yoga_7

یوگ کے پانچ اہم مدرا

EjazNews

مدرا:
یوگ کے اونچے مقعد کو حاصل کرنے کیلئے یوگ آسنوں کے ساتھ ساتھ پرانا یاموں کے جو افعال کئے جاتے ہیں اسے مدرا کہتے ہیں۔گھرینڈرشی نے 25مدرائوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں تین مدرائوں (مول بندھ، اُڑی یان بندھ اور جالندہر بندھ) کا بیان ہم کر چکے ہیں اور پانچ خاص مدرائوں کا یہاں بیان کیا جارہا ہے۔
مہامدرا:
اسے یوگی مہرشیوں نے اس لیے مہا مدرا کہا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ پانچ پریشانیوں جیسے (لگائو، حسد لا علمی ، مغروری ، موت کا ڈر) کا بہت جلد خاتمہ ہوتا ہے ۔
سب سے پہلے آسن پر بیٹھتے ہوئے دونوں پائوں کو سامنے لاتے ہیں۔ اس کے بعد بائیں پائوں کو گھٹنے سے موڑتے ہوئے ایڑی کو سیونی ناڑی سے لگاتے ہیں۔ اس حالت میں بائیں پائوں کا تلوار دائیں پائوں کی جانگھ کو چھوتا رہے گا۔ اس کے بعد بائیں ہاتھ میں دائیں پائوں کا انگوٹھا پکڑتے ہیں۔ دائیں ہاتھ کی مدرا بنا کر جو پائوں سامنے رکھا ہے اسی طرف کے ناک کے نتھنے سے بغیر آواز کئے ہوئے سانس کو پورک (اندر) کرتے ہیں۔ پیٹ باہر کی طرف پھلاتے ہیں۔ پورک (سانس اندر) کرنے کے بعد جالندھر بندھ لگاتے ہیں۔ مول بندھ لگاتے ہیں۔ آنکھیں بند کرتے ہیں۔ آگے جھکتے ہوئے سر کو گھٹنے سے لگاتے ہیں۔مدرا والے ہاتھ سے بھی پھیلے ہوئے پائوں کا انگوٹھا پکڑ لیتے ہیں۔ اس حالت میں دونوں گھٹنے ، دونوں کہنیاں زمین پر چھوتی رہتی ہیں۔ مدرا بنا کر دھیان ناک پر رکھتے ہیں۔ کمر گردن سیدھی کرتے ہوئے مول بندھ ڈھیلا چھوڑتے ہیں۔ جالندہربندھ ہٹاتے ہیں۔ اس کے بعد مڑتے ہوئے پائوں کی طرف سے سانس کا ریچن (سانس باہر) کرتے ہیں۔ اڑی یان بندھ لگاتے ہیں اس کے بعد مخالف پائوں سے اوپر درج ترکیب کے ذریعہ اس مدرا کی مشق کرتے ہیں۔مدت کے تناسب کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔
فائدہ: مہا مدرا کی مشق کرنے سے تپ دق ، مقعد سے متعلقہ امراض بواسیر، خوانی بواسیر، بھگدر، بدہضمی وغیرہ امراض دور ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پانچ پریشانیاں (لگائو، بغض وحسد لا علمی، مغروری ، موت کا ڈر) ختم ہو جاتا ہے۔ پوشیدہ امراض کی تشخیص میں مددگار ہے۔ سیلان الرحم ،ڈس مینورئیا،ماہواری میں خون کے رنگ میں فرق وغیرہ امراض دور ہوتے ہیں ۔ چہرہ پر نور ہوتا ہے۔ کنڈلنی شکتی کے جگانے میں مددگار ہے۔ السر کولائی ٹس ریحی امراض وغیرہ دور ہوتے ہیں۔ پھیپھڑوں، گردوں کی کام کرنے کی طاقت بڑھ جاتی ہے ۔ ہرنیا، ہائڈروسل اور دماغی امراض کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ کیل ، مہانسے و گلے سے متعلقہ امراض دور ہوتے ہیں۔ چھوت کا بخار ٹھیک ہوتا ہے، جلدی امراض کے لیے مفید ہے۔
احتیاطیں: اونچے خون کے دبائو دل کے مریضوں اور کمر درد کے مریضوں کے لیے کرنا منع ہے۔ اس کی مشق سے دونوں طرف کے اعضا سے مساوی طور پر کی جاتی ہے۔
مہا بندھ:
گومکھ آسن میں بیٹھ کر ہاتھ کو آپس میں کراس کرتے ہوئے بازو بندوں کو پکڑتے ہیں۔ کمر اور گردن کو سیدھا رکھتے ہوئے، سامنے دیکھتے ہوئے دونوں ناک کے نتھنوں سے بغیر آواز کے ساتھ سانس کا پورک (سانس اندر) کرتے ہیں۔ سانس بھرنے کے ساتھ ساتھ پیٹ باہر کی طرف پھلاتے ہیں۔ جالندہر بندھ لگاتے ہیں۔آنکھیں بند کرتے ہیں۔ کنبھک (سانس روک) کرتے ہیں۔مول بندھ خود بخود لگ جاتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو سانس روکنے کے بعد آنکھیں کھولتے ہیں۔ جالندہربندھ ہٹاتے ہیں۔ناک کے دونوں نتھنوں سے سانس کا ریچن (سانس باہر) کرتے ہیں۔ اڑی یان بندھ لگاتےہیں اس میں بھی مدت کا تناسب 1:4:2 ہے۔ اس کے بعد پائوں کی حالت کو بدل کر اس فعل کو دوہراتے ہیں۔ بصیرت مند انسان اکثر اس مدرا کی مشق کرتے ہیں۔
فائدہ: مہا بندھ موت کے ڈر سے نجات دلانے میں لاثانی ہے۔ ایڑا، پنگلا اور سو شمنا تینوں ناڑیوں کا سنگم ہونے سے دل یکسو ہوتاہے۔ قدرت اپنے قادر کنڈلنی شکتی کو جگانے میں مددگار ہے۔ پران(روح) کا داخلہ مول آدھا چکر میں ہونے لگتا ہے ۔جس سے چکر کو توڑنے کا راستہ کھل جاتا ہے یعنی پران( سانس) چکروں کو توڑتا ہوا برہم رندھر میں پہنچ جاتا ہے۔ پھیپھڑوں سے متعلقہ امراض جیسے دمہ وغیرہ دور ہوتے ہیں۔ گلے سے متعلقہ امراض کے لیے اچھا ہے ۔ دماغی تنائو دور کرتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا بندھ ہے اس لیے اسے مہا بندھ کہتے ہیں ۔ متعلقہ تمام امراض کو ٹھیک کرنے میں اچھا ہے۔
احتیاطیں: اس کی مشق اونچے خون کے دبائو دل کے مریضوں کو نہیں کراتے۔ کمر ہمیشہ سیدھی رکھنی چاہئے۔ دونوں طرف سے مساوی مشق کرتے ہیں۔
مہاویدھ:
مہاویدھ دو لفظوں کے میل سے بنا ہے ۔ مہا+ویدھ یعنی مہا کا مطلب ہے اعلیٰ اور ویدھ کا مطلب ہے تو ڑنا یا سوراخ کرا۔ جس مدرا کی مشق کرنے میں پران(سانس)نما تیرسے برہم گونتھی(سواد ھشٹھان چکر) وشنو گرنتھی (نابھی چکر) او رود گرنتھی (آگیا چکر) یعنی شوشمنا کے دروازے کو نشانہ بنا کر توڑ دیا جائے اسے مہا ویدھ کہتے ہیں۔
پدم آسن میں بیٹھتے ہیں۔ دونوں ہتھیلیاں جانگھوں کے بغل میں رکھتے ہیں۔ کمر اور گردن کو سیدھا رکھتے ہوئے بغیر آواز کے ساتھ ناک کے دونوں نتھنوں سے سانس کو پورک (سانس اندر) کرتے ہیں۔ جالندہر بندھ لگاتے ہیں۔ آنکھیں بند کرتے ہیں۔مول بندھ لگاتے ہیں۔ دونوں بازوئوں پر تمام جسم کاوزن لیتے ہوئے یعنی پورے جسم کو اٹھا کر سانس کی رکی ہوئی حالت میں چوتڑو ں کے پچھلے حصے کو بار بار پٹکتے ہیں۔ سانس نہ روک پانے کی حالت میں پٹکنا بند کرتے ہیں۔ جالندہر بندھ ہٹاتے ہیں۔مول بندھ ڈھیلا چھوڑتے ہیں۔ آنکھیں کھولتے ہیں۔ بغیر آواز کئے ناک کے دونوں نتھنوں سے سانس کا ریچن (سانس باہر) کرتے ہیں۔ اس طرح مندرجہ بالا ترکیب سے اس فعل کو بار بار دوہراتے ہیں۔
فائدہ : مہا ویدھ کی مشق کرنے سے بڑے کمالات حاصل ہوتے ہیں۔ مشق کرنے والے کے جسم میں جھریاں نہیں پڑیں ۔ بال سفید نہیں ہوتے۔ بڑھاپا نہیں آتاہے۔ ٹانسلز ، ہکلاہٹ کے لیے اچھا ہے ۔ بالوں کا جھڑنا دور ہوتا ہے۔ پران (سانس ) سوشمنا ناڑی میں ہوتا ہے جس سے کنڈلنی شکتی جاگ جاتی ہے۔
احتیاطیں: اس مدرا کی مشق اونچے خون کے دبائو والوں ، دل کے مریضوں ، کمر درد،اور دمہ کے مریضوں کو نہیں کراتے۔
(۴) کھچری:
کھچری لفظ دو الفاظ کا ملن ہے ۔ ’’کھ‘‘ کا مطلب ہے آسمان اور ’’چری‘‘ سے مراد ہے سیر کرنا ۔اس میں زبان کوالٹی لٹاکر کھوپڑی کے اندرونی سوراخ کے اندر داخل کرا کر دونوں ابروئوں کے درمیان نظر ٹکاتے ہیں۔ یوگ کی کتاب کے مطابق پہلے دوہن کریا (متھنے کا فعل) کرتے ہیں۔
سیندھا :نمک، بڑی ہرڈ ، کالی مرچ اور سونف ان چاروں چیزوں کو برابر بابر مقدار میں لے کر پیس کر سفوف بنا لیں اور کپڑے میں چھان کر زبان کے نیچے لگا کر زبان کو لمبی کرنے کے لیے باری باری دونوں ہاتھوں سے کھینچتے ہیں۔
زبان تین طرح کی ہوتی ہے:
(۱) سرپ جیہوا (سانپ کی شکل جیسی زبان)، (۲) مانڈوکیہ جیہوا (مینڈک کی شکل جیسی زبان)، (۳) کیو جیہوا (گائے کی شکل جیسی زبان)۔
جن کی سانپ کی شکل جیسی زبان ہوتی ہے ان کی تین دن میں، جن کی مینڈک کی شکل جیسی زبان ہوتی ہے ان کی تین مہینے میں اور جن کی گائے کی شکل جیسی زبان ہوتی ہے ان کو چھ مہینے میں کھچری مدرا لگانے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
کھچری مدرا سدھ ہو جاتی ہےیا کھوپڑی کے اندرونی سوراخ کے اندر زبان داخل ہو جاتی ہے تو مشق کرنے والے کو چھ طر ح کے ذائقوں کا احساس ہوتا ہے و ہ چھ ذائقے ہیں ۔ (۱) نمکین (۲) کڑوا(۳) کٹھا(۴) دودھ جیسا ذائقہ (۵) گھی جیسا ذائقہ(۶)شہد جیسا ذائقہ۔
کھچری مدرا کی اہمیت:
کھچری مدرا کے سدھ ہو جانے پر جسم خوبصورت ہو جاتا ہے اور غیر معمولی اوصاف سے بھرپرو ہو جاتا ہے۔ بندو (ویرج) ٹھہر جاتا ہے۔دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیاوی بندھنوں سے آزاد رہتا ہے جس ساری دنیا کا دراصل سنبھالنے والا ذات اعلیٰ خدائے پاک ہے اسی طرح کھچری مدرا تمام مدرائوں میں سب سے اعلیٰ ہے۔ کھچری مدرا کی متواتر مشق کرنے والا سمادھی کی مدرا (عالم یکسوئی) کو حاصل کرتا ہے۔ سات دروازوں (دو کانوں کے سوراخ ، دو آنکھوں کے سوراخ، ایک منہ ، ایک پیشاب اور ایک پاخانہ کا سوراخ) کوبند کرنے کا خاص وسیلہ ہے۔ اس سے جسم و روح پر قابو پانے کا کمال حاصل ہوتا ہے۔ ہکلاہٹ دور کرنے کے لیے ووہن متھنے )اور تانے کا فعل فائدہ مند ہے۔
(۵) وپریت کرنی مدرا:
اردبھ سرد آلگ آسن کی حالت میں رہ کر پائوں اتنا سیدھا کرتے ہیں کہ ٹھوڑی گلے کے گڑھ میں لگ جائے۔ یعنی سوریہ (ناف ) اور چند را (برہم رندھر ) کی حالت میں الٹی ہو جاتی ہے۔ اس لیے اسے وپریت کرنی مدرا کہتے ہیں۔
فائدہ : کھوپڑی کے اندرونی سوراخ میں سے ٹپکنے والے رس کی بچت ہوتی ہے۔ حرارت معدہ تیز ہوتی ہے۔ گلے سے متعلقہ سبھی طرح کے امرا ض دور ہوتے ہیں۔ بولنے میں مٹھاس آتی ہے۔ چہرہ پر نور ہوتا ہے ۔ دائمی تجرد (برہم چریہ) حاصل ہوتا ہے۔ پوشیدہ امراض کو ٹھیک کرنے میں مددگار ہے۔ ہرنیا، ہائیڈرو سل کے لیے اچھی ہے۔ بالوں کا پکنا، جھڑنا وغیرہ دور ہوتا ہے۔ جلدی امراض کو دور کرنے میں مددگار ہے۔ مشق کرنے والا موت کو جیت لیتا ہے۔ دماغی امراض کےلیے یہ مدرا اچھی ہے۔
(۵) پر تیاہار:
جب اعضا اپنے مزے کو حاصل کرنے کے لیے اپنی خواہشات کی طرف دوڑتے ہیں تواس وقت اعضا کو اس طرف نہ جانے دینے کو ہی پرتیا ہار کہتے ہیں۔
خوبصورت شکل وصورت کا استعمال آنکھیں کرتی ہیں اور ناک کی خواہش سے خوشبو ، چھ ذائقوں کا مزا زبان لیتی ہے اور سر یلے لفظوں کا لطف کان اٹھاتے ہیں ۔ اور نر م نرم چھونے کا مزا جلد لیتی ہے ان اعضا کو اپنی اپنی خواہشات سے جدا کر لینا یا اسے پورا کرنے سے روک لینا ہی پر تیا ہار ہے۔
جیسے جیسے پران (سانس )قابو میں ہوتا ہے ویسے ویسے دل قابو میں ہوتاہے۔ جب اعضا قابو میں ہوجاتے ہیں تب خواہشات کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اس لیے پرانا یام کرتے ہیں۔
(۶) دھار نا (عقیدہ):
کثیف یا لطیف کسی بھی ایک موضوع پر دل کو یکسو کرنا ہی دھارنا (عقیدہ) ہے ۔دھارنا میں بتدریج کثیف سے شروع کر کے لطیف کی طرف جانا چاہئے۔
(۷) دھیان (متواتر غورو خوض):
دل کو متواتر یکسو اور غورو خوض کے فعل میں مشغول رکھنے کو دھیان کہتے ہیں۔
دھیان کئی طرح سے کیاجاسکتا ہے۔ جسے جس طرح کی دھیان کرنے کی ترکیب عقیدت ہو اسی سے دھیان کرنا چاہے ۔دھیان کسی بھی دھیان کئے جانے والے آسن میں بیٹھ کر سکتے ہیں۔ اگر کسی آسن میں بیٹھنے میں وقت ہو تو پائوں لٹکا کر کرسی وغیرہ پر بھی بیٹھ سکتے ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی اور گردن کو سیدھا رکھنا چاہئے۔
باقاعدہ دھیان کی مشق کرنے والوں کی شخصیت پر کشش ہو جاتی ہے۔ ان کی قربت میں آنے والا آدمی شیریں زبان پر اثر گفتگو آنکھوں کی چمک، تندرست جسم اور نیک حسن سلوک سے متاثر ہو جاتا ہے۔
گھرینڈ سنگھنا کے مطابق دھیان تین طرح کے ہوتے ہیں۔
(۱) کثیف (ستھول دھیان )یا وسیع دھیان، کسی جگہ، جنگل، باغ وغیرہ کا۔(۲) سوکشم (لطیف دھیان ) چھوٹا دھیان ، ان کے لیے جو یوگ سادھنا کے کمال پر پہنچ گئے ہیں۔ (۳) جیوترمیہ دھیان (نوریا روشنی کا دھیان) یہ دونوں ابروئوں کے دھیان کیا جاتا ہے۔ بھگتی ساگر کے مطابق دھیان چار طرح کے ہوتے ہیں۔
(۱) پداستھ دھیان: اپنے دل میں معبود کے پائوں کے ناخون سے لے کر چوٹی تک کی صورت کا تصور کر کے اس کے پاک قدموں میں دھیان لگاتے ہیں۔
(۲) پنڈ استھ دھیان: اس کے سلسلہ میں یم (عدم تشدد، سچائی، چوری نہ کرنا برہم چریہ ،مجرد رہنا) اور جمع خوری نہ کرنا ، نیم (جسم کے اندر باہر کی صفائی، صبر و قناعت، ریاضت، مطالعہ، خدا کی بندگی) آسن (کی تفصیلات کیلئے دی جا چکی ہیں) ، پرانا یام ، پرتیاہار (اعضا کو خواہشات کی طرف جانے سے روکنا) اور دھارنا کے ذریعہ دل کو صاف پاک کر کے چھ چکروں میں سے ہوتے ہوئے برہم رندھر (سبسار چکر) میں دل کو یکسورکرتے ہیں۔
ایڑ (چندر ناڑی بایاں نتھنا )، پنگلا (سورج ناڑی، دایاں نتھنا)، سوشمنا (دونوں نتھنوں سے سانس چلنا) ۔ان تینوں ناڑیوں کا سنگم (آپس میں ملنے کے مقامات) ہی چکر کہلاتے ہیں۔
(الف) مول آدھا چکر : یہ مقعد میں مقیم ہے۔ یہ کثیف عنصر مین کا مقام ہے اس مقا م پر دھیان کرنے سے مول آدھا ر چکر جاگ جاتا ہے جس سے جسمانی طاقت بڑھتی ہے۔
(ب) سوادھشٹھان چکر: یہ اعضائے تناسل کی جڑ میں مقیم ہے۔ یہ زمین سے لطیف عنصر پانی کا مقم ہے۔ اس پر دھیان کرنےسے سے یہ چکر جاگ جاتا ہے جس سے غرور، لالچ ، بغض و حسد، اور غصہ وغیرہ خرابیاں ختم ہو تی ہے اور آدمی جفا کش ہوتاہے۔
(پ) منی پورک چکر: اس مقام ناف میں ہے ۔ یہ پانی سے لطیف اور طاقت اور عنصر آگ کا مقام ہے۔ اس پر دھیان کرنے سے یہ چکر جاگ جاتا ہے ۔
(ت) انا حد چکر: اس کی جگہ دل میں ہے یہ آگ سے لطیف عنصر ہوا کا مقام ہے۔ اس کے جاگ جانے سے خواہش مند مشق کرنے والے کو دنیاوی نعمتیں اور بے لوث مشق کرنے والے کویوگ سمدھی (روحانی کمال) حاصل ہو تی ہے۔
(ٹ) وشدھی چکر: اس کی جگہ غذا کی نالی سے گلے میں ہے یہ پانچواں عناصر میں سب سے لطیف عنصر آسمان کا مقام ہے اور سا پر دھیان کرنے سے یہ چکر جاگ جاتا ہے جس سے از حد سکون، لطف اور علم حاصل ہوتے ہیں۔
(ج) آگیا چکر: اس کا مقام دونوں ابروئوں کے درمیان ہے ۔ سبھی چکروں کے جاگنے سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ سب اس ایک چکر کے جاگ جانے سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح تمام چکروں سے ہوتے ہوئے آخر میں دھیان کو برہم رندھر (سبسار چکر) میں لے جاتے ہیں۔ یہاں پر مشق کرنے والے کا تعلق باہر کی دنیا سے ہٹ جاتا ہے اور ر یاضت کرنے والا اپنے اندر ہی محور ہو جات ہے۔
یوں تو حسب ضرورت الگ الگ چکروں پر دھیان لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن سب سے آسان اور پر اثر دھیان تو کثیف عنصر زمین کے مقام سے شروع کرکے بتدریج برہم رندھر (سبسار چکر) تک پہنچنا چاہئے اورپھر وہاں سے بتدریج ایک ایک کر کے واپس مول آدھار چکر پر آنا چاہئے۔
(۳) روپ استھ دھیان : اپنے اندر کی نظرسے ابروئوں کے درمیان میں دیکھنے کی مشق کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہاں پر چھوٹے چھوٹے آگ کے شعلے سے دکھائی دیتے ہیں اس کے کئی دنوں کے بعد وہاں ایک چراغ کی لو جیسی جل رہی ہوایسا دکھائی دیتا ہے ۔آہستہ آہستہ یہ حالت رہنے پر چراغوں کی مالا جیسے جل رہی ہو ایسا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد ستاروں کی مالا ایسے چمک رہی ہوتی ہے جیسے بجلی کوندھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے چاند اور سورج آسمان میں دکھائی دے رہے ہوں یا ایسا لگتا ہے کہ اپنے دونوں ہاتھو ں میں کروڑوں ذریعے چمک رہے ہوں۔
یہ سب اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے نظارے یوگ سادھنا کی ترقی کے مظہر ہیں ان سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مشق کرنے والے کا دھیان ٹھیک ہو رہا ہے۔
(۴) روپا تیت دھیان: یہ دھیان سب سے زیادہ اہم دھیان ہے۔ اس میں دھیان کرنے والا بے خودی میں یکسو ہو کر آٹھوں پہر برہم رندھر میں دھیان کرتا ہے ۔یہ دھیان کی آخری اور سمادھی (محویت )کی پہلی حالت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں