businees-art

تجارت کے فوائد اور سود کی تباہی کاریاں

EjazNews

اسلام کے نظام معیشت میں سود جیسی لعنت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلام کے نظام معیشت اور سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں ایک اہم فرق سود کا جواز و عدم جواز ہے۔ سود اتنی بڑی لعنت ہے کہ اسے اسلام کسی طور پر بھی گوارا نہیں کرتا۔ اسلام دفاعی جنگ کا حامی ہے۔ نہ کسی کو بلا وجہ دعوت مبارزت دیتا ہے اور نہ چیلنج کرتا ہے۔لیکن سود کے معاملہ میں اسلام نے سودی کاروبار کرنے والوں کو پہلے تو اس سے رک جانے کو کہا ہے۔ بصورت دیگر کہا ہے کہ تمہیں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے۔ ایسی لعنت کو ایک ایسے معاشرہ میں جو اسلامی نظام حیات پر اپنی بنیاد استوار کرنا چاہتا ہو ایک دن کے لئے بھی روا نہیں رکھا جا سکتا۔
ایک غریب اور متوسط حال آدمی کے لئے سود کو کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ ان دولت مند اور صاحب ثروت لوگوں اور حکومتی سطح پر لین دین کرنے والوں کا درد سر ہے جو روپے کی پانچ اٹھنیاں بنانے کے قائل ہیں اور صنعت میں ناجائز منافع خوری اور لالچ میں سود کے اور بھی رسیا بن چکے ہیں۔ہندوستان میں مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومتی دور میں سود کی لعنت کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ حالانکہ تجارت اور کاروبار کی مسلمانوں میں اس وقت بھی فراوانی تھی۔ مسلمان قوم کی بعد کی تباہ حالی میں سود کا اہم حصہ ہے۔
کچھ جاگیریں انگریزوں نے انتقاماً ضبط کر لین اور کچھ ہندو سود خوربنیوں کی قدر ہو گئیں۔ دراصل اس وقت مسلمان قوم پر قنوطی نقطہ نظر اس قدر حاوی تھا اور یہ اس آنکھوں دیکھی تباہی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے مستقبل کے متعلق سوچنا تک گوارا نہ کیا۔ تاآنکہ سرسید احمد خان مرحوم نے انہیں اس غفلت سے جگانے کی کوشش کی اور اصلاح احوال کی طرف ان کی توجہ دلائی۔
کہتے ہیں کہ غدر سے قبل مرشد آباد جو ایک معمولی نواب سراج الدولہ کا دارلسلطنت تھا میں اتنی دولت تھی کہ پورے یورپ میں نہ تھی۔ ہندوستان بھر میں مسلمانوں کی دولت و ثروت کی یہی حالت تھی۔ اس وقت کے ایک انگریز مسٹر طامس ہیرنگٹن لکھتے ہیں مسلمان اپنے عزم استقلال ارادہ کی مضبوطی۔ تعلیم، تہذیب اور دماغی قابلیت کے اعتبار سے ہندووں سے بدرجہا فائق تھے۔ ثانی الذکر ان کے ہاتھوں میں بالکل بچوں کی مانند تھے۔ یہی بچے جن کی مسلمانوں کے دور حکومت میں پرورش ہوئی تھی۔ ایک تیسری طاقت کو دیکھتے ہی مار آستین ثابت ہوئے دراصل ہندو قوم ہمیشہ کسی تیسری طاقت کا سہار لینے کی عادی رہی ہے ۔
سرمایہ دارانہ نظام میں سودی معیشت کو برتری حاصل ہوتی ہے سرمایہ کو محنت کے مقابلے میں فوقیت حاصل ہونے کی وجہ سے سرمایہ ہی معاشرہ پر حکومت کرتا ہے۔ اس لئے اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سرمایہ کو مارکیٹ میں لانے کے لئے طرح طرح کی مراعات دی جاتی ہیں۔ سود کی شرح بڑھا دی جاتی ہے اسی سود کو ہم نے آجکل منافع کا نام دے رکھا ہے۔ اسی سرمایہ کے بل بوتے پر آج یہودی امریکی معیشت کو کنٹرول کر رہے ہیں اور اسی سرمایہ نے انہیں زندگی کے ہر شعبہ میں برتری دلوادی ہے۔ لیکن سودی نظام بہر حال ایک لعنت ہے ماضی میں بھی کئی دفعہ ایسا ہوا کہ حکومت نے سود کی تباہ کاریوں سے تنگ آکر اس پر کنٹرول مناسب سمجھا۔ انگلستان جیسے آزاد معیشت کے ملک میں بھی کئی بار شرح سود پر پابندیاں لگیں۔ ہندوستان کی دولت جب انگلستان پہنچنے لگی تو وہاں شرح سود از خود گر گئی اور پھر حکومت نے وہاں کسی قانون کی ضرورت نہ سمجھی اور ۴۵۸۱ءمیں سود در سود کی بندش کا قانون منسوخ کر دیا گیا۔ مسلمانوں سے سب کچھ چھین لینے کے باوجود انگریز ہندو کی ملی بھگت سے اب بھی مسلمانوں کے درپے آزار تھا۔ انہیں اب بھی اس قوم کی بازیابی سے خطرہ تھا۔ انہوں نے عذر کا سارا الزام بھی مسلمانوں کے سر دھر دیا۔ اور مستقبل کے لئے بھی ایسی تجاویز اختیار کیں جس سے مسلمان اپنے پاوں پر نہ کھڑے ہو سکیں چنانچہ ہندوستان میںبھی سود در سود سے تمام بندشیں موقوف کر دی گئیں اور زمینداروں کے رہن بیع کی بھی قانون رائج تھا، اسے ”دام دو پٹ“ کہتے تھے۔ یہ راجہ بکرما جیت کے وقت سے رائج تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ سود صرف اصل زر کی برابر ہی ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ نئی آزادی سے سود در سود کی کوئی حد ہی نہ رہی۔ یہ کاروبار ہندووں کے لئے بہت مفید ثابت ہوا حتیٰ کہ ہندو عورتوں نے بھی گھروں میں یہ کاروبار شروع کر رکھا تھا۔ ہندووں نے اس کاروبار کو منظم طور پرچلایا۔ ادھر مسلمان زمینداروں اور جاگیرداروں کو ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے روپے کے حصول کا یہ سب سے آسان طریقہ نظر آیا تو ہندو بنئے نے پانچ ہزار روپے دے کر دس ہزار لکھوا لئے ۴۲ فیصد کی شرح سود عام تھی۔ پچاس سال میں اس قانون سود کی بدولت مسلمانوں کی ۵، فیصدی جائیدادیں ہندووں کے پس پہنچ گئیں اور باقی جائیدادیں بھی رہن میں پابند ہو کر رہ گئے نوے فیصد مسلمان گھرانے ایسے ہیں جن کے زیور تک تقسیم سے قبل ساہوکاروں کے گھروں میں رہن تھے حتی کہ جب تقسیم ملک کا سوال اٹھا تو ہندووں نے یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ مسلمان اکثریت کے علاقے میں مسلمانوں کے پاس زمین ہی کتنی ہے جس کے بل بوتے پر وہ ملک کا مطالبہ کرتے ہیں غرضیکہ سود کی تباہ کارویوں کے لئے کسی مزید ثبوت کی ضرورت ہی نہیں۔ کیونکہ اس علاقہ کے مسلمانوں کی آپ بیتی ہے اور ترک کی ربرُ کی سب سے زیادہ ضرورت اس وجہ سے ہے کہ یہ حکم خداوندی ہے۔
قرض حسنہ:
اسلام میں بنیادی طور پر دولت اور قرض کو ایک اعلیٰ مقصد کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ خود مقصد قرار نہیں دیا گیا۔ حلال طریقہ سے دولت کمانا مباح ہی نہیں۔ بلکہ فرض ہے۔ لیکن اس کے حصول کے بعد اس کے خرچ کے بھی اسلام نے ایسے طریقے متعین کر دیے ہیں جن سے نہ صرف خود فرد میں سنتِ تقویٰ کی نشوونما ہوتی ہے۔ بلکہ معاشرہ میںبھی حسنات فروغ پاتی ہیں۔ ایک طرف تو سود ہے۔ جو استحصال کی ایک شکل ہے۔ تاجر مجبور ہو کر ایک سودی قرض حاصل کرتا ہے اس قرض کے ساتھ اس کے دل میں ایک منتقمانہ جذبہ بھی لے آتا ہے اور یہ سب کچھ اس کاروبار سے وصول کرتا ہے۔ جس کے اُسے قرض لینے پرمجبور کیا تھا۔ اس میں سراسر معاشرہ کا نقصان ہے۔دوسری طرف اسلام میں قرض حسنہ کا حکم ہے۔ جس میں ایک مسلمان اپنی کمائی قومیا کسی مسلمان بھائی کے لئے بلا طمع وقف کر دیتا ہے۔ اس سے مقروض کا دل کس قدر سپاس گزار ہو گا۔ بعض بزرگانِ دین تو قرض اور مقروض کے سلسلے میں اس قدر احتیاط برتتے تھے کہ مقروض کی دیوار کے سائے تلے بھی نہیںکھڑے ہوئے تھے۔ مبادا یہ بھی سود کی ذیل میں آجائے۔ اسلامی معاشرہ میںمومن کا ہر نیک کام جو وہ خدا کے لئے کرتا ہے عبادت میںشمار ہوتا ہے۔ اس لئے اس کام کا سرمایہ بھی ملت کے لئے وقف رہتا ہے۔ اجتماعی اسلامی نظام کے لئے جو مومنین مالی قربانیاں دیتے ہیں، اسے انفاق فی سبیل اللہ یا ”اللہ کو قرض دینا“ سے تعبیر کیاگیا ہے۔ یہ وہ قرض ہے جسے خدائے عزوجل نے کئی گناہ لوٹانے کا وعدہ فرمایا ہے اور اسے ایسی کھیتی سے تعبیر کیا ہے جس کے ایک ایک دانے کے بدلے سینکڑوں دانے اُگتے ہیں۔ چنانچہ سورة بقرة آیت ۵۴۲ میں ہے۔ ایس بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے، اور خدا تعالیٰ اسے بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔ اللہ ہی تنگی اور کشادگی کوتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاو گے۔ سورة بقرہ ہی کی آیت ۱۶۲ میں ہے ”جو لوگ اپنے مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ کشادگی والا اور علم والا ہے۔ ”سورة المائدہ آیت ۲۱ میں بنی اسرائیل سے بھی کہا گیا تھا کہ قرض حسنہ فی سبیل اللہ تمھارے لئے دفع مضرت کا ایک ذیریعہ بن جائے گا اور دخولِ جنت کا وسیلہ بھی۔ اسی مضمون کو سورة حدید آیات ۱۱ اور ۸۱ میںیوںبیان کیا گیا ہے۔ کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے بڑھاتا چلاجائے اور اس کا پسندیدہ اجر ثابت ہو جائے (۱۱) صدقہ دینے والے مرد اور عورتیں اور جو اللہ تعالیٰ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں ان کے لئے یہ بڑھایا جائے گا اور اس کے لئے پسندیدہ اجر اور ثواب ہے۔
سود کے متعلق قرآنی احکامات:
اسلامی نظام معیشت میں ربوٰ ایک جامع اصطلاح ہے۔ تجارت کے مقابلے میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ تجارت میں سرمایہ کے ساتھ محنت اور نفع نقصان کا احتمال دونوں شامل ہیں اس سے ظاہر ہے کہ تجارت کے معنی سرمایہ پر کسی بھی زائد رقم کے حصول کے میںمزید وضاحت کر دی گئی ہے۔ یعنی تم اپنا سرمایہ واپس لے سکتے ہو۔ اس سے زائد ایک پائی بھی نہیں۔ ربوٰ کے معنی کے طور پر اردو میں سود کا لفظ استعمال کرنا اس کے پورے معانی کو محیط نہیں۔ کیونکہ سود عموماً زیاں کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جو کہ ربوٰ کے معانی اور حقیقت کی شدت سے خالی ہے۔ اسلام میں دولت فاضلہ کا وہ تصور نہیں جو ایک سرمایہ دارانہ نظام میں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میںدولت فاضلہ معاشرہ کے استحصال کے استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ اسلامی معاشرہ میں زکوٰةعشر ، صدقات کے بعد بھی دولت فاضلہ کا مصرف قل العفو بتایا گیا ہے۔ اس لئے اسلامی معاشرہ میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سب مومنین صاحب نصاب ہو چکے تھے۔ اور زکوٰة لینے والا کوئی نہیں ملتا تھا سودی نظام کی یہی استحصالی نوعیت اسے اسلام کی معاشی نظام میں حرام قرار دیتی ہے۔ صرف سرمایہ کو FLOAT کر کے خود کچھ نہ کرنے والا سرمایہ دار ہی اس نظام کا نمائندہ ہے۔ جو سستی کاہلی اور عیش عشرت کا مظہر ہے اسے خود کچھ نہیں کرنا پڑتا اور مال حرامبود بجلسة حرام رفت کے مصداق وہ اسے بے دردی سے صرف کر دیتا ہے اور معاشرہ کے غریب طبقہ کو بالکل نظر انداز کر دیتا ہے یہی سودی معیشت یہودیوں کی تباہی کا باعث بنی تھی۔سورة النساءآیت ۱۶۱ میں ہے اور ربوٰ جس سے وہ منع کئے گئے تھے اسے لینے کے باعث اور لوگوں کا مال نا حق مار کھانے کے باعث ان میں سے جو کفار ہیں (یعنی اس نظام پر ایمان نہ لانے والے) ہم نے ان کے لئے المناک عذاب مہیا کر رکھے ہیں“قومی دلوت میںاضافہ تو حکم خداوندی کے مطابق صدقات سے ہو سکتا ہے کیونکہ ربوٰ کو خود خدا مٹاتا ہے (بقرہ ۶۷۲) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ والی روایت میںہے کہ سود سے گو زیادتی ہو جائے لیکن انجام کار کمی ہی کمی ہے۔ (مسند احمد) سورة البقرة آیت ۵۷۲ میں سود کے بارے میں واضح احکام موجود ہیں اور سودی کاروبار کرنے والوں کی کیفیت بھی ارشاد ہے۔ سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اس طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ بیوپار بھی تو سود ہی کیطرح ہے اور خدا تعالیٰ نے بیوپور حلال کیا اور سود حرام جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی خدا کی نصیحت سن کر رک گیا تو اس کے لئے وہی ہے جو گزر چکا (یعنی جو کچھ وہ لے چکا ہے لے چکا ہے) اور اس کا کام اللہ کیطرف ہے اور جس نے پھر بھی کیا تو وہ جہنمی ہیں ایسے لوگ ہمیشہ اس میں رہیں گے“ سودی کاروبار اس وجہ سے بھی قابل نفرین ہے کہ یہ جذبہ ہوس ذر کو زیادہ کرتا ہے۔ اور ایسی ذہنیت کی آبیاری کرتا ہے جو FINEFEELINGS سے بالکل عاری ہوتی ہے۔
سود کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ سودی لین دین میں استحصال کا عنصر نہیں تو یقین اور مرضی اور رضا رغبت سے لین دین کے ایک معاملے پر راضی ہو جاتے ہیں۔ لیکن سودی معاہدہ کو تراضی مابین پر مبنی قرار دینا خود فریبی سے کم نہیں کیونکہ بنک کی شرح سود کو قبول کئے بنا چارہ ہی نہیں۔ اور یوں بھی نہیں کہ اس شرح پر رضا مندی پر قرض لینے والے کو قرض کا مستحق قرار دے دے۔ بلکہ ہر پارٹی کی نوعیت ایک انفرادی کیس کی ہوتی ہے۔جس کو تعلقات، ضمانت اور سرمایہ کے طلب درسد کے ذیر اثر نوازا جاتا ہے۔ پھر قرآن کا یہ صریح حکم ہے کہ تم اپنے سرمایہ سے زائد کچھ بھی لینے کے حق دار نہیں ہو۔ اس بارے میںسورة بقرہ کی آیت ۸۷۲، اور ۹۷۲، ۰۸۲، ۱۸۲ بالکل واضح ہیں۔ ارشاد ہے۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو سود بارقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم فی الواقعی ایماندار ہو او راگر تم ایسا نہیں کرتے (یعنی سود چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے) تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاو ہاں اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہار اہی ہے۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظُلم کیا جائے۔ (۹۷۲) اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہئے اور معاف کر دینا تو بہت ہی بہتر ہے۔ اگر تم علم رکھتے ہو تو (۰۸۲) اور اس دن سے ڈرو جس دن تم پر سب اللہ کی طرف لوٹائے جاو گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور اس پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (۱۸۲) ان آیات مبارکہ کی حکمت صاف ظاہر ہے جسے آیات ۱۸۲ میں واضح کر دیا گیا ہے۔ یعنی اگر تم نے اپنے ہاں ایسا غیر اسلامی معاشی نظام رائج کر بھی دیا جس سے تمہیں بظاہر دنیاوی فوائد پیش نظر ہیں تو بھی آخر کار تو تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ ہی جانا ہے اور اپنے اعمال کا بدلہ چکانا ہی ہے۔ سورہ روم آیت ۹۳ میں حرمت ربوٰ کو مزید وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ اور جو تم سود پر دیتے ہو کہ لوگو کے مال میں (تمہارا مال بھی) بڑھتا رہے وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا، اور جو کچھ زکوٰة تم محض خوشنودی خداوندی کے لئے دیتے ہو تو ایسے ہی لوگ (اپنا مال) دو چند کرنے والے ہیں (۹۳) اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر روزی دی پھرمار ڈالے گا۔ پھر مار ڈالے گا پھر زندہ کرے گا بتا¶ تمہارے شریکوں میں کوئی بھی ایسا ہے جو ان میںکچھ بھی کر سکتا ہو۔ خدا تعالیٰ کی پاکی اور برتری ہے۔ ہر اک اس شریک سے جو لوگ مقرر کرتے ہیں۔ (۰۴) سورة آل عمران آیت ۰۳۱ میں ہے کہ اے ایمان والو بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاو۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تمہیں نجات ملے۔ بعض مفسرین نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔ یعنی اونچی شرح سود ہی حرمت کی زد میں آتی ہے لیکن چونکہ قرآن ممنوع چیزوں کی شدید ترین شکل کو سامنے لا کر ان سے باز رہنے کا حکم دیتا ہے۔ اس سے اس کا مطلب و مقصد ان چیزوں کی ہر شکل سے اجتناب ہوتا ہے اس لئے سود مفرد ہو یا مرکب ہر حال میں ایک غیر اسلامی فعل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں