sham_شام

شام میں عالمی طاقتوں کے مفادات، کب اور کیسے بدلے

EjazNews

ادلب جیسے نو وار زونز کا قیام شامی علاقوں میں کیسے ہوا؟ اصل میں یہ سب بے عملی اور دوغلی پالیسیز کا نتیجہ تھا۔ زبانی طورپر تو انتہائی سخت الفاظ میں صدر بشار کی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتے رہے، بلکہ یہاں تک اصرار رہا کہ کسی بھی شامی حل میں صدر بشار کا کوئی کردار نہیں ہوگا، لیکن عملًا اس کے بالکل برعکس پالیسی اختیار کی گئیں۔ پہلی امریکی اور مغربی ناکامی تو ایران کے بعد، روس کی شام میں براہ راست فوجی مداخلت تھی۔
2015 ء سے قبل تو روس کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی بس علامتی سی رہ گئی تھی اور اس کی کچھ بحری فورس، شامی نیول بیس میں متعین تھی۔ مصر، عراق، لبنان اور دیگر سوشلسٹ کہلانے والے عرب ملکوں میں اس کا نام ونشان تک مٹ چکا تھا، لیکن سابق امریکی صدر، باراک اوباما کی مشرقِ وسطیٰ سے پسپائی کی پالیسی نے روس کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع دیا۔ یورپ نے اوباما کی پیروی کی، جس سے خطے میں طاقت کا خلا پیدا ہوا۔جس پر روس نے صدر پیوٹن کی قیادت میں بڑے نپے تلے انداز میں اپنے بمبار طیاروں کو اسد حکومت کی مدد کے لیے شام میں داخل کیا۔ وہ ایران کو اپنا ہم نوا بنا چکا تھا، جس کی پہلے ہی امریکہ سے کش مکش چل رہی تھی۔ دوسرا جواز خود مغرب نے فراہم کیا۔ وہ یہ کہ مغرب نے داعش کی دہشت گردی کو اس قدر اچھالا کہ سب اس کی طرف ہی متوجّہ ہوگئے۔ اوباما نے کہا کہ’’ اُن کا ٹارگٹ مشرق وسطیٰ، خاص طور پر شام و عراق میں، صرف داعش کو ختم کرنا ہے۔‘‘ مغربی میڈیا نے بھی شامی خانہ جنگی اور شہریوں کی ہلاکت کو کم تر دکھایا، جبکہ اگر داعش کی کارروائیوں میں قتل ہونے والوں اور شام میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کا موازنہ کیا جائے، تو عام شہریوں کی ہلاکتیں کہیں زیادہ ہوئیں۔ شامی خانہ جنگی میں اپوزیشن، تُرکی اور عربوں سے کیے گئے وعدوں کو اس پروپیگنڈے کے شور میں دبا دیا گیا۔ روس اور ایران نے اس کا بھرپور فوجی فائدہ اٹھاتے ہوئے داعش اور دہشت گردی ختم کرنے کی آڑ میں صدر اسد کے جنگی جرائم، جو اُنہوں نے اپنے ہی شہریوں کو ہلاک کرکے اور مہاجر بنا کر کیے، معاف کروا لیے۔ یوں اسد حکومت ساری دنیا کو قابل قبول نظر آنے لگی، لوگ لاکھوں شہریوں کے قتل عام کو بھی بھول گئے کہ یہ تو دہشت گردی کے خلاف جنگ سمجھی گئی۔ اس سے شامی خانہ جنگی پس منظر میں چلی گئی۔ تُرکی نے ادلب جیسے’’ پیس زونز‘‘ قائم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ جب اُس نے دیکھا کہ امریکہ بے عمل ہوچکا ہے، تو اُس نے تہران اور ماسکو سے بات چیت اور غیر رسمی قسم کی ڈیل کی۔ ادلب جیسے زونز قائم کرنے کے دو مقاصد تھے۔ اوّل، مہاجرین کے سیلاب کو تُرکی میں آنے سے روکا جائے، جہاں پہلے ہی28 لاکھ کے قریب شامی مہاجرین موجود تھے۔ دوسرا مقصد انسانی المیوں کو کم سے کم کرنا تھا۔ یہ ایسے’’ نو وار زونز‘‘ تھے، جن کے متعلق خیال تھا کہ فریقین فوجی کارروائیوں، خاص طور پر فضائی بم باری سے پرہیز کریں گے۔ اُنھیں پناہ گزینوں اور شہروں سے بھاگنے والوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ہونا تھا، لیکن ان میں سے سوائے ادلب کے، سب پر شامی افواج، روسی بمباری کے سائے تلے قابض ہوچکی ۔

یورپ میں بڑھتی انتہا پسندی سے جرمنی بھی متاثر

تُرکی نے ادلب کو سُرخ لکیر قرار دیا ہے۔ تُرک وزیر خارجہ بار بار تنبیہ کرچُکے تھے کہ اس پر حملہ کرنے کا مطلب، براہ راست ٹکرائو ہوگا۔ بظاہر تو یہ بہت سخت بیان تھا اور یہ روس اور ایران سے اس کے تعلقات میں تنائو کا بھی احساس دلاتا تھا۔ نیز یہ مفادات کے ٹکرائو کا بھی واضح پیغام تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے دورۂ عراق میں ادلب کو فوجی طاقت سے خالی کروانے کی بات کی تھی۔ کچھ اسی قسم کے بیانات روسی وزیر خارجہ بھی دے چُکے تھے۔ روس اور ایران کی خواہش یہ بھی تھی کہ بغیر لڑے بھڑے ادلب کو اپوزیشن سے خالی کروا لیا جاتا۔ ایک طرف تو ماضی کی ہولناکیوں سے خوف دلایا جا رہا تھا، تو دوسری طرف اس ضمن میں غیر معمولی سفارتی کوششیں بھی جاری تھیں۔ روس، تُرکی اور ایران کے وزرائے خارجہ بغداد اور تہران میں ملاقاتیں کرچُکے تھے، لیکن لگتا یہی تھا کہ ادلب پر حملے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ اس سلسلے میں امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دھمکی نُما بیان بھی دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت، روس اور ایران، ادلب پر حملے سے باز رہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ایک فاش غلطی ہوگی، جس میں لاکھوں جانوں کے زیاں کا خطرہ تھا۔
یورپ کا کردار بھی اب اس معاملے میں نہ ہونے کے برابر تھا۔ جرمنی کی چانسلر کو شامی مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کی جو سیاسی قیمت چکانی پڑی، اس کے بعد کسی یورپی حکومت میں شامی مہاجرین کے لیے ہمدردی کے بول بولنے کا دم خم نہیں رہا۔ اسی لیے یورپی ماہرین، چاہے وہ فوجی ہوں یا سیاسی، سب کو کسی بھی شکل کا فوجی شامی حل قابل قبول ہو گا۔ وہ انسانی حقوق کے لمبے چوڑے دعووں سے اپنے مفادات کی خاطر صرف نظر کرنے پر راضی تھے، کیونکہ خود شامی خانہ جنگی نے اُن کے ہاں بھی ایک بحران کی سی کیفیت پیدا کردی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں