Hazrat-Abdullah-Shah-Ghazi

سندھ میں اولیاءاللہ کے مزارات (۱)

EjazNews

یوں تو ملتان کو اولیاءاللہ کی سرزمین کہا جاتا ہے لیکن پاکستان کے ہر صوبے میں آپ کو مزارات ملیں گے۔ اور یہ اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ پاکستان وہ خطہ ہے جس نے صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سموئی ہوئی ہے۔ سندھ نے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کو دیکھا ہے۔ یا یوں کہیے کہ سندھ کی تہذیب نے ہر تہذیب کو دیکھا تو زیادہ بہتر ہو گا۔
زیر نظر مضمون میں ہم سندھ میں اولیاءاللہ کے مزارات کا ذکر کریںگے ۔اگر ہم تفصیل سے ذکر کریں تو شاید ہر ایک بزرگ پر اتنا مواد موجود ہے کہ ویب سائٹ پر کئی کئی دن صرف ایک ہی بزرگ کی کرامات لکھی جاسکتی ہیں لیکن ہم اختصار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کوشش کریں گے کہ کم الفاظ میں زیادہ چیزوں کا احاطہ کر سکیں۔ اس سلسلہ کا پہلا حصہ قارئین کیلئے پیش کیا جارہا ہے۔
عبداللہ شاہ غازی:
سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ساحل سمندر کے کنارے، نئے اور پرانے کلفٹن کے درمیان ایک بلندو بالا سنگلاخ پہاڑی ٹیلے پر سفید دھاریوں والے سبز گنبد کانظارہ دور سے کیا جاسکتا ہے۔ گنبد جس پر سبز رنگ کے پرچم سمندری ہوا کے جھونکوں سے لہراتے رہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے ایک انتہائی قدیم بزرگ اور ولی اللہ حضرت باباعبداللہ شاہ غازی رحمت اللہ علیہ کی آخری آرام گاہ پر بناہوا ہے۔ یہ سبزگنبد جوگزشتہ کئی صدیوں سے کراچی کی بندرگاہ پر آنے والے جہازوں کے لئے نشان منزل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، پاکستان اور بیرون پاکستان لاکھوں عقیدت مندوں کے لئے روحانی سکون حاصل کرنے کی منزل کا بھی نشان رہا ہے۔
حضرت بابا عبداللہ شاہ غازی کی شخصیت، ان کی زندگی کے حالات اور ان کی شہادت کے واقعات پر مورخین اور محققین کے مابین صدیوں سے اختلاف چلا آرہا ہے،ان کے بارے میں عالمانہ مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔ مورخ،مذہبی علما اور ان کے معتقدین، ان تینوں حلقوں میں ان کے بارے میں مختلف آراءپائی جاتی ہیں۔
باباعبداللہ شاہ غازی کے زندگی کے حقائق کچھ بھی ہوں ان کا مزار اور مقبرہ کراچی کی اپنی صد سالہ تاریخ سے کہیں زیادہ پرانا ہے۔ جہاں روزانہ ہزاروں معتقدین فاتحہ خوانی کے لئے حاضری دیتے ہیں۔ بابا عبداللہ شاہ غازی کا سالا نہ عرس کراچی کی بڑی اور اہم عرس کی تقریبات میں سرفہرست ہے جس میں لاکھوں زائرین کے علاوہ علماءصوفیائ، فقراءاورقلندروں کی بڑی تعداد اور ملک بھر سے چوٹی کے قوال آ تے ہیں۔
یہ مزار جس پہاڑی ٹیلے پر واقع ہے اس ٹیلے کا سراغ سکندر اعظم کی برصغیر سے واپسی کے سفر کی رودادوں میں بھی موجود ہے۔ عباسی حکومت کے اول دور میں جب بابا عبداللہ شاہ غازی کو اس ٹیلے کی چوٹی پر دفن کیا گیا تو یہ جگہ زیارت گاہ خاص و عام ہوگئی۔ اس پہاڑی پر باباجی کے مزار کے نیچے ایک پتھر کے غار میں پانی کا چشمہ بہتا ہے جس کو کرامتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حاجی ترابی:
اگر آپ کراچی سے مکلی اورٹھٹھہ جائیں تو لگ بھگ باون میل آگے جا کر آپ کو سڑک کے دائیں کنارے کوئی دو فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گنبد نظر آئے گا۔ جہاں سے دائیں ہاتھ کلری سے کراچی تک پینے کا پانی پہنچانے والی نہر جام کمال کی بند روڈ تقر یباًدو میل واپس آناپڑے گا۔ حاجی ترابی کا مقبرہ ایک ٹیلے پرواقع قدیم تاریخی قبرستان میں واقع ہے۔
حاجی تر ابی ایک تابعی بزرگ تھے۔ ان کا اصلی نام حما بن حفیص تھا۔ وہ بنو عباس کے دور خلافت میں سندھ آئے اور ماکرو کے علاقے کوفتح کیا اور اس علاقے کے گورنر مقرر ہوئے۔ بعد میں وہ اسی علاقے میں آباد ہوگئے اور ایک سو سال سے زیادہ عمر پا کر انتقال کیا۔ حاجی ترابی ایک صاحب کرامات بزرگ تھے۔ وہ نہ صرف محدث تھے بلکہ ان کا شمار اولیاءاللہ میں بھی کیا جاتا ہے۔ جس قبرستان میں وہ مدفون ہوئے۔ اس میں شہیدوں کے بہت سے مزارات ہیں۔ انہوں نے خلیفہ ہارون الرشید کی تخت نشینی کے ایام میں انتقال کیا۔ ان کے مزار کی محراب میں مقبرے کا سن تعمیر71ہجری درج ہے۔ تاریخی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ موجودہ مقبرہ برصغیر میں کسی بھی معروف مسلمان بزرگ کا سب سے قدیم مقبرہ ہے۔
حاجی ترابی کے معتقدوں کی بڑی تعداد آج بھی موجود ہے۔ سالانہ عرس کے موقع پر ہزاروں زائرین دور دراز سے سفر کر کے مقبرے پر حاضری دیتے ہیں اور عرس کا میلہ کئی دن جاری رہتا ہے۔
جہاں حاجی ترابی کا مقبرہ ہے اس کے پاس ہی وادی سندھ کی قدیم ترین تہذیب کے ایک اہم مرکز تھرٹی کے کھنڈرات بھی موجود ہیں۔بھنبور کی تباہی کے بعد اس کی آبادی اس قدیم شہر میں منتقل ہوگئی اور اس علاقے میں یکے بعد دیگرے رسول آباداورمحمدطورنام کی بستیاں آباد ہوئیں۔ تھرڑی کے آثار آج بھی موجود ہیں، جب آپ کے مزار اور دیگر شہداءکی قبروں پر فاتح پڑھ لیں تو مقامی لوگوں سے حاجی ترابی کی کشتی کے بارے میں دریافت کریں۔ ان کے مزار سے تقریبا چار کلومیٹر دور ایک نشیبی میدان میں جو دراصل دریائے سندھ کی ایک پرانی گزرگاہ تھی، ایک پہاڑی ہے جو دور سے دیکھنے میں بحری جہاز کی شکل میں نظر آتی ہے۔ مقامی روایت کے مطابق یہ بحری جہاز بحری قزاقوں کا تھا جو مقامی آبادیوں میں لوٹ مار کرتے تھے۔ ایک بارلوٹ مار کرنے آئے تو مقامی لوگوں نے حاجی ترابی سے فریاد کی۔ انہوں نے بحری قزاقوں کو بددعا دی جس کے نتیجے میں ان کا جہاز اور وہ خود پتھر میں تبدیل ہو گئے۔
حاجی ترابی کی کشتی کے آس پاس کے میدان میں اب بھی ایسی چھوٹی چھوٹی پہاڑی چٹانیں موجود ہیں جو انسانی شکلوں کی ہیں اور ان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ لوگ سخت تکلیف کے عالم میں چیختے ہوئے مر گئے ہوں۔
مکلی:
جب آپ حاجی ترابی کے مقبرے پر حاضری دے چلیں اور قومی شاہراہ پر مزید بار میل سفر کریں تو آپ مکلی پہنچ جائیں گے۔ مکلی ساری دنیا میں اس لیے مشہور ہے کہ یہاں دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔ ایک ایسا قبرستان جوتقریبا چھ میل لمبا ہے اور جس میں لگ بھگ چھ لاکھ افراد فون ہیں۔
مکلی کا قبرستان نہ صرف قدیم مسلم سندھ کی تہذیب عظمت، شوکت اور فن تعمیر بلکہ ٹھٹھہ کی عظمت دیرینہ کا بھی آئینہ دار ہے۔
اس قبرستان میں مدفون ایسے لوگوں کی تعداد جن کا ذکر سندھ کی تاریخ عالم اسلام کے علماءکی فہرست اور برصغیر میں مسلمان حکمرانوں اور ان کے امراءکے تذکروں میں موجود ہے، مکلی کے قبرستان کوصحیح معنوں میں مسلمانوں کے مذہب ، تہذیب وثقافت علم وادب فلسفہ و حکمت، سیاست اور فنون لطیفہ کے ماہروں کے ناموں کا خزانہ کہا جاسکتا ہے جو سینکڑوں سال سے اپنی اپنی قبروں میں محو آرام ہیں۔ اس قبرستان میں محمد بن قاسم کے دور سے لے کر دور جدید تک کے نامور مدفون ہیں۔
مکلی کے قبرستان میں کئی معروف بزرگان دین اور اولیاءاللہ کے مزارات بھی ہیں۔ ان میں حضرت عبد اللہ اصحاب اور حضرت علی شیرازی کے اسمائے گرامی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
عبداللہ اصحابی:
حضرت عبداللہ اصحابی پیران پیر کاٹھیا وارحضرت غوث اعظم کے نواسے بتائے جاتے ہیں۔ وہ شاہ حسن بیگ ارغون کے دارالحکومت 928ھ بمطابق 1522ءگجرات سے ہجرت کر کے سندھ آئے۔ ان کا مقبرہ 1633ءکے دوران تعمیر ہوا تھا۔ آج بھی مرجع خلائق ہے۔ یہاں صبح سے شام تک زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ شعبان المعظم کے مبارک مہینے میں شب برات کو سالا نہ عرس منعقد ہوتا ہے جو دو دن جاری رہتا ہے۔
سیدعلی شیرازی:
اگر آپ مکلی کے آخری حصے میں واقع جام نظام الدین کے خوبصورت مقبرے کے پاس کھڑے ہوکرشمال مشرق کے رخ دیکھیں تو سفید رنگ کا ایک خوبصورت مقبرہ نظر آئے گا۔ یہ قبر ٹھٹہ کے ایک اور ولی اللہ سیدعلی شیرازی کی آخری آرام گاہ ہے۔
سیدعلی شیرازی کا تعلق سید بزرگوں کے ایک مشہور خاندان سے تھا۔ سید صاحب کی بے شمار کرامات مشہور ہیں اور ان کے مقبرے بھی زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔
پیر پٹھودیبل
پیر پٹھوجن کا اصلی نام حسین بن راجپر تھا، سندھ کے ان بزرگ ولیوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی ہندو اور مسلمان دونوں مذہبوں کے ماننے والے یکساں عزت و تکریم کرتے ہیں۔ پیر پٹھوکا مزار ٹھٹھہ کے پاس دریائے سندھ کی قدیم گزرگاہ کے کنارے واقع اسی نام کی پہاڑی کے دامن میں ہے۔ پیر پٹھوکا انتقال1248ءکے دوران ہوا۔ ان کے مزار کے پاس ایک قدیم مسجد آج بھی موجود ہے۔ جس کی تعمیر547 ہجری بمطابق 1152ءدرج ہے۔ پیر پٹھو حضرت مخدوم بہاو¿الدین زکریا ملتانی کے مرید تھے۔ مخدوم بہاو¿ الدین زکریا ملتانی نے پیر پٹھوکوسندھ کے دورے میں خود تلاش کر کے اپنا مرید بنایا تھا۔
پیر پٹھو کا انتقال 1228ءمیں ہوا۔ ان کا سالانہ عرس ربیع الاول کو منعقد ہوتا ہے۔ جس میں پورے پاکستان سے ان کے معتقدین شرکت کرتے ہیں۔ پیر پٹھو کے مزار پران کی بعض یادگاریں اب تک محفوظ ہیں جن میں ان کا عصائ، دستار اور ایک قدیم زمانے کی گھنٹیقابل ذکر ہیں۔
شاہ جمیل داتا ر گرناری:
پیر پٹھو کے مقبرے کے پاس ہی شاہ جمیل داتارکا مزار ہے۔ شاہ جمیل حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولا دا مجاد میں شمار ہوتے ہیں ۔وہ سورت، گجرات کے رہنے والے تھے اور وہ پیر پٹھو کے بلانے پر اپنا وطن چھوڑ کر ان کے پاس آگئے اور یہیں آباد ہو گئے۔ ان کی شادی سلطان محمودغزنوی کی صاحبزادی امانت بی بی سے ہوئی۔ شاہ جمیل داتار کی کرامتیں اور روحانی فیض کی بے شمار داستانیں مشہور ہیں۔
شاہ عنایت:
شاہ عنایت ایک صوفی بزرگ تھے۔ جن کی سندھ میں بڑی عزت و عظمت ہے۔ ان کو سرتاج صوفیاءاور سردار عاشقاں کے خطابوں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ شاہ عنایت 1660ءمیں جھوک شریف کے پاس ایک گاو¿ں میراں پور میں پیدا ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی تعلیم وتربیت حضرت پیران پیر دستگیر غوث اعظم کے پڑپوتے خواب عبدالمالک نے کی تھی۔ خواجہ عبدالمالک بنگال کے شہر برہان پور میں رہتے تھے۔ شاہ عنایت پانچ سال تک خواجہ صاحب کے تعلیم رہے۔
شاہ مرادشاہ شیرازی:
شاہ مرادشاہ شیرازی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پیدائشی حافظ قرآن تھے۔ کراچی اور ٹھٹھہ کے نواح میں رہنے والے جوکھیہ قبیلے کے افراد ان کے معتقد ہیں ۔ٹھٹھہ میں انکے نام پر شاہ مرادوشوگرملز قائم کی گئی ہے۔ چاند کی چودہ تاریخ کو ان کے مزار پر جمع ہوکر فاتح پڑھتے ہیں۔
مائی مکلی:
مائی مکلی وہ خاتون ہیں جن کے نام پر مکلی کا قبرستان مشہور ہے۔ مائی مکلی ایک عمر رسیدہ اور بزرگ خاتون تھیں۔ ان کے انتقال کے بعد ان کو مکلی کی مسجد کی محراب کے زیر سایہ مدفون کیا گیا اور اسی وجہ سے یہ پہاڑی جس پر قبرستان واقع ہے۔ مائی مکلی کی پہاڑی کہلائی۔ مائی مکلی جس مسجد میں دفن ہیں۔
مخدوم ہاشم ٹھٹھوی:
سندھ کے مشہور عالم مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی کا مزار کلکٹر آفس کے عقب میں واقع ہے۔ مخدوم ہاشم گیارہویں صدی ہجری کے بزرگ ہیں۔ ان کے مزار کے پاس ہی ایک مسجد ہے جس کے احاطے میں مخدوم ابوالقاسم اور مخدوم معین جیسے بزرگ مدفون ہیں۔ اس احاطے میں تحریک آزادی کے نامور مجاہد اور سیاسی رہنما عبدالمجید سندھی بھی دفن ہیں۔
مخدوم محمد ہاشم اپنے وقت کے بلند پایہ عالم و فاضل تھے۔ انہوں نے مذہبی موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی بعض کتابیں آج تک قاہرہ کی جامع الازہر کے نصاب میں شامل ہیں۔
شاہ عقیق:
ٹھٹھہ کے تعلقہ شاہ بندر میں قصبہ لا ڑیوں کے پاس شاہ عقیق کا مزار ہے۔ شاہ عقیق باکرامت بزرگ تھے۔ کہاجاتا ہے کہ پیچیدہ امراض میں مبتلا لوگ ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں اور اس وقت تک مزار کے قرب و جوار میں مقیم رہتے ہیں، جب تک صحت یاب نہ ہو جائیں۔ اس مقصد کی خاطر شاہ عقیق کے مزار کے آس پاس متعدد مسافرخانے موجود ہیں۔
شاہ عقیق کے مزار پر ہر جمعرات کی شب فاتحہ خوانی ہوتی ہے۔ اس موقعہ پر وہاں اچھے خاصے میلے کا سماں پیدا ہو جاتا ہے جس میں کراچی بھی اور قرب و جوار کے ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں