جن_بندر_اور_ملکہ

انسان سے بندر

EjazNews

اچانک ایک پہاڑ پر اس جن نے مجھے اتارا اور کچھ پڑھ کر مجھے انسان سے بندر بنا دیا اور خود وہاں سے غائب ہو گیا۔ میں بندر کے روپ میں پہاڑ پر سے اترا اور نیچے آیا تو خود کو ایک بہت بڑے سمندر کے کنارے پایا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ دور سے ایک جہاز آتا دکھائی دیا۔ میںدرخت پر چڑھ گیا اور ایک شاخ توڑ کر پھر کنارے پر آکر کھڑا ہوگیا۔ جب دیکھا کہ جہاز بالکل سامنے ہے تو شاخ کو ہلا کر جہاز والوں کی طرف اشارہ کیا کہ ادھر آﺅ اورمجھے مصیبت سے بچاﺅ۔
جب جہاز قریب آیا تو سوداگر ، جہاز کے کپتان پر بہت جھلایا کہ تو محض ایک بندر کے لیے جہاز کو اس طرف لایا، سیدھا راستہ چھوڑ کر یہ ڈھرا لیا ۔ خدا اس منحوس صورت بندر سے سب کو بچائے۔
جہاز والوں میں سے ایک نے کہا گھبرائیے نہیں۔ ابھی ایک ہی تیر میں اس کا کام تمام کرتا ہوں۔
دوسرا بولا ، ٹھہرو! میں ابھی گولی سر کرتا ہوں۔ یہ سن کر میں تھر ا اٹھا کہ مفت میںمارا جاتا ہوں۔ مگر خدا کار ساز ہے۔ میں جرات کر کے جہاز پر کود گیا اور سوداگر کے قدموں پر گر پڑا۔ زبان حال سے سر گزشت کہہ سنائی۔ اشاروں سے مطلب سمجھایا۔ زبان تک نہ ہلائی۔
تمام جہازوالوںکو حیرت تھی کہ یہ عجیب و غریب بندر ہے ! عقل اس کی حرکات دیکھ کر ششدر ہے۔ پھر بڑے تاجر نے کہا گو جہاز پر بندر کا رکھنا دور اندیشی نہیں ہے مگر مجھے اس پر بڑا رحم آیا ہے میں اس کو ضرور امان دوں گا اور ساتھ لے جاﺅں گا۔
میں ان سب کی باتیں سمجھتا تھا مگر کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ ہاں جب کوئی اچھی بات سنتا تو داد دیتا۔ اور گردن ہلاتا۔ وہ حیران و پریشان تھے کہ یہ کیسا بندر ہے! عجیب وغریب جانور ہے۔
القصہ، ایک ماہ اور بیس دن جہاز اسی طرح چلا اور میں جہاز والوں کے ساتھ کھیلا کیا۔ اس کے بعد جہاز ایک بڑی بندرگاہ کے کنارے آن لگا اور وہاں لنگر انداز ہوا۔ لوگ اترے، شہر کو گئے اور شہر والے بھی خریدے و فروخت کے لیے آنے لگے۔ اتنے میں ایک شخص جہاز پر آیا ، بادشاہ کی طرف سے سوداگر کو پیغام دیا اور کہا کہ تعلیم کی یہ وصلیاں (تختیاں) جو میں اپنے ساتھ لایا ہوں، یہ ہمارے ملک کے مرحوم وزیر کی لکھی ہیں۔ وہ بہت بڑا خوش نویس تھا۔ بادشاہ نے قسم کھائی ہے کہ جب تک ویسا ہی خوش نویس نہ ملے گا کسی کو اپنا وزیر مقرر نہ کروں گا۔ اگر تم میں سے کوئی ایسا ہی خوش نویس بے بدل ہو تو قسمت آزمائی کرلے اور عزت پائے۔
ان سوداگروں میں سے چند آدمیوں نے جن کو دعویٰ تھا، بیڑا اٹھایا کہ ہم خط سے خط ملا دیں گے۔ ایسی ہی وصلی (تختی) لکھ کر دکھا دیں گے۔ ہر ایک نے ایک ایک سطر لکھی۔ مگر وزیر کے خط سے کسی کا خط لگا نہ لکھا۔ میںبھی دور سے تماشا دیکھ رہاتھا اور چپ چاپ بیٹھاتھا۔ جب وہ سب ہار گئے تو میں نے بھی جی کڑا کر کے وصلی لینے کا ارادہ کیا، مگر ان کے دل میں یہ خیال گزرا کہ کہیں وصلی کو پہاڑ نہ ڈالے۔ بندر کا بھلا کون اعتبار مانے۔ لوگوں نے نفرت سے مجھے جھڑک دیا۔ میں نے اشارہ کیاکہ مجھے دو۔ میں بھی قسمت آزمائی کروں اور ایک سطر اپنے ہاتھ سے لکھوں۔ اس شخص نے کہا اچھا! اس بندر کو بھی ارمان نکالنے دو۔ اگر اس نے وصلی پھاڑ ڈالی تو بے بھاﺅ کی مار کھائے گا اور اگر لکھ دے گا تو اپنا بیٹا بناﺅں گا۔ اس قول سے ہرگز نہ پھروں گا۔

قصہ دو قلندروں کا

اس شخص نے وصلی دے دی اور میں نے بخوشی لے لی۔ دوات قلم لے کر سات سطریں سات قسم کی تحریر کیں۔ جس نے میرا لکھا دیکھا، پھڑک اٹھا کہ وزیر کی تحریر مات ہے۔ اس خط کی کیا بات ہے!۔
جب بادشاہ کے اہل کار نے میری تحریر دیکھی تو عش عش کر نے لگا۔ باربار کہتا تھا کہ یا الٰہی یہ خواب ہے یا عالم بیداری ! سوچا کہ بادشاہ سلامت ہر گز یقین نہ کریں گے۔ اہل دربار مذاق اڑائیں گے پھر سوچاکیا پرواہ ہے بندر تو موجود ہے لے جا کر حاضر کردوں گا اور پھر سب کے سامنے لکھوا دوں گا۔
اس نے میری لکھی ہوئی وصلی بحضور سلطان پیش کی۔ بادشاہ کو بے حد پسند آئی اور خوش ہو کر کہا واقعی یہ بے بدل استاد ہے۔ میں نے قسم کھائی تھی کہ جب تک ایسا خوش نویس نہ پاﺅں گا۔ ہر گز وزیراعظم مقرر نہ فرماﺅں گا۔ شکر خدا کہ میری عزت رہ گئی اوربات بن آئی، ورنہ سوچتا رہتا تھا کہ میں نے ناحق قسم کھائی۔ پھر حاضرین کو کتبہ دکھایا سب کو پسند آیا اور کہا وزیر کی تحریر اس کے سامنے ہیچ ہے۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ جلوس شاہی لے جاﺅ اور اس استاد کو ساتھ لاﺅ۔ اہل کار سنکر مسکرایا اور کچھ کہنے کو تھا کہ بادشاہ کہ تعمیل ارشاد نہایت ضروری ہے۔
اس نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا حضور !اس وصلی کا خوش نویس انسان نہیں، بلکہ ایک بندر ہے اور حق یوں ہے کہ غلام حیران و ششدر ہے۔ ایک سوداگری جہاز یہاں آیا ہے ۔ بہت سا مال و اسباب لایا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بندر بھی عجوبہ روزگار ہے۔ ساری خدائی کے جانوروں کا سردار ہے۔ اس کے بعد پوری سرگزشت سنائی۔
بادشاہ نے کہا ، مجھے خود انتہائی حیرت ہے۔ بندر بھی کہیںخوش نویس ہوا کرتا ہے! اگر یہ صحیح ہے تو افسوس کا مقام ہے کہ وزیر بھی ملا تو حیوان ملا۔
اہل کار نے سوداگر سے جا کر التجا کی کہ اس بندر کو میرے ساتھ کیجیے۔ بادشاہ نے یاد فرمایا ہے۔ وزارت کا عہدہ بخشنے کے لیے بلایا ہے۔
سوداگر بولا واہ اس سے اچھی بات کیا ہے بندر کے بھاگ جاگے کہ وزیر کا درجہ ملا۔
مجھے خلعت وزارت پہنایا گیا۔ عربی گھوڑے پر بٹھایا گیا۔ جہاز کے سب سوداگر ساتھ چلے اور محل تک پہنچے۔ شہر میں دھوم مچی۔ ساری خلقت دیکھنے کو دوڑی۔ لوگ ہنستے تھے کہ ماشاءاللہ! ہمارے بادشاہ سلامت کو بھی کیا سوجھی ہے! اچھا وزیر بلایا۔ یہ اپج کی لی کہ حیوان کو وزیر بنایا۔
جب گھوڑا محل میں داخل ہوا تومیں گھوڑے سے اتر کر تین بار آداب بجا لایا۔ پایہ تخت کو بوسہ۔ بادشاہ نے عزت سے بٹھایا۔
دربار برخاست کر کے بادشاہ نے مجھے کھانا کھلایا۔جب کھانے سے فراغت پائی تو دستر خوان بڑھایا۔ اس کے بعد عطر دان آیا۔ خود بھی ملا اور مجھے بھی عطر ملنے کا اشارہ کیا۔ خدمت گار نے بہترین شربت لا کے سامنے رکھا۔ شربت نوش کرنے کے بعد میں نے قلم دوات لے کر کاغذات پر چند بہترین شعر لکھ کر بادشاہ کے سامنے رکھے۔ بادشاہ پڑھ کر بہت خوش ہوا۔
اس کے بعدشطرنج بچھائی گئی۔ بادشاہ نے میری طرف اشارہ کرکے کہا آﺅ! ایک بازی ہو جائے ۔ میں ادب کے ساتھ آگے بڑھا اور بازی شروع کی۔ پہلے میں اپنی بازی جان بوجھ کر ہار گیا۔ پھر چند چالوں کے بعد بادشاہ کو مات دی۔ اسی طرح دو بازیاں جیتیں اور وہ بہت مسرور ہوا۔
بادشاہ میری ادب شناشی ، خوش نویسی، شاعری اور حکمتی چالوں کو دیکھ کر دنگ تھا۔ سوچتا تھا کہ یہ بندر ہر صفت سے موصوف ہے۔ صرف کلام کرنے کی کسر ہے ورنہ پورا بشر ہے۔ انسان کی کون سی صفت اس نے نہیں پائی۔ مگر افسوس ہے کہ بشر کی زبان نہ پائی۔پھر خواجہ سرا کو حکم دیا کہ بادشاہ بیگم کو بلاﺅ کہ وہ بھی اس بندر کا تماشا دیکھیں اور لطف اٹھائیں۔ کہنا! آئیے آپ کوایک نئی چیز دکھائیں۔ اور ہاں ! ہماری بیٹی کو بھی لانا کہ وہ بھی اس عجیب و غریب جانورکو دیکھے۔
ملکہ کے ساتھ، بادشاہ زادی بڑے شوق سے آئی۔ مجھے دیکھتے ہی اس قدر شرمائی کہ منہ چھپا لیا اور کہا بابا جان ! آپ کو آج کیا ہوگیا ہے کہ غیر مرد کے سامنے بلاتے ہو، نا محرم کے روبرو ۔ طلب فرماتے ہو؟۔
بادشاہ یہ بات سن کر گھبرایا۔ غیر مرد کا لفظ گوش گزار ہوا تو چکر میں آیا۔ پوچھا جان بابا ! یہاں اجنبی مرد کون ہے ؟۔ یہ خواجہ سرا غلام ہے۔اور مرد نامی کا کہیں نشان ہے نہ نام ہے۔
بادشاہ زادی نے جواب دیا بابا جان! یہ جو بندر آپ کے سامنے بیٹھا ہے یہ حیوان نہیں ، انسان ہے ۔ غریب نہیں ، امیر زادہ ہے۔ ایک جن نے اس کو جادو کے زور سے بندر بنایا ہے۔ اس بے چارے پر ستم ڈھایا ہے۔
بادشاہ نے یہ سنا تو حیرت میں آیا کہ یہ کیا اسرار ہے۔ جسے حیوان سمجھتے تھے وہ انسان نکلا! پھر اس نے میری طرف اشارہ کیا کہ کیا یہ بات درست ہے؟ ۔اس نے اپنی بیٹی سے پوچھا جان بابا ! یہ تو بتاﺅ کہ تم نے یہ کیوں کر پہچان لیا کہ یہ امیر زادہ ہے ؟ اور یہ شناخت کیسے ہوئی کہ جن نے اسے بزور جادو بندر بنایا ہے ؟۔
شہزادی نے جواب دیا بچپن میں مجھے ایک بوڑھے جادوگر نے جادو کا فن سکھایا تھا۔ میں نے ستر باب اس علم کے پڑھے ہیں۔ جادو کے کرتب بہت بڑھے چڑھے ہیں۔ اگر چاہوں تو دم کے دم میں آپ کے شہر کو پہاڑ کے نیچے پھینک دوں۔ چٹیل میدان بنا دوں اور پھر جب چاہوں، اصلی صورت میں لے آﺅں۔
اس پر بادشاہ کو اور بھی تعجب ہوا۔ اس نے کہا جان بابا ! خدا کے لیے اس بے چارے کو جادو کے زور سے چھٹکارا دلاﺅ اور جن کی قید سے چھڑاﺅ تاکہ میں اس کو اپنے ملک کا وزیر بناﺅں اورتمہارے ساتھ اس کی شادی کروں ۔
شہزادی نے جواب دیا بابا جان ! آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ ابھی حضور کا حکم بجا لاتی ہوں اور اس کوبندر سے انسان بناتی ہوں۔
تب شہزادی نے ایک چھری نکال کر چند لفظ اس پر لکھے، ایک منتر پڑھا اور بڑی تیزی کے ساتھ ہونٹ ہلانے لگی۔ ناگہاں وہی جن ایک شیر کی صورت میں نمودار ہوا۔ بہت دہاڑا اور غرایا۔بادشاہ زادی نے کہا او پلید! تو نے اپنے عہدسے منہ موڑا اور بدعہدی سے ناتا جوڑا۔
جن بولا اچھا ! اب میرا وار روک۔ اور بڑھ بڑھ کے مجھے نہ ٹوک۔ یہ کہہ کر بپھر کے جست کی اور قریب تھا کہ پنجہ مارے کہ شہزادی نے وار خالی دیا اور اسکا ایک بال اکھیڑے کے ہلایا ۔ اس بال کو جادو کے زور سے شمشیر بنایا ور بڑھ کے ایک ہاتھ صفائی سے لگایا کہ شیر کا سر تن سے جدا ہوا دیکھنے والے اس منظر کی تاب نہ لا کر تھر تھر کانپنے لگے۔
دوگھنٹے کے بعد یکایک زمین شق ہوئی اور ایک بن بلاﺅ نکلا اور زور سے غرانے لگا۔ پھرزمین کے اندر سے ایک بھیڑیا نمودار ہوااور بلاﺅ کو دبوچ لیا ان میں خوبی لڑائی ہوئی کہ اتنے میں وہ بلاﺅ کیڑا بن کے انار کے درخت پر پہنچا اور اس کے ایک پھل میں گھس گیا ۔ انار پھولنے لگا۔ پھولتے پھولتے جب بڑے تربوز کے برابر ہوا توزمین پر گر کر پھٹا اور دانے بکھر گئے بھیڑیا فوراً مرغ بنکر دانے چننے لگا۔
یہ سب تماشے بادشاہ کے سامنے ہو رہے تھے۔ اور میں بھی بندر کے روپ میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ بادشاہ دعائیں مانگتا تھاکہ یا خدا میری بیٹی کو فتح نصیب کر اور اس جن کوفنا کر۔ بادشاہ کے علاوہ میں بھی دعا مانگ رہاتھاکہ اس شہزادی کے ذریعے رہائی پاﺅں ،،خدا کرے کسی صورت سے بچ جاﺅں۔
جب وہ مرغ انار کے سب دانے چن چکا اور ادھرادھر دانوں کی تلاش کرنے لگا تو ایک دانہ حوض کے کنارے پر دیکھ کر دوڑا۔
جب مرغ اس دانے کی جانب دوڑا تو وہ دانہ مچھلی بن گیا اورحوض میں کود گیا۔ مرغ بھی مگر مچھ بن کے اسی حوض میں کود پڑا۔ غوطہ مار کے ڈوبا کہ اس مچھلی کونگل جائے مگر اتفاق سے دونوں پانی میں ڈوب گئے اور ان کے ڈوبتے ہی پانی تہہ وبالا ہونے لگا۔
کچھ دیر کے بعد ایک آواز ہیبت ناک آئی ۔ ہر شخص سوچتا تھا کہ یاخدا یہ کیا ستم ہے ! یہ بلا کیسی نازل ہوئی تھوڑی ہی دیر بعد وہ جن پھر زمین سے برآمد ہوا۔ منہ سے شعلے نکلتے تھے،بدن سے آگ روشن تھی اور انگارے سے دہک رہے تھے۔ ایک پھونک مارتا تھا توشعلے ادھر ادھر پھیلنے لگتے تھے۔ قریب تھا کہ سارا محل جل کر خاک ہو جائے کہ شہزادی زمین سے نکلی ۔ جن کی طرف منہ کر کے کچھ پڑھا تو جن کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر وہ جا کے اس سے لپٹ گئی ۔ باہم لڑائی ہونے لگی۔ کبھی یہ غالب تو وہ مغلوب، کبھی وہ زبر دست، یہ زیردست اتنے میں دونوں کے جسموں سے آگ نکلنے لگی۔ دھواں بلند ہوا۔ معلوم ہوتا تھا کہ سارے محل میں کسی نے آگ لگا دی ہے۔ ساری عمارت جلا دی ہے۔ بادشاہ کو سخت افسوس تھا کہ لڑکی کی جان پر بن آئی۔ جادو نے یہ آفت ڈھائی۔ نادم تھا کہ شہزادی سے یہ فرمائش بے سمجھے بوجھے کیوں کی کہ اس پر یہ مصیبت آئی۔
اتنے میں جن نے زور سے ہماری طرف پھونک ماری اور چنگاریاں ہمارے ارد گرد پھیل گئی۔ قریب تھاکہ آگ ہمیں بھسم کر ڈالتی کہ شہزادی درمیان میں حائل ہوئی۔ مگر ایک چنگاری اڑ کے ہماری جانب آئی جس نے داہنی آنکھ کی پتلی جلائی میں کانا ہوگیا۔ بادشاہ پربھی چنگاریاں پڑیں، ڈاڑھی موچھیں جل گئیں۔ بہت خائف ہوا، کانپنے لگا۔ ایک غلام کے سینے پر ایک بڑا سا شعلہ گرا او روہ اسی دم جل بھن کے خاک سیاہ ہوگیا۔
یہ کیفیت دیکھی تو ہم سب کو خوف معلوم ہوا۔ کہ کہیں ہم بھی موت سے دو چار نہ ہوں۔ ناگہاں اللہ اکبر کی ندا بلند ہوئی۔ او کافر مردو د! کی صدا بلند ہوئی۔ غور کیا تو معلوم ہوا کہ شہزادی کی آواز ہے۔ جان میں جان آئی پھر شہزادی بولی الحمد للہ ! دیو کو مارا۔ بڑی موذی سے چھٹکارا پایا۔ میں نے دیکھا تو واقعی جن راکھ کا ڈھیر بنا پڑا تھا۔ ہر فرد خوش تھا۔
شہزادی نے کہا تم لوگ نہ ڈرو! خدا کے فضل سے میں نے نجات پائی اور اس کو ایسی بچھاڑ بتائی کہ جہنم واصل ہوا۔ یہ بڑا زبردست عامل تھا اور میرے ہر عمل کا توڑ جانتا تھا۔ مجھے وہ کب مانتا تھا۔ مگر میں نے ایسے پیچ کیا کہ نیست و نابود ہو گیا اس کا ہر ایک عمل بے سود ہوگیا۔
بادشاہ بہت مسرور ہوا کہ خدا نے شہزادی کی جان بچائی اس کے بعد شہزادی نے ایک طشت میں پانی منگوایا ۔ اس پر خدا جانے کیا پڑھا۔ چلو میں پانی لے کر ایک چھینٹا میرے منہ پر مارا او بولی خدا کے فضل و کرم اور میرے علم کے زور سے انسان کے روپ میں آ! اپنی اصلی صورت دکھا!۔
یہ کہتے ہی میں لوٹ پوٹ کے بندر سے انسان بن گیا۔ مگر ایک آنکھ سے کانا تھا۔ خیر آنکھ پھوٹی مگر جان تو بچی۔ شکر بجالایا کہ خدا نے بندر سے آدمی تو بنایا۔ جھک کے بادشاہ کو سلام کیا وہ بھی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ اتنے میں شہزادی نے زور سے چیخ ماری اور کہا ہائے جلی! لوگو بچاﺅ! میں جلی! بابا جان ! میں تم پر سے قربان ہوتی ہوں۔ ایک چنگاری مجھ پر بھی گر گئی تھی اس نے مجھے جلا ڈالا۔
یہ کہتے کہتے غش کھا کے گر پڑی اور مچھلی کی طرح تڑپنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر بعد جو دیکھا تو وہ بھی راکھ کا ڈھیر بن چکی تھی۔ بادشاہ ملکہ اور سب لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ جن کی راکھ کو پھینک دواور میری بیٹی کی راکھ پر ایک عالی شان مقبرہ تعمیر کرو۔
کچھ دن بعد بادشاہ نے مجھے بلوایاا اور کہا اے عزیز ! ابھی میرے شہر سے نکل جا اور پھر کبھی مجھے اپنی صورت نہ دکھانا۔ میں عیش وعشرت میں رہتا تھا مگر تیرے آنے سے یہ روز بد خدا نے دکھایا۔ بس اب فوراً یہاں سے چلا جا۔ آئندہ ادھر کا رخ نہ کرنا ورنہ زندہ نہ چھوڑوں گا۔
میں ناچار وہا ں سے نکل کھڑا ہوا۔ حمام میں جا کر ڈاڑھی مونچھیں اور بھویں منڈوائیں۔ قلندروں کا لباس پہنا اور اسی حالت میں پھرتا پھراتا بغداد میں پہنچا۔ اس وقت جو میری حالت ہے وہ آپ کے سا منے ہے۔
پہلے قلندر کی کہانی سن کر خلیفہ ہارون الرشید نے کہاواقعی تیرا قصہ بے حد المناک اور عجیب و غریب ہے جب تک بغداد میں رہو گے، ہماری طرف سے اچھا کھاﺅ گے، اچھا پہنو گے۔ کہیں اور جانے کانام نہ لو گے۔
پھر خلیفہ دوسرے قلندرسے مخاطب ہوا۔ اب تم اپنی آ پ بیتی سناﺅ اور ہم سے منہ مانگی مراد پاﺅ۔
اتنے میں موذ ن نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔ شہر زاد نے خاموشی اختیار کی ۔ سلطان شہریار نماز کی ادائیگی کیلئے اٹھ کھڑا ہوا۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں