے دیں۔ ان سب کی لیڈر شپ نے اپنے لوگوں کیلئے کام کروادیا لیکن صحافیوں کی لیڈر شپ نے کیا کیا۔ یہاں صحافی لیڈر شپ کیا کر رہی ہے۔ایک سو بیس والا سینٹی ٹائزر رکھا ماسک رکھا ۔ ڈیڑھ دو سو کا ایک باکس دیا کہ ہم صحافیوں کو کرونا کا مقابلہ کرنے کیلئے دے رہے ہیں کیا اس سے مقابلہ ہو گا۔
حکومت سے امداد لے کر لیڈر شپ اسے بینک میں رکھ سکتی تھی جو بیروزگار ہوئے ہیں ان کو جب تک روزگار نہیں ملتا دیتے رہتے جب اسے روزگار مل جاتا اس کا نام لسٹ سے نکال جاتے۔ کچھ نام نہاد لیڈروں کا کہنا تھا اس طرح صحافی بھکاری بن جائیں گے ۔ کیا امریکہ نے اپنے میلینرز کو 12سو ڈالر کا ریلیف دے کر بھکاری بنا دیا ہے۔

ہمارے بہت سے دوست ہارٹ اٹیک سے فوت ہوئے ،لیکن یہ ہارٹ اٹیک سے فوت نہیں ہوئے یہ لیڈر شپ کی بے حسی سے فوت ہوا ہے۔ کچھ نام نہاد لیڈر کہتے ہیں آپ آکر ہم سے راشن لے جائیں یہ تو کسی صحافی کو تذلیل کرنے کی انتہا ہے۔ اس کو باعزت طریقے سے پیسوں کی ادائیگی کریں ۔
عام لوگ سوچتے ہیں صحافیوں کے پاس بہت پیسے ہیں لیکن حقیقت میں ایسے بہت سے صحافی بھی ہیں جن کے بچے رات کو بھوکے بھی سوئے ہیں۔ یہ لیڈر شپ اگر ایک چھوٹا ریلیف دے دیتی آخر صحافیوں کے روزگار کے مسائل نے حل ہو ہی جانا ہے۔
سوال: میڈیا یہ بحران کیوں آیا اس بارے میں ضرور اظہار خیال کریں؟
جواب:میڈیا میں یہ بحران صرف ہمارے ہاں نہیں پوری دنیا میں آیا لیکن انہوںنے آلٹر نیٹو حل متعارف کروانے تھے۔ میڈیا مالکان کی سوچ ہے جنہوں نے 20-25سال لگائے ہیں ان کو نکال دیا جائے اور ان کی جگہ تھوڑی تنخواہوں پر نئے لوگوں کو لایا جائے۔ ڈان اخبار کے ایک فوٹو گرافر نے مجھے فون کیا کہ میری ایک لاکھ تنخواہ تھی لیکن اب مجھے کوئی 15ہزار تنخواہ دینے کو تیار نہیں۔ یہ شخص کیسے گزارا کرے گا۔
اس کا ایک حل یہ بھی ہے صحافیوں کو میڈیا کے مختلف بزنسوں کی آگاہی دیںجو میڈیا سے منسلک ہو ۔ کیمرے اور اس کے ساتھ دوسری اشیا ، پرنٹ میڈیا کیلئے حکومت کی جانب سے کچھ بڑے میگزین شروع کیے جاسکتے ہیں ۔ جیسے ماضی میں مساوات اور مشرق تھے۔ آہستہ آہستہ بیروزگار ہونے والے کہیں نہ کہیں ایرجسٹ ہو جائیں گے۔
سوال: صحافی تنظیموں کا کردار کیا رہا؟۔
جواب:لاہور میں کرونا کی حالت تشویشناک ہے۔ ہماری نام نہاد لیڈر شپ نے شور مچایا کہ 46صحافیوں کو کرونا سے امداد دی گئی لیکن میں ادھر بھی سمجھوں گاایک غلط کام ہو رہا ہے جن جن کا نام 46صحافیوں میں ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو نوازا جارہا ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کہ جب ان 46لوگوں کا نام آیا توپھر مراعات لینے والوں نے اپنا نام کنفرم کرنے کیلئے سوشل میڈیا کے ذریے شور مچانا شروع کیا کہ ہم نے کرونا کو مات دی ، میرا کرونا پوزیٹو ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جو سفید پوش صحافی ہے وہ کسی کو بتاتا ہی نہیں کہ کہیں یہ پکڑ کر مجھے یا میری فیملی کو میو ہسپتال میں داخل نہ کرادیں۔وہ اس خوف سے بتاتے نہیں اور وہ حق دار بھی ہیں اور وہ امداد کے اصل مستحق ہیں۔
آپ دیکھیں اب جو نام کنفرم کر ارہے ہیں وہ سیاسی بیٹ کرنے والے زیادہ تر ہیں ۔میں وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست کروں گا کہ وہ خود لسٹ بنائیں ان لوگوں کی لسٹوں پر اعتبار ہرگز نہ کریں۔لاہور کا میڈیا آپ کی پشت پناہی میں کھڑا ہو جائے گا۔
سوال:صحافت کے کچھ دلچسپ واقعات ضرور ہمیں بتائیں؟
جواب:جامعہ نعیمیہ میں جب دھماکہ ہوا تو میں فوراً وہاں پہنچ گیا ۔ اس وقت کے ایس پی عمر ورک مجھے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ اسی دوران جامعہ نعیمہ میں موجود کسی طالب علم نے اعلان کر دیا کہ یہ پولیس والے بھی دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور امام صاحب کو انہوں نے شہید کروایا ہے۔ لڑکوں نے ڈنڈے پکڑ لیے اور سب کو مارنا شروع کر دیا۔ ہم نے کہا اب دہلائی ہو گی۔ وہاں موجودایک استاد ہمیں کمرے میں لے گیا اور اسی دوران راغب نعیمی نے لڑکوں کو ٹھنڈا کیا۔ میں نے اس وقت پہلی دفعہ خودکش بمبار کے سر کو ہاتھ میں پکڑ کر اس کی تصویر بنائی۔اپنے ہاتھ میں پکڑ کر خودکش بمبار کی تصویر بنانا بڑا جذباتی سین تھا۔
اسی طرح مناواں سینٹر میں جب خودکش بمبار داخل ہوئے تو میں اور آئی جی حبیب الرحمن باہر بیٹھے تھے۔جب انہوںنے اپنے آپ کو بلو کیا تو ہم نے ان کے اعضا کو اڑتے ہوئے دیکھا۔ رپورٹنگ کے دوران بہت سے واقعات پیش آئے ۔
سوال: یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالبعلم جو میڈیا انڈسٹری میں آنا چاہتے ہیں ان کو کچھ کہنا چاہیے گے؟
جواب: جب ہم میڈیا میں آئے تو اس وقت میڈیا عروج پر تھا۔ میرا ایک فیچر پر پولیس اہلکار معطل ہو جایا کرتے تھے۔ میڈیا میں آنے والے یہ خواب لے کر آتے ہیں کہ ہم بڑے اینکر بن جائیں گے یہ 30-40سے زیادہ نہیں ۔ باقی سب کے حالات اس قدر اچھے نہیں ہیں۔ جب میں نے رپورٹنگ شروع کی تھی تو میرے ساتھ والے ایڈیشنل آئی جی اور آئی جی کے عہدے پر پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں بڑے عہدے دینے کی بجائے نوکریوں کے مسائل ہیں۔ ہمارے پاس اتنا تجربہ اور سنیارٹی ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔کیونکہ وہ نئے لوگوں کو 20-25ہزار دے کر اپنا کام نکالتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ میڈیا سے وابستگی ضرور رکھیں لیکن اسے پروفیشنل کے طور پر نہ اپنائیں اس کے ساتھ اپنا کوئی اور کام ضرور کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں