corona

حکومتی کارکردگی :جسٹس گلزار احمد خاں کا از خود نوٹس

EjazNews

ملک بھرمیں کرونا وائرس ہر روز بڑھتا ہی جارہاہے وزیراعظم نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائرس کا پھیلاﺅ بد احتیاطی کی وجہ سے بڑھ سکتا ہے۔ حکومتی جو ریلیف فنڈ دے رہی ہے وہ بھی تین ماہ کیلئے ہے یعنی ہر ماہ کیلئے چار ہزار روپے ۔
ملک بھر میں لاک ڈان بھی جاری ہے۔ 26فروری کو ملک میں پہلا کیس سامنے آیا تھا ۔ سندھ کی حکومت نے سب سے پہلے لاک ڈاﺅن کیا اور صوبے میں کیسز پر بڑی حد تک قابو پا لیا ۔ اور45دن گزرنے تک کیسز کی تعداد 4687ہو چکی ہے۔اور 66اموات ریکارڈ ہو چکی ہیں۔ جن علاقوں میں کیسز سامنے آرہے ہیں ان کو سیز بھی کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم اپنی مختلف تقاریر میں کہہ چکے ہیں کہ اگر لوگوں پر کرفیو لگا دیا گیا تو یہ نہ ہو لوگ بھوک سے مرجائیں ، کرونا سے کچھ ہو یا نہ ہو۔
حکومت ٹائیگر فورس بھی بنا رہی ہے اور وزیراعظم فنڈ بھی جمع ہو رہا ہے۔ احساس پروگرام بھی چل رہا ہے۔
آج رپورٹ ہونے والے نئے کیسز پر نظر ڈالیں تو اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آئے۔
اگر ہم سے بڑی طاقتوں کی جانب نظر دوڑائی جائے جن کے پاس وسائل بھی بہت زیادہ ہیں اور وہ صحت کے شعبے میں ہم سے بہت آگے ہیں ہم توان صحت کی سہولیات کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے جہاں پر وہ پہنچ چکے ہیں۔
اللہ کے حضور معافیاں مانگ کر اور احتیاطی تدابیر اپنا کر ہی اس وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پنجاب وہ صوبہ ہے جس میں کیسز کی تعداد 2279ہو چکی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی نظر آرہی ہے کہ پنجاب میںایڈمنسٹریشن کمزورہے۔ لوگ سڑکوں پربھی آپ کو پھرتے نظر آئیں گے۔ اور دکانوں کے باہر بیٹھ کر تمام اشیاءفروخت کرتے لوگ بھی آ پ کو آسانی سے مل جائیں گے۔
اگر پنجاب کی سڑکوں کی جانب دیکھا جائے تو شام پانچ بجے سے پہلے تک یہاں پر گاڑیاں آپ کو کافی تعداد میں نظر آتی ہیں۔ آفسز کے باہر کھڑی بھی اور روڈوں پر چلتی ہوئی بھی۔ بغیر ضرورت کے کھڑے لوگ آپ کو ہر جگہ نظر آتے ہیں شاید ایک وجہ یہاں کیسز کے بڑھنے کی یہ بھی ہو سکتی ہے۔
جسٹس گلزار احمد خان نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ناکافی سہولتوں پر از خود نوٹس لے لیا ہے، جسٹس گلزار احمد کا چیف جسٹس پاکستان بننے کےب عد یہ پہلا از خود نوٹس ہے۔ کرونا وائر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت 13اپریل کو ہوگی، چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ چیف جسٹس نے اس سلسلے میں اٹارنی جنرل ، سیکرٹری صحت اور داخلہ ، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور چیف سیکرٹریز کو نوٹس جاری کر دئیے جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد اورچیف سیکرٹری گلگت بلتستان کوب ھی نوٹس جاری کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں