women_health_problems

بطور کیرئیر نرسنگ کا شعبہ

EjazNews

نرسنگ کا شعبہ کسی بھی مُلک کے ہیلتھ کیئر کا بنیادی حصّہ تصوّر کیا جاتا ہے۔ پیشے کی بے مثل خدمات کے اعتراف کے طور پر ہر سال، فلورنس نائیٹ کو یاد کیا جاتا ہے یہ وہ عظیم برطانوی خاتون ہیں، جنھیں جدید نرسنگ کا بانی کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے1854ء کی جنگ میں صرف 38 نرسز کی مدد سے1500 زخمی اور بیمار فوجیوں کی دن رات تیماداری کی، جس کے بعد اُن کا نام نرسنگ کے پیشے کی شناخت بن گیا۔
پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد، بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی، جس کے بعد 1949ء میں’’ سینٹرل نرسنگ ایسوسی ایشن‘‘ اور 1951ء میں’’ نرسز ایسوسی ایشن‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ نرسز کی فلاح کے لیے ایک ادارہ،’’ پاکستان نرسنگ کاؤنسل‘‘ 1948ء میں قائم ہوا۔ یہ ایک خود مختار ادارہ ہے، جو پاکستان میں پریکٹس کے لیے نرسز، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور مڈوائفز کی رجسٹریشن کرکے اُنھیں لائسنس جاری کرتا ہے۔پاکستان میں1069 افراد کے لیے ایک نرس دستیاب ہے، جب کہ دنیا کے دیگر ممالک مثلاً ناروے، مناکو، آئرلینڈ اور بیلارس وغیرہ میں ہر 46 افراد کے لیے ایک نرس موجود ہے۔ دُنیا بھر میں نرسنگ کے شعبے کو خصوصی عزّت و وقار حاصل ہے، تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک نرسز کو وہ عزّت ومقام نہیں دیا جا سکا، جس کی وہ جائز طور پر مستحق ہیں۔ پھر یہ بھی کہ ہمارے ہاں نوجوانوں کی اکثریت ڈاکٹر ہی بننا چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ گیارہویں جماعت میں میڈیکل کا انتخاب کر لیتے ہیں، مگر اتنی بڑی تعداد کو ڈاکٹر بنانا یقینًا پاکستان جیسے مُلک کے لیے ناممکن ہے، سو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد میڈیکل کالجز میں داخلے سے محروم رہ جاتی ہے، جس پر وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس دوسری چوائس کے طور پر نرسنگ کا شعبہ بھی موجود ہوتا ہے۔ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ایک ڈاکٹر اور نرس میں زمین آسمان کا فرق ہے، تاہم طب کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو نرسنگ کے شعبے کو بھی کسی طور کم تر نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز سے کہیں زیادہ کام، میل اور فی میل نرسز کام کرتے ہیں اور اسی لیے دوسرے شعبوں کے مقابلے میں نرسنگ کے شعبے میں بیرونِ مُلک کام کرنے کے زیادہ مواقع دستیاب ہیں۔ ہمارے ہاں یہ مغالطہ بھی پایا جاتا ہے کہ شعبہ نرسنگ صرف خواتین ہی کے لیے مخصوص ہے، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ نرس کی اصطلاح، مرد اور عورت، دونوں ہی کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ڈاکٹر، جج، پائلٹ اور ٹیچر وغیرہ کے لیے مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں۔ یوں بھی شعبۂ صحت میں جتنی ضرورت فی میل نرسز کی ہے، کم و بیش اُسی مناسبت سے میل نرسز کی بھی رہتی ہے، لیکن چونکہ اس شعبے میں طالبات زیادہ دِل چسپی رکھتی ہیں، اس لیے نرسنگ کی تعلیم کے زیادہ تر ادارے طالبات ہی کے لیے قائم ہیں۔
نرسنگ کو بطورِ کیرئیر اپنانے کے لیے ضروری ہے کہ اُن کی عُمر15 سے 35 سال کے درمیان ہو۔ نیز، انٹر سائنس کے طلبہ کو داخلے میں ترجیح دی جاتی ہے۔ نرسنگ سکولز اور کالجز میں طلبہ کو چار سال کے دَوران مختلف مضامین پڑھانے کے ساتھ، عملی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ہر صوبے میں نرسنگ کا اپنا امتحانی بورڈ موجود ہے، جو تمام تعلیمی مراحل کی نگرانی کرتا ہے۔
پاکستان میں نرسنگ کی تعلیم تقریباً مفت ہے بلکہ اکثر سکولز اور کالجز میں تو زیرِ تعلیم طلبہ کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے، جبکہ طالبات کو رہائش اور کھانے کی سہولت بھی مفت فراہم کی جاتی ہے۔ البتہ چند ایسے نجی ادارے ضرور ہیں، جو ماہانہ وظیفہ تو نہیں دیتے، لیکن باقی تمام سہولتیں دیگر اداروں ہی کی طرح مہیا کرتے ہیں۔ پھر نرسز کو ملازمت کے بھی پُرکشش مواقع حاصل ہیں۔ نرسز کا چار سالہ تعلیم کے بعد، سرکاری شعبے میں اسٹاف نرس کے عُہدے پر گریڈ 14 میں دو پیشگی ترقّیوں کے ساتھ تقرّر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اُنھیں چار سال تک بطور سٹاف نرس کام کرنے کے بعد گریڈ16 میں ترقّی دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ کوئی بھی نرس اپنے تجربے، مزید تعلیم اور تربیت کی بنیاد پر گریڈ 20 تک ترقّی کر سکتی ہے۔ نجی شعبے یا پرائیویٹ ہسپتالوں میں سٹاف نرس کو عام طور پر گریڈ 14 اور 16 کے مساوی یا کبھی اس سے بھی زیادہ تنخواہیں اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔ چونکہ پاکستان میں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نرسز کی شدید کمی ہے، اس لیے عموماً چار سالہ تعلیم کے اختتام کے ساتھ ہی نرس کو، چاہے وہ میل ہو یا فی میل، فوراً ملازمت مل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے بہت سے ڈاکٹرز کو تو تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی بے روزگار دیکھا ہوگا، لیکن تربیت یافتہ نرسز کم ہی بغیر ملازمت نظر آئیں گے۔ تو صرف اس ایک مثال ہی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے لیے اس شعبے کو بطورِ کیرئیر اپنانے میں ترقّی کے کتنے شان دار مواقع موجود ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں