jacinda

شدت پسندی کے بعد نیوزی لینڈ نے کرونا کو بھی سب سے پہلے شکست دے دی

EjazNews

نیوزی لینڈ کے شہر، کرائسٹ چرچ میں ہونے والی دہشت گردی کے انسانیت سوز واقعہ نے نہ صرف اس دُور دراز واقع پُر امن مُلک کو ہِلا کر رکھ دیا، بلکہ پوری دُنیا کو ایک مرتبہ پھر شدت پسندی، نسل پرستی اور تعصب کے خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سفید فام دہشت گرد، برینٹن ٹیرنٹ نے 50 نمازیوں کو فائرنگ کر کے شہید کر دیاتھا، جن میں پاکستان، بنگلہ دیش، تُرکی اور شام سمیت دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان شامل تھے۔ اس دِل دوز واقعہ کی دُنیا بھر نے مذمّت کی اور اس کا سبب ’’اسلامو فوبیا‘‘ یا اسلام کے پیروکاروں سے نفرت کو قرار دیا تھا۔ اس موقعہ پر نیوزی لینڈ کی حکومت بالخصوص کیوی وزیر اعظم، جیسنڈا آرڈرن نے جس تدبر، معاملہ فہمی اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا، اُس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس دوران اُن کی وہ تصویر کافی مشہور ہوئی، جس میں وہ سیاہ شلوار قمیص پہنے ، دوپٹہ اوڑھے پاکستانی شہدا کے لواحقین سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی خاتون وزیر اعظم کے یہ جملے بھی خاصے مقبول ہوئے کہ’’شہید ہونے والے افراد ہمارے ہیں اور قاتل ہم میں سے نہیں۔‘‘
اسی نیوزی لینڈ نے دنیا میں سب سے پہلے کرونا کو بھی شکست دے دی ہے ۔ نیوزی لینڈ کو مکمل طور پر کرونا فری ملک قرار دیا گیا ہے۔کرونا وائرس کو شکست دینے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے ملک میں لاک ڈائون ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ میں معاشی اور سماجی فاصلوں کی پابندیاں ختم کر دی گئیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں