islamic-studes

حضرت اسحق علیہ السلام

EjazNews

حضرت ابراہیم ؑکی عمر سو سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کوبشارت سنائی کہ سارہ کے بطن سے بھی تیرے ایک بیٹا ہوگا اس کا نام اسحق رکھنا۔
تورات میں لکھا ہے اورخدا نے ابراہام سے کہا تیری جورو سری جو ہے اس کو سری مت کہا کر بلکہ اس کا نام سرہ ہے اور میں اسے برکت دوں گا اور اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا یقینا میں اسے برکت دونگا کہ وہ قوموںکی ماں ہوگی اور ملکوں کے بادشاہ اس سے پیدا ہونگے۔ تب ابراہام منہ کے بل گرا اور ہنس کے دل میں کہا کہ کیا سو برس کے مردکو بیٹا پیدا ہو گا اور کیا سارہ جو نوے برس کی ہے بیٹا جنیگی؟ اور ابراہم نے خدا سے کہا کہ کاش کہ اسمٰعیل تیرے حضور جیتا رہے۔ تب خدا نے کہا کہ بیشک تیری جورو سرہ تیرے لیے بیٹا جنیگی تو اس کا نام اضحق رکھنا۔
اور قرآن کریم میں ہے:
ترجمہ : اور بلاشبہ ہمارے ایلچی ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے، انہوں نے ابراہیم کو سلام کیا اور ابراہیم نے سلام کہا ، تھوڑی دیر کے بعد ابراہیم بچھڑے کا بھنا گوشت لایااور جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھتے تو ان کو اجنبی محسوس کیا اور ان سے خوف کھایا وہ کہنے لگے خوف نہ کرو، ہم لوط کی قوم پر بھیجے گئے ہیں اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی ہنس رہی تھی پس ہم نے اس کو اسحق کی اور اس کے بعد یعقوب کی بشارت دی۔ سارہ کہنے لگی۔ کیا میں نگوڑی بڑھیا جنوں گی اور جبکہ یہ ابراہیم میرا شوہر بھی بوڑھا ہے۔ واقعی یہ تو بہت عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا کیا تو خدا کے حکم پر تعجب کرتی ہے۔اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت و برکت ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہرطرح قابل حمد ہے اور بہت بزرگ ۔ (ہود)
ترجمہ: خوف نہ کھا اور بشارت دی اس کو ایک سمجھدار لڑکے کی پس آئی بی بی ابراہیم کی سخت بے چینی کا اظہار کرتی ہوئی پھر پیٹ لیا اس نے اپنا منہ اورکہنے لگی، بانجھ بڑھیا فرشتوں نے کہا تیرے پروردگار نے یہی کہا ہے، ایسا ہی ہوگا ، وہ دانا ہے حکمت والا ہے۔ (الذاریات )
ترجمہ: ابراہیم نے کہا بیشک مجھ کو تم سے خوف معلوم ہوتا ہے۔ فرشتوں نے کہا ہم سے نہ ڈر بلا شبہ ہم تجھ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی بشارت دینے آئے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کیا تم مجھ کو اس بڑھاپا آجانے پر بھی بشارت دیتے ہو ، یہ کیسی بشارت دے رہے ہو ؟۔ فرشتوں نے کہا ہم تجھ کو حق بات کی بشارت دے رہے ہیں، پس تو نا امید ہونے والوں میں سے نہ ہو، ابراہیم نے کہا اور نہیں نا امید ہوتے اپنے پروردگار کی رحمت سے مگر گمراہ۔ (ابراہیم)
ختنہ:
جب حضرت اسحق آٹھ دن کے ہوئے تو حضرت ابراہیم نے ان کی ختنہ کرادیں ۔
اسحق اصل تلفظ کے اعتبار سے ”یصحق“ ہے۔ یہ عبرانی لفظ ہے جس کا عربی ترجمہ”یضحک“ (ہنستا ہے) ہوتا ہے۔
خدا کے فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم کو سو برس اورحضرت سارہ کونوے سا ل کے سن میں بیٹا ہونے کی بشارت دی تھی تو حضرت ابراہیم نے اچنبھا سمجھا تھا اور حضرت سارہ کو یہ سن کر ہنسی آگئی تھی اس لیے ان کا یہ نام تجویز ہوا۔ یا اس لیے یہ نام رکھا گیا کہ ان کی پیدائش حضرت سارہ کی مسرت و شادمانی کا باعث ہوئی۔
عربی قاعدہ سے ”یضحق “ مضارع کا صیغہ ہے اہل عرب کا ہمیشہ سے ہی یہ دستور رہا ہے کہ وہ مضارع کے صیغوں کو بھی بطور نام کے استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ یعرب ،یملک جیسے نام عرب میں معروف ومشہور ہیں۔
اسحق علیہ السلام کی شادی:
قرآن عزیز میں اس کے متعلق کوئی ذکرنہیں ہے، البتہ تورات میں اس سلسلہ میں ایک طویل قصہ مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے خانہ زاد الیغرد مشقی سے فرمایا کہ میں یہ طے کرچکا ہوں کہ اسحق کی شادی فلسطین کے ان کنعانی خاندان میں ہرگز نہ کرونگا بلکہ میری یہ خواہش ہے کہ میں اپنے خاندان اورباپ دادا کی نسل میں اس کا رشتہ کروں اس لیے تو سازو سامان لے کر جا اور فدان آرام میں میرے بھتیجے بتو ئیل بن ناحور کو یہ پیغام دے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اسحق سے کردے۔ اگر وہ راضی ہو جائے تو اس سے یہ بھی کہہ دینا کہ میں اسحق کو اپنے پاس سے جدا کرنا نہیں چاہتا لہٰذا لڑکی کو تیرے ساتھ رخصت کر دے۔ الیعرز حضرت ابراہیم کے حکم کے مطابق فوراً آرام کو روانہ ہو گیا، جب آبادی کے قریب پہنچا تو اپنے اونٹ کو بٹھایا تاکہ حالات معلوم کرے۔ الیعرز نے جس جگہ اونٹ بٹھایا تھا اسی کے قریب حضرت ابراہیم کے بھائی بتوئیل کا خاندان آباد تھا۔ ابھی یہ اس میں مشغول تھا کہ سامنے ایک حسین لڑکی نظر آئی جو پانی کا گھڑا بھر کر مکان کو لیے جارہی تھی۔ الیعرز نے اس سے پانی مانگا، لڑکی نے اس کو بھی پانی پلایا اور اس کے اونٹ کو بھی اور پھر حال دریافت کیا ۔الیعرز نے بتوئیل کا پتہ دریافت کیا، لڑکی نے کہا کہ وہ میرے باپ ہیں اور الیعرز کو مہمان بنا کر لے گئی۔ مکان پر پہنچ کر اپنے بھائی لا بان کو اطلاع دی۔ لابان نے الیعرز کی بے حد مدارات کی اور آمد کی وجہ دریافت کی الیعرز نے حضرت ابراہیم کا پیغام سنایا۔ لابان کو اس پیغام سے بے حد مسرت ہوئی اور اس نے بہت سا سازو سامان دے کر اپنی بہن ”رفقہ “ کو الیعرز کے ہمراہ رخصت کردیا۔
حضر ت اسحق کی اولاد:
رفقہ سے حضرت اسحق کے توام دو لڑکے علی الترتیب عیسو اور یعقوب پیدا ہوئے اس وقت حضرت اسحق کی عمر ساٹھ سال کی تھی۔ اسحق علیہ السلام عیسو کو زیادہ چاہتے تھے اور رفقہ یعقوب سے زیادہ پیار رکھتی تھی۔ عیسو شکاری تھااوربوڑھے ماں باپ کو شکار کا گوشت لا کر دیتا تھااور یعقوب خیمہ ہی میں رہتا تھا۔
ایک روز عیسو تھکا ماندہ آیا اوریعقوب سے کہنے لگا میں ماندہ ہوں اور آج شکار بھی ہاتھ نہ آیا تو اپنے کھانے مسور اور لپسی میں سے مجھے بھی کچھ دے۔ یعقوب نے کہا کہ فلسطینیوں کا دستور ہے کہ میراث بڑے لڑکے کو ملتی ہے اس لئے باپ کا وارث تو ہوگا اگر تو اس حق سے دست بردار ہوجائے تو میں تجھ کو کھانا کھلاﺅں گا۔ عیسو نے کہا مجھے اس میراث کی کوئی پرواہ نہیں تو ہی وارث ہو جانا تب یعقوب نے عیسو کو کھانا کھلاایا۔
ایک مرتبہ حضرت اسحق نے (جبکہ بہت بوڑھے اور ضعیف البصر ہو گئے تھے) یہ چاہا کہ عیسو کو برکت دیں اور اس سے کہا کہ جا شکار کرکے لا اور عمدہ کھانا پکا کر میرے سامنے پیش کر، رفقہ نے یہ سنا تو دل سے چاہا کہ یہ برکت یعقوب کو ملے۔ فوراً یعقوب کو بلا کرکہا کہ جلدی عمدہ کھانا تیار کرکے باپ کے سامنے لیجا اور دعا ءبرکت کا طالب ہو۔ یعقوب نے نام بتائے بغیر ایسا ہی کیا اور اسحق سے دعا ءبرکت حاصل کرلی، جب عیسو آیا اور اس نے سب قصہ سنا تو انتہائی ناگواری محسوس کی اور یعقوب سے کینہ رکھنے لگا۔ تب رفقہ نے یعقوب کو رائے دی کہ وہ یہاں سے اپنے ماموں لابان کے پاس کچھ دنوںکے لیے چلا جائے۔ یعقوب ماموں کے یہاں پہنچا اور وہیں کچھ مدت گزاری اور یکے بعد دیگرے لابان کی دونوں لڑکیوں لئسہ اور راحیل سے شادی کر لی ۔ (یہ تورات کی روایتیں ہیں : پیدائش باب 24 )
یہ روایت اگرچہ اپنے مضامین کے اعتبار سے بہت زیادہ ناقابل اعتماد ہے اور اس میں جو اخلاقی زندگی پیش کی گئی ہے وہ تورات کی دوسری محف روایات کی طرح انبیاءعلیہم السلام اور ان کے خاندان کے شایان شان بھی نہیں ہے۔ مگر اس سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام کی شادی ان کے ماموں کے یہاں ہوئی اور وہ ایک عرصہ تک ان کے پاس رہے۔
اور عیسو بھاگ کر اپنے چچا اسمٰعیل علیہ السلام کے پاس چلے گئے اور وہاں ان کی صاحبزادی بشامہ یا باسمہ یا محلاة (جو بھی نام صحیح ہو ) سے شادی کرلی اوران کے علاوہ بھی شادیاں کیں اور اپنے خاندان کو لے کر سعیر (یا ساعیر) کو اپنا وطن بنا لیا اور یہاں ادوم کے نام سے مشہور ہوئے اور اس لیے ان کی نسل بنی ادوم کے نام سے مشہور ہوئی۔
حضرت ابراہیم اورحق الیقین کی طلب:
گزشتہ سطور میں چونکہ حضرت اسمٰعیل اور اسحق علیہما السلام کا ذکر آگیا تھا اس لیے ان سے متعلق واقعات کوتفصیل سے بیان کر دینا مناسب سمجھا گیا تاکہ واقعات کے تسلسل میں انتشار پیدا نہ ہو ، نیز یہ واقعات بھی درحقیقت حضرت ابراہیم ہی کی زندگی سے متعلق ہیں۔ اس لیے ان کا تذکرہ بے محل نہیں ہے۔ اب حضرت ابراہیم کے باقی حالات قابل توجہ ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حقائق کی جستجو اور طلب کا طبعی ذوق تھا۔ اور وہ ہر شے کی حقیقت تک پہنچنے کی سعی کو اپنی زندگی کا خاص مقصد سمجھتے تھے تاکہ ان کے ذریعہ ذات واحد اللہ جل جلالہ کی ہستی اس کی وحدانیت اور اس کی قدرت کاملہ کے متعلق علم الیقین کے بعد حق الیقین حاصل کریں۔
آزر ، جمہور اور نمرودکے ساتھ مناظروں میں ان کے اس طبی ذوق کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ اس لیے حضرت ابراہیم نے حیات بعد الممات یعنی مر جانے کے بعد جی اٹھنے کے متعلق خدائے تعالیٰ سے یہ سوال کیا کہ وہ کس طرح ایسا کریگا؟ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا اے ابراہیم ! کیا تم اس مسئلہ پر یقین و ایمان نہیں رکھتے ؟۔ ابراہیم علیہ السلام نے فوراً جواب دیا کیوں نہیں میں بلا توقف اس پر ایمان رکھتا ہوں لیکن میرایہ سوال ایمان ویقین کے خلاف اس لیے نہیں ہے کہ میں علم الیقین کے ساتھ ساتھ عین الیقین اور حق الیقین کا خواستگار ہوں، میری تمنا یہ ہے کہ تو مجھ کو آنکھوں سے مشاہدہ کرا دے کہ ”حیات بعد الممات“کی شکل کیا ہوگی۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا اگر تم کو اس کے مشاہدوں کی طلب ہے تو چند پرندے لو ، اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے سامنے والے پہاڑ پر ڈال دو اور پھر فاصلہ پر کھڑے ہو کر ان کوپکارو، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے ان کو آواز دی تو ان سب کے اجزا علیحدہ علیحدہ ہو کر فوراً اپنی اپنی شکل پر آگئے اور زندہ ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس اڑتے ہوئے چلے آئے۔
سورة بقرہ میں اس واقعہ اس معجزانہ بلاغت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:
ترجمہ: جب ابراہیم نے کہا، اے میرے پروردگار مجھے دکھلا تو کس طرح مردوں کو زندہ کر دے گا ، کہا کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ کہا کیوں نہیں لیکن دلی اطمینان چاہتا ہوں ، کہا پس چار پرندے پھر ان کو اپنے ساتھ مانوس کر پھر رکھ دے ہر ہر پہاڑ پر ان کے جز ءجزءڈال کر، پھر ان کوبلا وہ آئیں گے تیرے پاس دوڑتے ہوئے اور تو جان بیشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا۔ (البقرة)
سلف صالحین سے ان آیات کی تفسیر یہی ثابت ہے اور بعض روایات حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہیں اس لیے جن حضرات نے اس مسئلہ کی غرابت کے پیش نظر ان آیات میں طرح طرح کی تاویلات کرکے دوراز کار باتیں بیان کی ہیں وہ ناقابل التفات ہیں۔ ہم اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ جس طرح یہ راہ غلط ہے کہ ہر موقع پر اچنھبوں اور عجوبہ کاریوں کی داستان سرائی ہو اور رطب ویا بس روایات کے اعتماد پر بے اصل باتوں پر یقین کیا جائے اسی طرح یہ بھی گمراہی کی راہ ہے کہ انبیاءعلیہم السلام سے متعلق جن خوارق عادات (معجزات) کا ذکر نصوص قرآنی اور صحیح روایات سے معلو م ہو جائے ان کابھی اس لیے انکار کیا جائے یا باطل تاویلات گھڑی جائیں کہ مدعیان عقل و فلسفہ ہمارے اس یقین و علم پر ٹھٹھہ کریں گے اور اس کا مذاق اڑائینگے۔
بنی قطورہ:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ ایک اور شادی کی تھی ان بی بی کا نام قطورہ تھا۔ ان کے بطن سے ابراہیم علیہ السلام کے چھ بیٹے پیدا ہوئے ۔
تورات میں ہے اور ابراہم نے ایک اور جورو کی جس کا نام قتورہ تھا اور اس سے زمران ، یقسان، مدان، مدیان، یثباق اور شحا پیدا ہوئے اور یقسان سے صبا اور دوان پیدا ہوئے اور ان کے فرزند اسوری اور بطوسی اورلوی تھے اور مدیان کے فرزند عیفہ ، غفر ، خیوک ، ابیداع اور دعا تھے یہ سب بنی قطورہ تھے۔
مدین یا مدیان کی نسل نے اپنی آبادی اپنے باپ کے نام پر مدین کے نام سے بسائی اور یہ اصحاب مدین کہلائے اور حضرت ابراہیم کے پوتے و دان کی نسل اصحاب الایکہ کے نام سے مشہو ہوئی یہی اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ دوقومیں ہیں جن میں ہدایت و سعادت کی پیغامبری کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام کا ظہور ہوا۔ یہ قتادہ کی روایت اور بعض مورخین حاضر کی تحقیق ہے، اس کے خلاف حافظ ابن کثیر اصحاب مدین و ایکہ کو ایک ہی تسلیم کرتے ہیں اور یہی تحقیق راحج ہے۔ تفصیل حضرت شعیبؑ کے واقعہ میں آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں