hongkong

چین نے ہانگ کانگ کے متعلق قانون پاس کرلیا

EjazNews

1991میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا جس کے بعد سے چین نے یہاں ‘ایک ملک، دو نظام فریم ورک کے تحت حکمرانی کی ہے۔چین کی نیشنل پیپلز کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں اس سکیورٹی قانون کو اولین ترجیح دی گئی جس کے خلاف 7 ماہ سے فنانشنل حب یا مالیات کا گڑھ کہلائے جانے والے علاقے میں احتجاج جاری تھا۔
گزشتہ سال اکتوبر میں ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج و مظاہرے مجرمان کی حوالگی سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف کیے گئے تھے، جس نے جمہوری سوچ رکھنے والے ہانگ کانگ کے عوام اور بیجنگ کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے درمیان شدید اختلافات کو بےنقاب کردیا تھا۔جس پر گزشتہ برس پولیس اور مظاہرین کے مابین کشیدگی شروع ہوگئی تھی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔اگرچہ احتجاج کا آغاز پرامن طور پر ہوا تھا تاہم حکومت کے سخت ردعمل کے بعد یہ احتجاج و مظاہرے پرتشدد ہوگئے تھے۔احتجاج کے بعد یہ بل، جس کے تحت ہانگ کانگ کے شہریوں کو ٹرائل کے لیے مرکزی چین بھیجنے کی اجازت دی جانی تھی، واپس لے لیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا تھا جس کی وجہ حقوق کے لیے ووٹنگ کرانے اور پولیس کی کارروائیوں کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے تھے۔
چین کی مقننہ نیشنل پیپلز کانگریس نے اس فیصلے کے حق میں ایک کے مقابلے 2 ہزار 878 ووٹ دئیے جس نے اسٹینڈنگ کمیٹی کو قانون سازی کا مسودہ تیار کرنے کا اختیار دے دیا۔چین کے گریٹ ہال آف چائنا میں میں جب ووٹوں کی گنتی اسکرین پر نمودار ہوئی تو ہال میں مسلسل قانون سازوں کی تالیوں کی گونج سنائی دیتی رہی۔صرف ایک شخص نے اس مسودے کی مخالفت کی جبکہ 6 اراکین غیر حاضر رہے۔یہ قانون چین کے مرکزی حصے کے حکام کی جانب سے ہانگ کانگ حکومت کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست نافذ کیا جائے گا۔
دوسری جانب نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے نائب چیئرمین نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہانگ کانگ کی جانب سے اپنے سکیورٹی قانون نافذ کرنے میں تاخیر نے چینی قیادت کو ایکشن لینے پر مجبور کیا۔
گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے مسودے کے مطابق یہ قانون مرکزی چین کے سکیورٹی اداروں کو کھلے عام ہانگ کانگ میں کاروائیاں کرنے کی اجازت دے گا۔
مذکورہ قانون کی تفصیلات آئندہ آنے والے ہفتوں میں سامنے آئیں گی اور ممکنہ طور پر ستمبر میں لاگو ہوجائے گا۔اس سلسلے میں نیشنل پیپلز کانگریس اسٹینڈنگ کمیٹی کو قانون سازی تیار کرنے کا ذمہ دیا گیا ہے جس کا اجلاس جون میں متوقع ہے اور بیجنگ نے کہا ہے کہ اسےجلد از جلد کیا جائے۔
چینی حکومت نے گزشتہ ہفتے نیشنل پیپلز کانگریس میں قانون پیش کیا تھا جس کے بارے میں پارلیمان کے ترجمان نے کہا تا کہ یہ قانون مالیات کے گڑھ کہلائے جانے والے شہر میں میکانزم کے نفاذ کو مضبوط کرے گا۔قانون کی منظوری سے ایک روز قبل ہی امریکہ نے اپنے قوانین کے تحت ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی جس سے اس شہر کے لیے تجارتی مراعات ختم کرنے کا راستہ ہموار ہوگا کیونکہ امریکہ نے چین پر اس علاقے کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کا الزام بھی لگایا۔واشنگٹن کے فیصلے کے مطابق ہانگ کانگ اب اس آزادی سے مزید فوائد نہیں اٹھا سکے گا جس سے اسے تجارتی مراعات حاصل تھی، ان میں سے ایک مرکزی چین کے مقابلے کم ٹیرف بھی تھا۔
دوسری جانب مغربی ممالک اور جمہوری ایکٹوسٹس کو خدشہ ہے کہ اس سے اس شہر کی خصوصی خود مختار حیثیت متذلذل ہوجائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں