plan_crash

عید ماتم میں بدل گئی، المناک حادثے نے سب کو اشکبارکر دیا

EjazNews

کراچی ایئرپورٹ کے قریب آبادی میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے حادثے میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 97 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ 2 افراد معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔
طیارے کو رواں ماہ 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی۔دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی مینٹیننس چیک کی گئی تھی۔سول ایوی ایشن اتھارٹی(سی اے اے) کی جانب سے طیارے کو 5 نومبر، 2020 تک اڑان بھرنے کے لیے صحیح قرار دیا گیا تھا۔ ایئر بس A320-200 کو پرواز کی صلاحیت کا پہلا سرٹیفکیٹ 6 نومبر 2014 سے 5 نومبر 2105 تک کے لیے جاری کیا گیا تھا اور اس کے بعد ہر برس طیارے کے مکمل معائنے کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔
حادثے کے عینی شاہد اعجاز مسیح نے کہا کہ جہاز نے 2 مرتبہ لینڈنگ کی کوشش کی لیکن اس کے پہیے باہر نہیں آرہے تھے اور رن وے کو چھونے سے قبل ہی پائلٹ نے جہاز کو واپس موڑ لیا۔انہوں نے کہا کہ طیارے نے دوسری مرتبہ لینڈنگ کی کوشش کی میں نے دیکھا کہ ایک انجن میں سے آگ نکل رہی تھی کیونکہ رن وے سے رگڑ لگی تھی، وہ تیسری مرتبہ واپس نہیں آیا بلکہ تباہ ہوگیا۔اعجاز مسیح نے مزید کہا کہ وہ ماڈل کالونی میں پی آئی اے ایمرجنسی رسپونس یونٹ کی معاونت کررہے تھے جہاں طیارہ رہائشی عمارتوں سے ٹکرایا اور کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے اب تک جہاز کی سائیڈ پر پینٹ کیا گیا اس کا انفرادی نمبر بی ایل ڈی یاد ہے۔
محکمہ صحت کی ترجمان کے مطابق 66 میتوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ 31 افراد کی لاشیں سول ہسپتال کراچی لائی گئی ہیں۔ ابھی تک صرف 19 میتوں کی شناخت ہو سکی ہے جبکہ بیشتر لاشیں قابل شناخت نہیں۔ حکام کے مطابق میتوں کی شناخت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دکھ کی اس گھڑی میں اظہار یکجہتی کرنے والے وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں