hazrat_loot_as

حضرت لوط علیہ السلام (حصہ اول)

EjazNews

حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے برادر زادہ ہیں ان کے والد کا نام ہاران تھا، حضرت لوط کا بچپن حضرت ابراہیم ہی کے زیر سایہ گزرا اسی لیے وہ اور حضرت سارہ ملت ابراہیمی کے پہلے مسلم اور السا بقون الاولون میں داخل ہیں۔
ترجمہ: پس ایمان لایا لوط ابراہیم پر اور کہا میں ہجرت کرنیوالا ہوں اپنے رب کی جانب۔
یہ اوران کی بی بی حضرت ابراہیم کی ہجرتوں میں ہمیشہ ساتھ رہے ہیں اور جب حضرت ابراہیم مصر میں تھے تو اس وقت بھی یہ ہم سفر تھے۔
تورات میں ہے کہ مصر کے قیام میں چونکہ دونوں کےپاس کافی سازو سامان تھا اور مویشیوں کے بڑے بڑے ریوڑ تھے، اس لیے ان کے چرواہوں اور محافظوں کے درمیان بہت زیادہ کشمکش رہتی تھی۔ حضرت ابراہیم کے چرواہے چاہتے تھے کہ اس چراگاہ اور سبز ہ زار سے پہلے ہمارے ریوڑ فائدہ اٹھائیں اور حضرت لوط کے چرواہوں کی خواہش ہوتی کہ اول ہمارا حق سمجھا جائے۔ حضرت ابراہیم نے اس صورت حال کا اندازہ کر کے حضرت لوط سے مشورہ کیا اور دونوں کی صلاح سے یہ طے پایا کہ باہمی تعلقات کی خوشگواری اور دائمی محبت و الفت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ حضرت لوط مصر سے ہجرت کر کے شرق اردن کے علاقہ سدوم اور عامورہ چلے جائیں اور وہاں رہ کر دین حنیف کی تبلیغ کرتے اور حضرت ابراہیم کی رسالت کا پیغام حق سناتے رہیں اور حضرت ابراہیم واپس فلسطین چلے جائیں اور وہاں رہ کر اسلام کی تعلیم و تبلیغ کو سر بلند کریں۔
سدوم:
اردن کی وہ جانب جہاں بحر میت یا بحر لوط واقع ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جس میں سدوم اور عامورہ کی بستیاں آباد تھیں اس کے قریب بسنے والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ پہلے یہ تمام حصہ جو اب سمندر نظر آتا ہے کسی زمانہ میں خشک زمین تھی اور اس پر شہر آباد تھے۔ سدوم و عامورہ کی آبادیاں اسی مقام پر تھیں۔ یہ مقام شروع سے بحر نہ تھا۔ جب قوم لوط پر عذاب آیا اور اس سرزمین کا تختہ الٹ دیا گیا اور سخت زلزلے اوربھونچال آئے تب یہ زمین تقریباً چار سو میٹر سمندر سے نیچے چلی گئی اور پانی اُبھرآیا۔ اسی لیے اس کا نام بحر میت اور بحر لوط ہے۔
یہ صحیح ہو یا غلط بہر حال یہ مسئلہ حقیقت رکھتا ہے کہ اسی بحر میت کے ساحل پر وہ حادثہ رونما ہوا جو قوم لوط کے عذاب سے موسوم ہے اور جو گزشتہ دو سال کی اثری تحقیق نے بحر میت کے ساحل پر لوط ؑ کی بستیوں کے بعض تباہ شدہ آثار ہویدا کر کے اس علم ویقین کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے جس کا اعلان ساڑھے تیرہ سو سال قبل قرآن عزیز نے کر دیا تھا۔
قوم لوط:
لوط علیہ السلام نے جب سدوم میں آکر قیام کیا تو دیکھا کہ یہاں کے باشندے فواحش اور معصیتوں میں اس قدر مبتلا ہیں کہ الامان ، الحفظ ، دنیا کی کوئی برائی ایسی نہیں تھی جو ان میں موجود نہ ہوا اور کوئی خوبی ایسی نہیں جوان میں پائی جاتی ہو، دنیا کی سرکش ، متمرد، اور بد اخلاق و بد اطوار اقوام کے دوسرے عیوب و فواحش کے علاوہ یہ قوم ایک خبیث عمل کی موجد تھی یعنی اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے وہ عورتوں کی بجائے مرد لڑکوں سے اختلاط رکھتے تھے، دنیا کی قوموں میں اس عمل کا اس وقت تک قطعاً کوئی رواج نہ تھا، یہی بدبخت قوم ہے جس نے اس ناپاک عمل کی ایجاد کی، اس عمل کا نام ’’لواطت‘‘ مشہور ہے۔
اور اس سے بھی زیادہ شرارت، خباثت اور بے حیائی یہ تھی کہ وہ اپنی اس بدکرداری کو عیب نہیں سمجھتے تھے اور علی الاعلان فخر و مباہات کے ساتھ اس کو کرتے رہتے تھے۔
ترجمہ: اور لوط کا واقعہ ، جب اس نے اپنی قوم سے کہا ،کیا تم ایسے فحش کام میں مشغول ہو جس کو دنیا میں تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا، یہ کہ بلا شبہ تم عورتوں کی بجائے اپنی شہوت کو مردوں سے پوری کرتے ہو یقیناً تم حد سے گزرنے والے ہو۔ (اعراف)
عبدالوہاب نجار مرحوم لکھتے ہیں میں نے عبرانی ادب کی ایک کتاب میں ان کی بعض بداعمالیوں کا حال پڑھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل سدوم کی یہ بھی عادت تھی کہ وہ باہر سے آنے والے تاجر اور سوداگروں کے مال کو ایک نئے اور اچھوتے انداز سے لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کا طریقہ یہ بھی تھا کہ جب کوئی سوداگر باہر سے آکر سدوم میں مقیم ہوتا تو اس کے مال کو دیکھنے کے بہانے سے ہر شخص تھوڑی تھوڑی چیز اٹھاتا اور لے کر چل دیتا اور تاجر بیچارہ حیران وپریشان ہو کر رہ جاتا ۔ اب اگر اس نے پانی ضیاع کا مال کا شکوہ کیا اور رونے دھونے لگا تو ان لٹیروں سے ایک آتا اور لوٹی ہوئی دو ایک چیزیں دکھلا کر کہنے لگا کہ بھائی میں تو یہ لے گیا تھا۔ لو تمہاری یہ چیز موجود ہے وہ رنجیدہ آواز میں کہتا کہ میں اس کو لے کر کیا کروں گا، جہاں میرا سارا مال لٹ گیا وہاں یہ بھی سہی، جا تو ہی اپنے پاس رکھ، جب یہ معاملہ ختم ہو جاتا تو اب دوسرا آتا اور وہ بھی اسی طرح کوئی معمولی سی چیز دکھا کر وہی کہتا جو پہلے نے کہا تھا اورسوداگر رنج و غم اور غصہ میں اس سے بھی پہلی بات لوٹا کر کہہ دیتا۔ اسی طرح سب اس کا مال ہضم کر جاتے اور سوداگر کو لوٹ کھسوٹ کر بھگا دیتے۔
اسی کتاب میں یہ عجیب قصہ بھی نقل کیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور سارہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ حضرت لوط کی عافیت و خبر معلوم کرنے کیلئے اپنی خانہ زاد الیعرز دمشقی کو سدوم بھیجا، یہ جب بستی کے قریب پہنچا تو اجنبی سمجھ کر ایک سدومی نے اس کے سر پر پتھر کھینچ مارا، الیعرز کے سر سے خون جار ی ہوگیا۔ تب آگے بھڑکر سدومی کہنے لگا کہ میرے پتھر کی وجہ سے یہ تیرا سر سرخ ہوا ہے ،لہٰذا مجھے اس کا معاوضہ ادا کر، اور اس مطالبہ کیلئے کھینچتا ہوا سدوم کی عدالت میں لے گیا۔ حاکم سدوم نے مدعی کا بیان سن کر کہا کہ بیشک الیعرز کو سدومی کے پتھر مارنے کی اجرت دینی چاہیے، الیعرز یہ سن کر غصہ میں آگیا اور ایک پتھر اٹھا کر حاکم کے سر پر دے مارااور کہنے لگا کہ میرے پتھر مارنے کی جو اجرت ہے وہ تو اس سدومی کو دے دینا اور یہ کہہ کر وہاں سے بھاگ گیا۔
یہ واقعات صحیح ہوں یا غلط لیکن ان سے یہ روشنی ضرور پڑتی ہے کہ اہل سدوم اس قدر ظلم، فحش ، بے حیائی ، بد اخلاقی اور فسق و فجور میں متلا تھے کہ اس زمانہ کی قوموں میں ان کی جانب اس قسم کے واقعات منسوب کیے جاتے تھے۔
حضرت لوط اور تبلیغ حق:
ان حالات میں حضرت لوط ؑ نے ان کو ان کی بے حیائی اور خباثتوں پر ملامت کی اور شرافت و طہارت کی زندگی کی رغبت دلائی، ا ور حسن خطابت، لطافت اور نرمی کے ساتھ جو ممکن طریقے سمجھانے کے ہو سکتے تھے ان کو سمجھایا اور موعظت و نصیحت کی اور گزشتہ اقوام کی بد اعمالیوں کے نتائج و ثمرات بتا کر عبرت دلائی، مگر ان بدبختوں پر مطلق اثر نہ پڑا، بلکہ اس کایہ الٹا اثر ہوا کہ کہنے لگے۔
ترجمہ: لوط کی قوم کا جواب اس کے سوائے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے ان کو اپنے شہر سے نکا ل دو یہ بیشک بہت ہی پاک لوگ ہیں۔ (اعراف)
’’بیشک یہ پاک لوگ ہیں‘‘ قوم لو ط کا یہ مذاقیہ فقرہ تھا، گویا حضرت لوط ؑ اور ان کے خاندان پر طنز کرتے اور انکا ٹھٹھا اڑاتے تھے کہ بڑے پاکباز ہیں ان کا ہماری بستی میں کیا کام، یا ناصح مشفق کی مربیانہ نصیحت سے غیظ و غضب میں آکر کہتے تھے کہ اگر ہم ناپاک اور بے حیا ہیں اور وہ بڑے پاکباز ہیں تو ان کا ہماری بستی میں کیا کام ،ان کو یہاں سے نکالو۔
حضرت لوط ؑ نے پھر ایک مرتبہ بھری محفل میں ان کو نصیحت کی اور فرمایا تم کو اتنا بھی احساس نہیں رہا ہے کہ یہ سمجھ سکو کہ مردوں کے ساتھ بے حیائی کا تعلق، لوٹ مار ، اور اسی قسم کی بد اخلاقلاقیاں بہت برے اعمال ہیں ،تم یہ سب کچھ کرتے ہو اور بھری محفلوں اورمجلسوں میں کرتے ہو اور شرمندہ ہونے کی بجائے بعد میں ان کا ذکر اس طرح سناتے ہو کہ گویا یہ کارنمایاں ہیں تم نے انجام دئیے ہیں۔
ترجمہ: کیا تم ہی وہ نہیں ہو کہ تم مردوں سے بد عملی کرتے، لوگوں کی راہ مارتے ہو اور اپنی مجلسوں میں اور اہل و عیال کے روبرو فواحش کرتے ہو۔ (عنکبوت)
قوم نے اس نصیحت کو سنا تو غم و غصہ سے تلملا اٹھی اور کہنے لگی: لوط! بس یہ نصیحتیں اور عبرتیں ختم کر ، اور اگر ہمارے ان اعمال سے تیرا خدا ناراض ہے تو وہ عذاب لا کر دکھا جس کا ذکر کر کے بار بار ہم کو ڈراتا ہے۔ اگر تو واقعی اپنے قول میں سچا ہے تو بس اب ہمارا تیرا فیصلہ ہو جانا ضروری ہے۔
ترجمہ: پس اس کی قوم کا جواب اس کے سوائے کچھ نہ تھا کہ وہ کہنے لگے تو ہمارے پاس اس کا عذاب لے آ اگر تو سچا ہے۔ (عنکبوت)
حضرت ابراہیم اور ملائکۃ اللہ:
ادھر یہ ہو رہا تھا اور دوسر ی جانب حضر ت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جنگل میں سیر کر رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ تین اشخاص سامنے کھڑے ہیں۔ حضرت ابراہیم نہایت متواضح اور مہمان نواز تھے اور ہمیشہ ان کا دستر خوان مہمانوں کیلئے وسیع تھا اس لیے ان تینوں کو دیکھا کہ وہ بیحد مسرور ہوئے اور ان کو اپنے گھر لے گئے اور بچھڑا ذبح کر کے کلچے بنائے اور ان کو بھون کر مہمانوں کے سامنے پیش کیا۔ مگر انہوں نے کھانے سے انکار کیا، یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھا کہ یہ کوئی دشمن ہیں جو حسب دستور کھانے سے انکار کر رہے ہیں اور کچھ خائف ہوئے کہ آخر یہ کون ہیں؟۔
مہمانوں نے جب حضرت ابراہیم کااضطراب دیکھا تو ان سے ہنس کر کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں ہم خدا کے فرشتے ہیں اور قوم لوط کی تباہی کے لیے بھیجے گئے ہیں اس لیے سدوم جارہے ہیں۔
جب حضرت ابراہیم کو اطمینان ہوگیا کہ یہ دشمن نہیں ہیں بلکہ ملائکۃ اللہ ہیں تو اب ان کی رقت قلب ، جذبہ ہمدردی اور محبت و شفقت کی فراوانی غالب آئی اور انہو ں نے قوم لوط کی جانب سے جھگڑنا شرو ع کر دیا اور فرمانے لگے کہ تم اس قوم کو کیسے برباد کرنے جارہے ہو جس میں لوط جیسا خدا کا برگزیدہ نبی موجود ہے، اور میرا برادر زادہ بھی ہے۔ اور ملت حنیف کا پیرو بھی۔ فرشتوں نے کہا، ہم یہ سب کچھ جانتے ہیں مگر خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ قوم لوط اپنی سرکشی، بد عملی، بے حیائی اور فواحش پر اصرار کی وجہ سے ضرور ہلاک کی جائے گی اور لوط اور اس کا خاندان اس عذاب سے محفوظ رہے گا، البتہ لوط کی بیوی قوم کی حمایت اور ان کی بداعمالیوں اور بد عقیدگیوں میں شرکت کی وجہ سے قوم لوط ہی کے ساتھ عذاب پائے گی۔
ترجمہ: پھر جب ابراہیم سےخوف جاتا رہا اور اس کو ہماری بشارت پہنچ گئی تو وہ ہم سے قوم لوط کے متعلق جھگڑنے لگا، بیشک ابراہیم ، بردبار ، غمخوار ، رحیم ہے، اے ابراہیم اس معاملہ میں نہ پڑ، بلاشبہ تیرے رب کا حکم آچکا ہے اور بلا شبہ ان پر عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکا۔ (ہود)
ترجمہ: ابراہیم نے کہا ’’اے خدا کے بھیجے ہوئے فرشتو تم کس لیے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم مجرم قوم کی جانب بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم ان پر پتھروں کی بارش کریں یہ نشان کر دیا گیا ہے تیرے رب کی جانب سے حد سے گزرنے والوں کیلئے۔ (الذیارات)
ترجمہ : اور جب ہمارے فرشتے ! ابراہیم کے بشارت لے کر آئے، کہنے لگے بیشک ہم ہلاک کرنے والے ہیں اس قریہ کے بسنے والوں کو بلاشبہ اس کے باشندے ظالم ہیں،، ابراہیم نے کہا کہ اس بستی میں تو لوط ہے۔ فرشتوں نے کہا ہمیں خوب معلوم ہے جو اس بستی میں آباد ہیں۔ہم البتہ لوط کو اور اس کے خاندان کو نجات دیں گے، مگر اس کی بی بی کو نہیں کہ وہ بھی بستی میں رہ جانے والوں کے ساتھ ہے۔ (عنکبوت)
غرض حضرت لوط کے ابلاغ حق ، امر بالمعروف، اور نہی عن المنکر کا قوم پر مطلق کچھ اثر نہ ہوا او ہ اپنی بد اخلاقیوں پر اسی طرح مصر رہی، حضرت لوطؑ نے یہاں تک غیرت دلائی کہ تم اس بات کو نہیں سوچتے کہ میں رات دن جو اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت و پیغام کیلئے تمہارے ساتھ حیران و سرگرداں ہوں کیا کبھی میں نے تم سے اس سعی و کوشش کا کوئی ثمرہ طلب کیا، کیا کوئی اجرت مانگی، کسی نذر و نیاز کا طلب ہوا؟ میرے پیش نظر تو تمہاری دینی و دنیوی سعادت و فلاح کے سوائے اور کچھ نہیں ہے۔ مگر تم ہو کہ مطلق توجہ نہیں کرتے۔
ترجمہ: جھٹلایا قوم لوط نے پیغمبروں کو جب کہ کہا ان کے بھائی لوط نے کیا تم نہیں ڈرتے، بیشک میں تمہارے لیے پیغامبر ہوں ، امانت والا ، پس اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو، اور میں تم سے اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر اللہ رب العالمین کے سوائے کسی کے پاس نہیں ہے۔(الشعراء)
مگر ان پر اس کا مطلق کوئی اثر نہیں ہوا او وہ حضرت لوط کو ’’اخراج ‘‘ اور سنگسازی کی دھمکیاں دیتے رہے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی اور ان کی سیہ بختی نے کسی طرح اخلاقی زندگی پر آمادہ نہ ہونے دیا۔ تب ان کو بھی وہی پیش آیا، جو خدا کے بنائے ہوئے قانون جزا کا یقینی اور حتمی فیصلہ ہے۔ یعنی بد کرداریوں پر اصرار کی سزا بربادی و ہلاکت۔ غرض ملائکۃ اللہ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس سے روانہ ہو کر سدوم پہنچے اور لوط علیہ السلام کے یہاں مہمان ہوئے یہ اپنی شکل و صورت میں حسین و خوبصورت اور عمر میں نوجوان لڑکوں کی حیثیت میں تھے، حضرت لوط نے ان مہمانوں کو دیکھا تو گھبرا گئے اور ڈرے کہ بد بخت قوم میرے ان مہمانوں کے ساتھ کیا معاملہ کریگی۔ کیونکہ ابھی تک ان کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ خدا کے پاک فرشتے ہیں۔
ابھی حضرت لوط اسی حیص بیص میں تھے کہ قوم کو خبر لگ گئی اور لوط علیہ السلام کے مکان پر چڑھ آئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ تم ان کو ہمارے حوالہ کرو ۔ حضرت لوط نے بہت سمجھایا اور کہا کیا تم میں کوئی بھی ’’رجل رشید‘‘ نہیں ہے کہ وہ انسانیت کو برتے اور حق کو سمجھے ؟۔ تم کیوں اس نعمت میں گرفتار ہو اور خواہشات نفس کے ایفا کیلئے فطری طریق عمل کو چھوڑ کر اور حلال طریقہ سے عورتوں کو رفیقہ حیات بنانے کی جگہ اس ملعون بے حیائی کے درپے ہو، اے کاش میں ’’رکن شدید‘‘ کی زبردست حمایت کو حاصل کر سکتا۔
حضرت لوط کی اس پریشانی کو دیکھ کر فرشتوں نے کہا ، آپ ہماری ظاہر صورتو ں کو دیکھ کر گھبرائیں نہیں ہم ملائکہ عذاب ہیں اور خدا کے قانون ’’جزائے اعمال‘‘ کا فیصلہ ان کے حق میں اٹل ہے۔ وہ اب ان کے سر سے ٹلنے والا نہیں۔آپ اور آپ کا خاندان عذاب سے محفوظ رہے گا۔ مگر آپ کی بیوی ان ہی بے حیائوں کی رفات میں رہے گی۔ اورتمہارا ساتھ نہ دے گی۔
آخر عذاب الٰہی کا وقت آپہنچا ابتداء شب ہوئی تو ملائکہ کے اشارہ پر حضرت لوط اپنے خاندان سمیت دوسری جانب سے نکل کر سدوم سے رخصت ہو گئے اور ان کی بیوی نے ان کی رفاقت سے انکار کر دیا اور راستہ ہی سے لوٹ کر سدوم واپس آگئی۔ آخر شب ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہہ و بالا کر دیا اور پھر آبادی کا تختہ اوپر اٹھا کر الٹ دیا گیا اور اوپر سے پتھروں کی بارش نے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا اور وہی ہوا جو گزشتہ قوموں کی نافرمانی اور سر کشی کا انجام ہو چکا ہے۔
ترجمہ: اور پھر جب ایسا ہوا کہ بھیجے ہوئے خاندان لوط کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا تم لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہو۔ انہوں نے کہا نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ ہم تمہارے پاس وہ بات لے کر آئے ہیں ، جس میں لو گ شک کیا کرتے تھے ۔ ہمارا آنا ایک امر حق کے لیے ہے اور ہم اپنے بیان میں سچے ہیں۔ پس چاہیے کہ کچھ رات رہے اور اپنے گھر وں کے لوگوں کو لے کر نکل جائو اور ان کے پیچھے قدم اٹھائو اور اس بات کا خیال رکھو کہ کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ جہاں جانے کا حکم دیا گیا ہے ، (اسی طرف رخ کیے چلے جائیں غرضیکہ ہم نے لوط پر حقیقت حال واضح کر دی کہ ہلاکت کا ظہور ہونے والا ہے اور باشندگان شہر کی بیخ و بنیاد صبح ہوتے ہوتے اکھڑے جانے والی ہے اور اس اثناء میں ایسا ہوا کہ ) شہر کے لوگ خوشیا ں مناتے ہوئے آپہنچے۔ لوط نے کہا دیکھو یہ میرے مہمان ہیں تم میری فضیحت نہ کرو، اللہ سے ڈرو ، تم میری رسوائی کے کیوں در پے ہو گئے ہو؟۔ انہوں نے کہا ،کیا ہم نے تجھے اس بات سے نہیں روک دیا تھا کہ کسی قوم کا آدمی ہو، لیکن اپنے یہاں نہ ٹھہرائو۔ لوط نے کہا اگر ایسا ہی ہے تو دیکھو یہ میری بیٹیاں ہیں ان کی طرف ملتفت ہو۔ تمہاری زندگی کی قسم ، یہ لوگ تو اپنی بد مستیوں میں کھوئے گئے ہیں۔ غرضیکہ سورج نکلتے نکلتے ایک ہولناک آواز نے انہیں آلیا۔ پس ہم نے وہ بستی زیرو زبر کر ڈالی اور پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی ان پر بارش کی بلاشبہ اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں جو پہچان رکھنے والے ہیں۔ (الحجر)
ترجمہ: اور پھر جب ایسا ہوا کہ ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کے آنے سے خوش نہ ہوا اور ان کی موجودگی نے اسے پریشان کر دیا۔ وہ بولا آج کا دن تو بڑی مصیبت کا دن ہے۔ اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے وہ پہلے سے برے کاموں کے عادی ہورہے تھے۔ لوط نے ان سے کہا لوگو! یہ میری بیٹیاں ہیں ۔ یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں۔ پس اللہ سے ڈرو میرے مہمانوں کے معاملہ مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں؟۔ ان لوگوں نے کہا تجھے معلوم ہو چکا ہے کہ تیری ان بیٹیوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں اور تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم کیا کرناچاہتے ہیں۔ لوط نے کہا کاش تمہارے مقابلہ کی مجھے طاقت ہوتی یا کوئی اور سہارا ہوتا جس کا آسرا پکڑ سکتا۔ مہمانوں نے کہا اے لوط ! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ یہ لوگ کبھی تجھ پر قابو نہ پاسکیں گے تو یوں کر کہ جب رات کا ایک حصہ گزر جائے تو اپنے گھر کے آدمیوں کو ساتھ لے کر نکل چل اور تم میں سے کوئی ادھر ادھر نہ دیکھے۔ مگر ہاں تیری بیوی ،جو کچھ ان لوگوں پر گزرتا ہے وہ اس پر بھی گزرے گا۔ ان لوگوں کے لیے عذاب کا مقررہ وقت صبح کا ہے۔ اور صبح کے آنے میں کچھ دیر نہیں۔ پھر جب ہماری بات کا وقت آپہنچا تو ہم نے اس کی تمام بلندیاں پستی میں بدل دیں اور اس پر آگ میں پکے ہوئے پتھر لگا تار برسائے تاکہ تیرے پروردگار کے حضور نشانی کیے ہوئے تھے۔ یہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔ (ہود)
ترجمہ : پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کوسب کو مگر ایک بڑھیا رہ گئی رہنے والوں میں۔ پھر اٹھا مارا ہم نے ان دوسروں کو اور برسایا ان پر ایک برسائو۔ سو کیا بُرابر سائو تھا ان ڈرائے ہوئوں کا، البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں تھے ماننے والے۔ اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا۔ (الشعراء)
ترجمہ: اللہ نے بتائی ایک مثال منکروں کے واسطے عورت نوح کی اور عورت لوط کی ، گھر میں تھیں دونوں دو نیک بندوں کے ہمارے نیک بندوں میں سے۔ پھر انہوں نے ان سے خیانت کی پھرو ہ کام نہ آئے ان کے اللہ کے ہاتھ سے کچھ بھی اور حکم ہوا کہ چلی جائو دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ۔ (التحریم)

اپنا تبصرہ بھیجیں